| 80664 | نماز کا بیان | اوقاتِ نمازکا بیان |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارےمیں کہ
کیا یہ بات درست ہے کے حنفیہ رحمھم اللہ کے نزدیک سفر یا مرض میں دو ایسے موقع ہیں جب نمازوں میں جمع حقیقی کی گنجائش ہے- پہلا یہ کہ مثلِ اوّل اور مثلِ ثانی کے درمیان کے وقت میں ظہر اور عصر دونوں ادا کی جا سکتی ہیں اور دوسرا یہ کہ شفقِ احمر اور ابیض کے درمیان میں مغرب اور عشاء دونوں ملا کے ادا کی جا سکتی ہیں؟ اس بات کی کتنی حقیقت ہے اور عوام کے لیے اس میں کتنی گنجائش ہے؟یہ بات میں نے مفتی تقی عثمانی صاحت دامت برکاتھم العالیة سے سنی ہے کہ وہ ما بین المثلین اور ما بین الشفقین میں جمع حقیقی کرتے ہیں ، لیکن اس بات کا مجھے علم نہیں کہ عوام کے لیے بھی یہ درست ہے یا نہیں؟ کیونکہ میرے خیال سے جب وہ یہ فرما رہے تھے تو وہ علماء سے خطاب کر رہے تھے، ان کی یہ بات میں نے آپ کو وائس ریکارڈنگ میں بھیج دی ہے –
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
احتیاط تو اس میں ہے کہ مریض اورمسافر کواگر حرج نہ ہوتو وہ بھی ظہرمثلِ اول ہونے سے پہلے اورعصر مثل ثانی کے بعد پڑھیں اورمغرب شفق احمرکے غروب سے پہلے اورعشاء شفق ابیض کے غروب کے بعد پڑھیں،دونوں کو جمع نہ کریں جیسے کہ اصلی فقہ حنفی کا مسئلہ ہے، تاہم اگران کو اس میں حرج معلوم ہوتو پھرمثل ثانی میں ظہر اور عصر اورشفق ثانی یعنی شفقِ ابیض کے وقت میں مغرب اورعشاء وہ پڑھ سکتےہیں اورتقریباً یہی بات ہمارے ہاں سے جاری ہونے نقشہ اوقات کی ہدایات میں بھی درج کی جاتی ہے،اوردارالافتاء دارالعلوم کراچی کے بعض فتاوی میں بھی مریض اورمسافرکے لیے عصرمثل اول کےبعد اورعشاء شفق احمر کے بعد پڑھنے کی گنجائش دی گئی ہے،اس میں عوام اورخواص کافرق نہیں ہے۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 359)
(قوله: وعليه عمل الناس اليوم) أي في كثير من البلاد، والأحسن ما في السراج عن شيخ الإسلام أن الاحتياط أن لا يؤخر الظهر إلى المثل، وأن لا يصلي العصر حتى يبلغ المثلين ليكون مؤديا للصلاتين في وقتهما بالإجماع.
الدر المختار (1/ 361)
(و) وقت (المغرب منه إلى) غروب (الشفق وهو الحمرة) عندهما، وبه قالت الثلاثة وإليه رجع الإمام كما
في شروح المجمع وغيرها، فكان هو المذهب.
وفی رد المحتار تحته:
(قوله: وإليه رجع الإمام) أي إلى قولهما الذي هو رواية عنه أيضا، وصرح في المجمع بأن عليها الفتوى، ورده المحقق في الفتح بأنه لا يساعده رواية ولا دراية إلخ. وقال تلميذه العلامة قاسم في تصحيح القدوري: إن رجوعه لم يثبت، لما نقله الكافة من لدن الأئمة الثلاثة إلى اليوم من حكاية القولين، ودعوى عمل عامة الصحابة بخلافه خلاف المنقول. قال في الاختيار: الشفق البياض، وهو مذهب الصديق ومعاذ بن جبل وعائشة - رضي الله عنهم -. قلت: ورواه عبد الرزاق عن أبي هريرة وعن عمر بن عبد العزيز، ولم يرو البيهقي الشفق الأحمر إلا عن ابن عمر، وتمامه فيه. وإذا تعارضت الأخبار والآثار فلا يخرج وقت المغرب بالشك كما في الهداية وغيرها. قال العلامة قاسم: فثبت أن قول الإمام هو الأصح، ومشى عليه في البحر مؤيدا له بما قدمناه عنه، من أنه لا يعدل عن قول الإمام إلا لضرورة من ضعف دليل أو تعامل بخلافه كالمزارعة، لكن تعامل الناس اليوم في عامة البلاد على قولهما، وقد أيده في النهر تبعا للنقاية والوقاية والدرر والإصلاح ودرر البحار والإمداد والمواهب وشرحه البرهان وغيرهم مصرحين بأن عليه الفتوى. وفي السراج: قولهما أوسع وقوله أحوط.
قال الشیخ سید احمد رضا البجنوری رح فی حاشیة انوار الباری:
اور حضرت شاہ صاحبرح کی تحقیق سے حنفیہ کے یہاں بھی اشتراک کا ثبوت موجود ہے لیکن اس کو جس طرح حضرترح نے نمایاں کر کے اور دلائل کے ساتھ پیش کیا ہے کسی نے نہیں کیا۔(انوار الباری ج14 ص 123)
وفی فتاوی دارالعلوم کراتشی:
"اگر کسی کے لئے مرض یا سفر کی وجہ سے عصر کو مثلِ ثانی سے مؤخر کرنا ممکن نہ ہو تو اس کے لئے صاحبین رحمہما اللہ کے قول پر عمل کرتے ہوئے مثلِ اول میں عصر پڑھنے کی گنجائش ہے"
وفیہا فی موضع آخر عن وقت العشاء:
"عام حالات میں امام ابوحنیفة رحمہ اللہ تعالی کے مذہب پر عمل ضروری ہے البتہ سفر یا دیگر غیر معمولی حالات میں صاحبین کے قول پرعمل کی بھی گنجائش ہے"
عن حَمنةَ بنتِ جَحشٍ حين استفتت النبيَّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم في استحاضتِها، فقال لها عليه الصَّلاةُ والسَّلام: ((إنْ قويتِ على أن تُؤخِّري الظهرَ وتُعجِّلي العصرَ، ثم تَغتسلِينَ حتى تطهُرين، وتُصلِّين الظهرَ والعصرَ جميعًا، ثم تُؤخِّرينَ المغربَ وتُعجِّلِينَ العِشاءَ، ثم تَغتسلِينَ وتَجْمَعِينَ بين الصَّلاتينِ، فافْعَلِي(ابوداؤد287) (والاستحاضة نوع مرض )
وفی سبل السلام - (ج 2 / ص 382)
وعن أنس رضي الله عنه قال { كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا ارتحل في سفره قبل أن تزيغ الشمس أي قبل الزوال أخر الظهر إلى وقت العصر ثم نزل فجمع بينهما فإن زاغت الشمس قبل أن يرتحل صلى الظهر } أي وحده ، ولا يضم إليه العصر ( ثم ركب .متفق عليه ) الحديث فيه دليل على جواز الجمع بين الصلاتين للمسافر تأخيرا.
وفی تحفة الأحوذي لمحمد المباركفوري - (ج 2 / ص 202)
قال العيني في عمدة القاري :قال عياض: الجمع بين الصلوات المشتركة في الأوقات تكون تارة سنة وتارة رخصة فالسنة الجمع بعرفة والمزدلفة وأما الرخصة فالجمع في السفر والمرض والمطر فمن تمسك بحديث صلاة النبي صلى الله عليه وسلم مع جبريل عليه الصلاة والسلام وقد أمه فلم ير الجمع في ذلك ومن خصه أثبت جواز الجمع في السفر بالأحاديث الواردة فيه وقاس المرض عليه فنقول إذا أبيح للمسافر الجمع بمشقة السفر فأحرى أن يباح للمريض وقد قرن الله تعالى المريض بالمسافر في الترخيص له في الفطر والتيمم.
وفیہ ٲیضا- (ج 2 / ص 201)
(ورخص بعض أهل العلم من التابعين في الجمع بين الصلاتين للمريض وبه يقول أحمد وإسحاق) وقال عطاء يجمع المريض بين المغرب والعشاء .
وفی فقة الزكاة ليوسف القرضاوي - (ج 2 / ص 186)
الشرع الإسلامي في جملة أحكامه لم يميز أقارب النبي -صلى الله عليه وسلم- على غيرهم من الناس، بل أعلن أن الناس سواسية كأسنان المشط؛ هم كذلك في الحقوق والواجبات، والمغارم والعقوبات. وقد قال عليه الصلاة والسلام (وأيم الله لو سرقت فاطمة بنت محمد لقطعت يدها) (متفق عليه)، وقال -صلى الله عليه وسلم-: (من بطأ به عمله لم يسرع به نسبه) (متفق عليه).
يقول ابن حزم في كتابه «الأحكام» : «فكل خطاب منه ﷺ لواحد فيما يفتيه ويعلمه إياه ، هو خطاب لجميع أمّته إلى يوم القيامة(الإحکام 3/365)
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
28/12/1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


