| 79858.62 | نماز کا بیان | نماز کےمتفرق مسائل |
سوال
میرے دو سوال ہیں۔ایک تومیں نے یہ پوچھناہے کہ بعض اوقات گھر میں بچے کارپٹ وغیرہ پر چھوٹا پیشاب کر دیتے ہیں لیکن جب ہمیں معلوم پڑتا ہے تب تک وہ خشک ہو چکا ہوتا ہے اور ہم اسے صاف نہیں کر پاتے۔تو کیا اس صورت میں ہم اس جگہ پاک کپڑا یا چٹائی وغیرہ بچھا کر نماز پڑھ سکتے ہیں؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ بعض اوقات سفر وغیرہ میں ایسا ہوتا ہے کہ خواتین کے لیے الگ سے نماز کی جگہ نہیں مل پاتی اور نماز کا وقت بھی ختم ہو رہا ہوتا ہے۔تو کیا اس صورت میں نماز قضا کر کے بعد میں پردے والی جگہ میں ادا کرنا بہتر ہے یا یا کسی ایسی جگہ پر جہاں صرف مردوں کی نماز کا ہی انتظام ہو،وہاں نماز ادا کرنا جائز ہے،اور اگر جائز ہے تو اس کی صورت کیا ہو گی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
- اس ناپاک خشک کارپٹ پرموٹاکپڑا یا چٹائی وغیرہ بچھا کر نماز پڑھی جا سکتی ہے۔
- اوّل توسفر شروع کرنے سے پہلے ہی ایسی ترتیب بنانی چاہیے کہ نمازوں کو اپنے وقت پر ادا کرنے میں کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہ آئے۔تاہم اگر کبھی ایسی صورتِ حال پیش آجائے کہ خواتین کے لیے علیحدہ نماز پڑھنے کا انتظام نہ ہو تو ایسی صورت میں نماز قضا کرنے کی بجائے صرف مردوں کے لیے بنائی گئی نماز کی جگہ میں الگ ایک کونے میں نماز ادا کر لی جائے۔ایسے موقع پر شرم کی وجہ سے نماز نہ پڑھنا جائز نہیں۔
حوالہ جات
قال جمع من العلماء رحمھم اللہ:ولو كانت النجاسة رطبة فألقى عليها ثوبا وصلى، إن كان ثوبا يمكن أن يجعل من عرضه ثوبا كالنهالي، يجوز عند محمد ،وإن كان لا يمكن لا يجوز، إن كانت يابسة جازت إذا كان يصلح ساترا. كذا في الخلاصة.(الفتاوی الھندیۃ:1/62)
قال العلامۃ ابن نجیم رحمہ اللہ:ولو بسط بساطا رقيقا على الموضع النجس وصلى عليه إن كان البساط بحال يصلح ساترا للعورة تجوز الصلاة....... وإن كانت النجاسة يابسة جازت يعني إذا كان يصلح ساترا.(البحر الرائق:1/282)
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ:قوله:( ومكانه): فلا تمنع النجاسة في طرف البساط ولو صغيرا في الأصح، ولو كان رقيقا وبسطه على موضع نجس، إن صلح ساترا للعورة تجوز الصلاة.
(ردالمحتار:1/403)
قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ: وتمنع المرأة الشابة من كشف الوجه بين رجال لا لأنه عورة بل ؛لخوف الفتنة، كمسه وإن أمن الشهوة؛ لأنه أغلظ.(الدر المختار:1/406)
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ: قوله:( وتمنع المرأة إلخ) أي تنهى عنه وإن لم يكن عورة .قوله:( بل لخوف الفتنة)، أي الفجور بها قاموس أو الشهوة. والمعنى تمنع من الكشف لخوف أن يرى الرجال وجهها فتقع الفتنة ؛لأنه مع الكشف قد يقع النظر إليها بشهوة .قوله:( كمسه) أي كما يمنع الرجل من مس وجهها وكفها وإن أمن الشهوة إلخ.(ردالمحتار:1/406)
محمد عمربن محمد الیاس
دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی
28رجب،1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد عمر بن محمد الیاس | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


