03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تصاویر والے اخبار بیچنے کا حکم
80677جائز و ناجائزامور کا بیانکھیل،گانے اور تصویر کےاحکام

سوال

کیا اخبار یعنی newspaper بیچنا جائز ہے؟ کیونکہ اس میں بہت سی تصاویر ہوتی ہیں۔ نیز یہ بھی بتائے کہ جس اخبار میں تصویر ہو اُسے بنانا یاچھاپنا کیسا ہے اور اخبار کے متعلق تمام کاموں کی کمائی حلال ہوگی یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اخبار  خریدنا اور بیچنا جائز ہے کیونکہ اخبار کا اصل مقصد حالات حاضرہ  کی خبریں پہنچانا ،ان پر تبصرہ و تجزیہ کرنا ہوتا ہے   ۔تصاویر ضمنا  اور تابع  کے طور پر ہوتی ہیں  اورایسی اشیاء جن میں تصاویر  اصل  مقصود نہ ہوں ان کی خرید وفروخت جائز ہے۔البتہ یہ بات واضح رہے کہ تصاویر بنانا بہرحال ناجائز   ہے اور تصاویر والے اخبار بنانے پر گناہ  تو ہوگا لیکن اس سے اخبار کی آمدنی حرام نہیں ہوگی۔

حوالہ جات

ماخوز از جواہر الفقہ(7/263)

شرح السير الكبير (3/ 100)

ألا ترى أن المسلمين يتبايعون بدراهم الأعاجم فيها التماثيل بالتيجان ولا يمتنع أحد عن المعاملة بذلك وإنما يكره هذا فيما يلبس أو يعبد من دون الله من الصليب ونحوها

عبدالقیوم   

         دارالافتاء جامعۃ الرشید

28/ذوالحجہ/1444            

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالقیوم بن عبداللطیف اشرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب