03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عورت مجبوری میں اپنی آواز میں تشہیرکرسکتی ہے؟
80605جائز و ناجائزامور کا بیانپردے کے احکام

سوال

 کیا فرماتے ہیں علمائے کرام  اس مسئلہ کے متعلق کہ شادی کے18 سال بعد بہت مجبورہوکر طلاق لی ہے،دوبچے ہیں،عالمہ کاچارسالہ کورس کیاہواہے،جتناممکن ہوتاہے پردہ کااہتمام کرتی ہوں،والدصاحب اوربھائی خرچہ دیتے ہیں،لیکن میں سوچتی ہوں کون کب تک دے گا؟مہنگائی اوراخراجات سے آپ واقف ہیں،مجھے اپنی ضروریات کے لئے ہاتھ پھیلاناگوارانہیں،اس نیت کواللہ تعالی جانتے ہیں،اب میں آن لائن فیس بک  پرکام کرناچاہتی ہوں،جس میں اپنی پروڈکٹ فروخت کروں گی،جسم کاپردہ توممکن ہے،لیکن آوازکاپردہ ممکن نہیں،کیااس صورت حال میں کام کرسکتی ہوں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

عام حالات میں حکم یہ ہے کہ عورت اپنے گھر میں ایسے رہے کہ اسے کوئی نامحرم نہ دیکھ سکے اور نہ بلاضرورت کوئی غیرمحرم اس کی آواز سن سکے، ، لیکن اگر ایسی مجبوری ہے کہ کوئی اور ذریعہ آمدن نہیں ہے یاعارضی طورپرکسی سے مل رہاہے اوراس کے ختم ہونے کاقوی یاغالب امکان ہے،نیز اخراجات کے سلسلے میں دشواری کا سامنا  بھی ہے تو ایسی مجبوری کی حالت میں اگر فتنہ کا اندیشہ نہ ہو تو درج ذیل شرائط کی مکمل رعایت کے ساتھ عورت کے لئے چینل بنانااوراپنی آوازمیں اپنی پروڈکٹ کی تشہیرکرنے کی گنجائش ہے:

۱۔ کوشش کرے کہ جسم نظرنہ آئے،اگرکسی چیز کوہاتھ میں پکڑکردکھایاجارہاہے تودستانے وغیرہ کااستعمال کیاجائے۔

۲۔ آڈیویاوڈیومیں کوئی خلاف شرع چیزنہ ہوجیسے میوزک وغیرہ

۳۔کوشش کی جائے کہ آوزمیں کشش پیدانہ ہو۔

حوالہ جات

وفی رد المحتار (ج 1 / ص 437)

قوله: (وصوتها) معطوف على المستثنى: يعني أنه ليس بعورة ح.

قوله: (على الراجح) عبارة البحر عن الحلية أنه الاشبه.

وفي النهر: وهو الذي ينبغي اعتماده.

محمد اویس

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

    ۲۱/ذی  الحجہ۱۴۴۴ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب