| 80191 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
سوال:میرانام عاکف صدیقی ہے،میری والدہ کاانتقال 1995 میں ہواتھا،میرےنانا کاانتقال 2018 میں اورمیری نانی کاانتقال 2003 میں ہوا،میرےناناکےدوبیٹے اورتین بیٹیاں ہیں،اب جبکہ میرےنانا اس دنیامیں نہیں رہےتوان کےبچےان کےنام کےگھر کو (sale)کررہےہیں ۔
میراسوال یہ ہےکہ کیاہم پانچ بہن بھائیوں کواس کی وراثت میں حصہ ملےگا ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
چونکہ آپ کی والدہ کانانا اورنانی سےپہلےانتقال ہوچکاہے،اس لیےنانا اورنانی کی میراث میں آپ کی والدہ کاحصہ نہیں ہوگا۔
اسی طرح نانانانی کےانتقال کےوقت چونکہ ان کی حقیقی اولاد یعنی آپ کےماموں وغیرہ زندہ تھے،اس لیےنانا کی میراث میں آپ نواسےاورنواسیوں کابھی حصہ نہیں ہوگا۔
حوالہ جات
"الفتاوى الهندية" 51 / 332:( الباب الرابع في الحجب ) وهو نوعان : حجب نقصان وحجب حرمان ۔فحجب النقصان هو الحجب من سهم إلى سهم ، وأما حجب الحرمان فنقول : ستة لا يحجبون أصلا ، الأب والابن والزوج والأم والبنت والزوجة ومن عدا هؤلاء فالأقرب يحجب الأبعد كالابن يحجب أولاد الابن والأخ لأبوين يحجب الإخوة لأب ومن يدلي بشخص لا يرث معه إلا أولاد الأم ۔
"رد المحتار"758/6:وشروطه ثلاثة: موت مورث حقيقةً أو حكمًا كمفقود أو تقديرًا كجنين فيه غرة، ووجود وارثه عند موته حيًّا حقيقةً أو تقديرًا كالحمل، والعلم بجهل إرثه۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
02/ذیقعدہ 1444ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


