03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیرون ملک جانےکےلیےایجنٹ اکاونٹ میں کچھ رقم  ڈیپازٹ کرکےپیسےلیتاہے،کیاحکم ہے؟
80673جائز و ناجائزامور کا بیانغیبت،جھوٹ اور خیانت کابیان

سوال

میں بیرون ملک جانا چاہتا ہوں اور میرا کوئی بینک اکاؤنٹ نہیں ہے ایجنٹ میرے نام کا اکاؤنٹ بنواتا ہے اور اس میں مثلاً پچاس لاکھ روپے رکھواتا ہے واضح ہو کہ میں ان پیسوں کو نکلوا نہیں سکتا اور اس کام کے بدلہ یعنی میرے اکاؤنٹ میں پیسے رکھوانے کے بدلے وہ مجھ سے مثلاً تین لاکھ روپے مانگتا ہے کیا یہ سود میں شامل ہے؟ اس کے بغیر باہر جانا ممکن بھی نہیں ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ میں اصل رقم کسی اورکی ہوتی ہے،ایجنٹ وقتی طورپراس شخص کےنام اکاؤنٹ کھول کر کچھ وقت کےلیےاس کےاکاؤنٹ میں متعین رقم ظاہرکرتاہے،جوکہ حقیقت میں اس شخص کی نہیں ہوتی،یہ صورت  دھوکہ اورجھوٹ پرمبنی ہونےکی وجہ سےناجائز ہے۔

یہ معاملہ شرعاجائزنہیں ہے،اس لیےاس پرمزیدکوئی رقم  مثلا تین لاکھ روپےلینابھی جائزنہیں ہوگا۔ایسےمعاملےسےشرعااجتناب ضروری ہوگا۔

جہاں تک مسئلہ ہےکہ اس کےبغیرباہرجانابھی ممکن نہیں،تواس کےلیےبہترمتبادل طریقہ یہ ہےکہ کسی سےقرض لےکراپنااکاؤنٹ کھلواکراس میں مطلوبہ رقم ڈیپازٹ کروادیں اورجب کام مکمل ہوجائےتووہ قرض واپس کردیاجائے،اس کےلیےکسی  اسلامی بینک سے Riba free loan بھی لیاجاسکتاہے،مختلف اسلامی بینک جوباقاعدہ مستندعلماء کےزیرنگرانی کام کررہے ہیں،ان سےمعلومات کرکےشرعی طورپران کی طرف سےمطلوبہ شرائط کوپوراکرکےاس کام کےلیے قرض   حسنہ  لیاجاسکتاہے۔

حوالہ جات

"صحيح مسلم "1 /  99:عن أبي هريرة  أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال من حمل علينا السلاح فليس منا ومن غشنا فليس منا۔

"الجامع الصحيح سنن الترمذي"3 / 258:

عن أبيه عن أبي هريرة قال لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي في الحكم قال وفي الباب عن عبد الله بن عمرو وعائشة وابن حديدة وأم سلمة قال أبو عيسى حديث أبي هريرة حديث حسن صحيح

" رد المحتار " 21 /  295 :

وفی المصباح الرشوة بالكسر ما يعطيه الشخص الحاكم وغيره ليحكم له أو يحمله على ما يريد۔                                    

"ردالمحتارعلی الدرالمختار" 20/93 کل قرض جرنفعافہوحرام ای اذاکان مشروطا۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

24/ذی الحجۃ      1444ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب