03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عدالتی خلع کا حکم
80637طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

عدالتی کاروائی کے منسلکہ کاغذات کی روشنی میں مفتیان کرام راہنمائی فرمائیں کہ طلاق واقع ہوچکی ہے یا نہیں؟ اگر واقع ہوئی ہے تو عدت عدالت کے تنسیخ نکاح کے سرٹیفیکیٹ جاری کرنےسے شروع ہوگی یا ثالثی کونسل  کے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جواب سے پہلے چند باتیں ذہن نشین کرلیں:

نکاح کو ختم کرنے کا سب سے بہتر طریقہ تو یہ ہے کہ کسی مناسب طریقے سے کوشش کرکے شوہر کو طلاق دینے پر آمادہ کیا جائے،اگر وہ بغیر عوض کے طلاق دینے پر آمادہ نہ ہو تو پھر کسی عوض مثلا مہر وغیرہ کے بدلے اس سے خلع لینے کی کوشش کرلی جائے،اگرچہ شوہر کے قصوروار ہونے کی صورت میں اس کے لئے طلاق کے بدلے کوئی عوض لینا جائز نہیں،پھر اگر شوہر نہ طلاق دینے پر آمادہ ہو اور نہ خلع پراور نہ ہی بیوی کو ساتھ رکھ کر مارپیٹ، ستم و زیادتی اور تشدد سے باز آنے کے لیے تیار ہو، تو ایسے میں ظلم و تشدد کی بنیاد پر فسخ نکاح کا مقدمہ دائر کرنا جائز ہے، لیکن ایسی صورت میں یہ ضروری ہوگا کہ عدالت میں دو گواہوں سے اپنے دعوی کو ثابت کردیا جائے۔  اس طرح گواہوں کے ذریعہ اپنا دعوی ثابت کرنے کے بعد اگر قاضی یا عدالت فسخ نکاح کا فیصلہ کردے تو وہ فیصلہ نافذ ہوگا اور عدت گزارنے کے بعد آپ کی بیٹی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی لیکن اگر آپ نے گواہوں کے ذریعہ شوہر کا جرم ثابت نہیں کیا یا وہ جرم اس درجہ کا نہ ہو جس سے عدالت کو نکاح فسخ کرنے کا اختیار حاصل ہوتا ہو تو اس طرح کی عدالتی خلع کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہوگی۔

منسلکہ کاغذات کی روشنی میں مدعیہ (Plaintiff) نے کورٹ میں یہ دعوی دائر کیا ہے کہ ان کا شوہر (Defendant) انتہائی درجے کی جسمانی اذیت میں مبتلیٰ رکھتا تھا، جلتی سگریٹ سے بیوی کے مختلف اعضاء جلادئیے تھے اور گالم گلوچ کرتا تھا۔ ان اعذار کی بنیاد پر فسخ نکاح کا مقدمہ دائر کرنا جائز ہے۔ اگر مدعیہ نے خلع لیتے وقت مذکورہ بالا طریقہ کار کو اپنایا تھا، یعنی گواہوں کے ذریعے شوہر کا جرم ثابت کیا تھا، عدالت نے محض بیوی کے بیان پر فیصلہ نہیں سنایا، تو پھر عدالت کا یہی فیصلہ فسخ نکاح شمار ہوگا، جس کی وجہ سے بیوی کا نکاح ختم تصور ہوگا۔ اور اگر شوہر کے خلاف دعوی کو عدالت میں گواہوں سے ثابت نہیں کیا گیا اور عدالت نے محض بیوی کے دعوی پر خلع کی ڈگری دی ہے تو عدالت کے یک طرفہ ڈگری جاری کرنے کا کوئی اعتبار نہیں، عورت کا نکاح باقی ہے کسی جگہ نکاح نہیں کرسکتی،  البتہ اگر شوہر یہ جانتے ہوئے کہ یہ خلع کی ڈگری ہے اور دلی رضامندی سے اس پر دستخط کردے تو یہ خلع یا عدالتی ڈگری معتبر ہوگی ۔ شوہر کے دستخط کے دن سے عدت شروع ہوگی اور عدت ختم ہونے کے بعد عورت کودوسری جگہ نکاح کرنے کی اجازت ہوگی۔

عدالتی خلع یا فسخ نکاح کے معتبر ہونے کی صورت میں عدت اس دن سے شمار کی جائیگی جس دن عدالت نے فیصلہ محفوظ کرکے سنایا ہو۔ اگر فیصلے سنانے کے بعد ڈگری جاری کرنے میں کچھ دن لگے ہیں تو وہ عدت میں شمار کیے جائینگے۔

حوالہ جات

أحكام الأحوال الشخصية في الشريعة الإسلامية (ص: 165)

وأما القاضي فلا يطلق الزوجة بناء على طلبها إلا في خمس حالات: التطليق لعدم الإنفاق، والتطليق للعيب و التطليق للضرر، والتطليق لغيبة الزوج بلا عذر، والتطليق لحبسه.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 439)

الخلع (هو) لغة الإزالة، وشرعا كما في البحر (إزالة ملك النكاح المتوقفة على قبولها بلفظ الخلع أو ما في معناه).وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول.

حاشية ابن عابدين (3/ 498)

 قوله ( وإلا بانت بالتفريق ) لأنها فرقة قبل الدخول حقيقة فكانت بائنة ولها كمال المهر وعليها العدة لوجود الخلوة الصحيحة ,بحر , قوله ( من القاضي إن أبى طلاقها ) أي إن أبى الزوج لأنه وجب عليه التسريح بالإحسان حين عجز عن الإمساك بالمعروف فإذا امتنع كان ظالما فناب عنه وأضيف فعله إليه

المبسوط للسرخسي (6/ 173)

(قال): والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد.

"الدر المختار " (3/ 520):

"(ومبدأ العدة بعد الطلاق و) بعد (الموت) على الفور (وتنقضي العدة وإن جهلت) المرأة (بهما) أي بالطلاق والموت لأنها أجل فلا يشترط العلم بمضيه سواء اعترف بالطلاق، أو أنكر".

الهداية في شرح بداية المبتدي (2/ 276)

" وإبتداء العدة في الطلاق عقيب الطلاق وفي الوفاة عقيب الوفاة فإن لم تعلم بالطلاق أو الوفاة حتى مضت مدة العدة فقد انقضت عدتها " ۔

عنایت اللہ عثمانی

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

24/ذو  الحجہ/ 1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عنایت اللہ عثمانی بن زرغن شاہ

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب