| 80793 | جائز و ناجائزامور کا بیان | ناخن ،مونچھیں اور ،سر کے بال کاٹنے وغیرہ کا بیان |
سوال
دارالافتاء ڈاٹ کام نام سے ایک ایپ پلے اسٹور پر دستیاب ہے، اس میں جامعۃ الرشید کا ایک فتوی ہے (فتوی نمبر: 75367)جو سوال میں درج ہے، دیگر دارالافتاء کے بر خلاف جواب سمجھ آرہا ہے، یہ بندہ کی کم فہمی ہے ، جواب اور حوالہ جات میں مطابقت سمجھ نہیں آرہی، از راہ کرم فتوی کی تائید اور بندہ کی تشفی فرمائیں۔ جزاک اللہ خیرا
نقلی بال لگوانا
سوال: کوئی شخص ایسے بال لگائے جو مستقل نہ ہوں یعنی کہ ہٹانے سے ہٹ جاتے ہوں اور غسل کیلئے ایسےبالوں کو ہٹاتا ہو تو ایسے بال لگانا جائز ہے یا نہیں؟ وضاحت فرمادیں!
جواب: عموما نقلی بال جن کا استعمال لوگوں کے درمیان رائج ہے دو طرح کے ہوتے ہیں:
1: ایسے مصنوعی بال جو مختلف اجزاء ترکیبی کو ملا کر بنائے جاتے ہیں،ان کا استعمال تب جائز ہے جب ان میں استعمال ہونے والے اجزاء حلال ہوں۔
2: فطری بال جو انسانوں یا حیوانات سے لئےجاتے ہیں، ان کا حکم یہ ہے کہ اگر یہ انسان اور خنزیر کے نہ ہوں تو ان کا استعمال جائز ہے اور اگر یہ بال انسان یا خنزیر کے ہیں تو ان کا استعمال شرعا جائز نہیں ہے ۔ لہذا صورت مسؤلہ میں عارضی طور پر استعمال میں لائے جانے والے بال اگر مصنوعی ہیں یا انسان اور خنزیر کے علاوہ جانوروں کے ہیں تو اس صورت میں ان کا استعمال جائز ہے ، البتہ غسل اور مسح کے وقت ان کا ہٹانا لازمی ہے ۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 372)
وفي اختيار ووصل الشعر بشعر الآدمي حرام سواء كان شعرها أو شعر غيرها لقوله - صلى الله عليه وسلم - «لعن الله الواصلة والمستوصلة والواشمة والمستوشمة والواشرة والمستوشرة والنامصة والمتنمصة» النامصة التي تنتف الشعر من الوجه والمتنمصة التي يفعل بها ذلك وفی حاشیتہ: (قوله سواء كان شعرها أو شعر غيرها) لما فيه من التزوير كما يظهر مما يأتي وفي شعر غيرها انتفاع بجزء الآدمي أيضا: لكن في التتارخانية، وإذا وصلت المرأة شعر غيرها بشعرها فهو مكروه، وإنما الرخصة في غير شعر بني آدم تتخذه المرأة لتزيد في قرونها، وهو مروي عن أبي يوسف، وفي الخانية ولا بأس للمرأة أن تجعل في قرونها وذوائبها شيئا من الوبر (قوله «لعن الله الواصلة» إلخ) الواصلة: التي تصل الشعر بشعر الغير والتي يوصل شعرها بشعر آخر زورا والمستوصلة: التي يوصل لها ذلك بطلبها۔ البناية شرح الهداية (8/ 381) ولا يقال شعر الخنزير ينتفع به للخرز ولا يجوز بيعه، لأنا نقول: إن الخنزير محرم العين شرعا، لا يباح إمساكه لمنفعة بوجه، فيثبت الحرمة في كل جزء منه وسقطت القيمة، ثم الإباحة لضرورة الخرز لا يدل على رفع الحرمة عن أصله فيما عدا الضرورة كإباحة لحمه حال الضرورة لا يدل على صحة أكله وجواز بيعه، فأما الكلب فما ثبت فيه تحريم مطلق وإباحة للضرورة فيبقى ما وراءها على التحريم، كذا في " الأسرار ".
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اس جواب اورمتعلقہ عبارات میں مطابقت نہ ہونے کی بات ہمیں سمجھ نہیں آرہی،لہذا آپ اپنی بات کی مزید وضاحت فرمادیں کہ سؤال کاکونساجزءعبارات کےکس طرح خلاف ہےیایہ جواب کس دارالافتاء کے جواب کےخلاف ہےاوروہ مصدقہ جواب بھی ارسال کریں،اس کےبعدہی آپ کی بات کاجواب دیا جاسکتاہے،البتہ جواب کا پہلا جزء دیگر کلیات اور عمومی ضابطوں اور طہارت کے باب سے متعلق فقہی جزئیات پر مبنی ہے۔
حوالہ جات
۔۔۔۔۔۔۔
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۷محرم۱۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


