03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مزاق میں نکاح ہوجاتاہے یانہیں؟
80841نکاح کا بیاننکاح کے منعقد ہونے اور نہ ہونے کی صورتیں

سوال

اسلام و علیکم! امید ہے آ پ خیرت سے ہوں گے۔جب میری دوست 14 سال کی تھی تب اس کا ایک بواۓ فرینڈ تھا۔ ایک دن وہ لڑکی، اس کا بواۓ فرینڈ اور ان کے دومرد دوست آپس میں بیٹھ کر شادی اور نکاح کی بات کر رہے تھے۔آج 6 سال بعد اس لڑکی کو اس حدیث کے بارے میں پتہ چلا جس کے مطابق نکاح مذاق میں بھی ہو جاتا ہے۔ اس لڑکی کو اس بات کا یقین ہے کے اس وقت اس کے اور اس کے بواۓ فرینڈ کے درمیان ایجاب و قبول جیسا کچھ ان دونوں لڑکوں کی موجودگی میں ہوا تھا۔ لیکن اس کو اپنا اور اپنے بواۓ فرینڈ کے جواب کے بارے میں نہیں یاد کہ کیا دیا تھا نہ ہی ایجاب و قبول کے جملے یاد ہیں۔ اس بات کو کنفرم کرنے کے لیے اس لڑکی نے ان دونوں لڑکوں سے پوچھا جو اس وقت وہاں موجود تھے۔ ان دونوں نے کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہوا تھا اور نہ ہی ان کو کچھ پتہ ہے۔ اس نے پھر اپنے بواۓ فرینڈ سے پوچھا اس نے بھی کہا کہ نہیں نکاح ایسے نہیں ہوتا، نکاح کے لیے ولی اور خطبہ دونوں لازمی ہے۔ اس لڑکی نے اپنے بواۓفرینڈ سے پوچھا کہ کیا تمھیں 100 فیصد یقین ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوا تھا؟ اس نے کہا ہاں۔ لیکن لڑکی کے دل کو تسلی نہیں ہو رہی تھی تو اس نے اپنے بواۓفرینڈ سے گزارش کی کہ وہ اس کو you are divorced کا ایک میسج بھیج دے اور اس کے بواۓ فرینڈ نے بھیج دیا اور ساتھ میں یہ میسج بھی بھیجا کہ یہ میسج وہ صرف اس لڑکی کی دل کی تسلی کے لیے بھیج رہا ہے ورنہ اللہ جانتا ہے ایسا کچھ نہیں ہوا تھا۔ لیکن یہ دونوں میسج بھیجنے کے تھوڑی دیر بعد اس لڑکے نے یہ دونوں میسج ڈیلیٹ کر دیے اور اس کے بعد سے اس لڑکی کے کسی بھی میسج کا جواب نہیں دے رہا۔ اس بات کو 4 ماہ ہو چکے ہیں۔ آپ سے سوال یہ ہے کہ 1) کیا یہ نکاح ہوا بھی تھا یا نہیں؟ 2) کیا یہ طلاق مانی جاۓ گی؟ 3) کیا میسج کا ڈیلیٹ کرنا رجوع تو شمار نہیں ہوگا؟ 4) کیا لڑکی کسی اور سے شادی کر سکتی ہے؟ آپ کی بہت مہربانی ہو گی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر  دو  مسلمان عاقل بالغ مردوں  یا ایک مرد اور دو عورتوں کی موجودگی میں  مذاق میں  نکاح یعنی ایجاب و قبول کرلیاجائے اور  لڑکی کسی اور  کی منکوحہ  یا معتدہ نہ ہو تو  یہ نکاح شرعًا منعقد ہوجاتا ہے،لہذاصورت مسئولہ میں اگرآپ کی دوست کویقین یاغالب گمان ہےکہ ایجاب وقبول ہواتھا اوروہ لڑکے اس بات کواب بھول گئے ہیں  توپھرتونکاح ہوچکاہے،اگرچہ اس وقت گواہ اس کومذاق سمجھ رہے تھے،گواہان کے لئے ایجاب وقبول کے الفاظ کاسننا اورمعنی کاپتہ ہونانکاح کے لئے کافی ہے،باقی شرعی احکام سے جہالت اورناواقفیت نکاح کومنعقدہونے سے نہیں روک سکتی،نیز  اس صورت میں میسج پرطلاق لکھنے سے طلاق بھی ہوچکی ہے اوراگر آپ کی دوست کوصرف شک ہے ،یقین نہیں ہے توشک پرشرعی احکام کامدارنہیں ہوتااورنہ ہی شک کی بنیاد پرکوئی حکم لگتاہے،اس لئے اس صورت میں نکاح منعقدشمارنہیں ہوگا۔

حوالہ جات

فی سنن أبي داود (ج 1 / ص 666):

عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال " ثلاث جدهن جد وهزلهن جد النكاح والطلاق والرجعة "

فی البحر الرائق شرح كنز الدقائق (ج 7 / ص 494):

واختلف أيضا في فهم الشاهدين كلامهما فجزم في التبيين بأنه لو عقد بحضرة هنديين لم يفهما كلامهما لم يجز وصححه في الجوهرة ، وقال : في الظهيرية والظاهر أنه يشترط فهم أنه نكاح واختاره في الخانية فكان هو المذهب فالحاصل أنه يشترط سماعهما معا مع الفهم على الأصح لكن في الخلاصة إذا تزوج امرأة بالعربية ، والزوج والمرأة يحسنان العربية والشهود لا يعرفون العربية اختلف المشايخ فيه .

والأصح أنه ينعقد . فقد اختلف التصحيح في اشتراط الفهم ، وفي الخلاصة وغيرها ينعقد بحضرة السكارى إذا فهموا النكاح ، وإن لم يذكروا بعد الصحو وينبغي أن لا يشترط فهمهم على القول بعدم اشتراطه إلا أن يقال : إنه عند عدم الفهم ملحق بالجنون في حق هذا الحكم لعدم التمييز

وفی الجوهرة النيرة شرح مختصر القدوري (ج 4 / ص 64):

وهل يشترط فهم الشاهدين العقد قال في الفتاوى المعتبر السماع دون الفهم حتى لو تزوج بشهادة أعجميين جاز وقال في الظهيرية يشترط الفهم أيضا وهو الصحيح .

وفی  رد المحتار (ج 3 / ص 25):

وقال في الظهيرية: والظاهر أنه يشترط فهم أنه نكاح، واختاره في الخانية فكان هو المذهب.

لكن في الخلاصة: لو يحسنان العربية فعقدا بها والشهود لا يعرفونها اختلف المشايخ فيه، والاصح أنه ينعقد .لقد اختلف التصحيح في اشتراط الفهم .

وحمل في النهر ما في الخلاصة على القول باشتراط الحضور بلا سماع ولا فهم: أي وهو خلاف الاصح كما مر.

ووفق الرحمتي بحمل القول بالاشتراط على اشتراط فهم أنه عقد نكاح والقول بعدمه على عدم اشتراط فهم معاني الالفاظ بعد فهم أن المراد عقد النكاح.

وفی مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (ج 3 / ص 45):

ولو كان العقد في مجلسين لم يجز بالاتفاق وفيه إشارة إلى رد ما قيل ينعقد بحضرة النائمين وإن صحح فهو ضعيف والمختار عدم الانعقاد إذا لم يسمعا كلامهما كما لا ينعقد بحضرة الأصمين على الصحيح كما في أكثر المعتبرات حتى لو كان أحد الشاهدين أصم فسمع الآخر ، ثم خرج وأسمع صاحبه لم يجز ، وكذا لا ينعقد عن الأخرسين إلا إذا كانا سامعين .

وقال الإمام السعدي ينعقد؛ لأن عنده الشرط حضرة الشاهدين دون السماع وإلى أنه لا يشترط فهم المعنى كذاذكره البقالي .

وفي الخلاصة إذا تزوج امرأة بالعربية والزوج والمرأة يحسنان العربية والشهود لا يعرفون العربية الأصح أنه ينعقد ، وفي النصاب وعليه الفتوى لكن الظاهر أنه يشترط فهم الشهود أنه نكاح وكان هو المذهب كما في الذخيرة .

وفي التبيين ولو عقد بحضرة الهنديين ولم يفهما كلامهما لم يجز .

محمد اویس

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

  ۱۱/محرم الحرام۱۴۴۵ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب