03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سسرال  والوں کی دھمکی کی وجہ سےتین طلاق کےپیپرپردستخظ کردیے
80676طلاق کے احکاممدہوشی اور جبر کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

سوال

میری شادی فروری 2021 میں ہوئی۔ اس سے پہلے بھی میری شادی ہو چکی ہے جو کہ 2018 میں ہوئی تھی ذہنی ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے وہ شادی زیادہ چل نہ سکی اور ایک سال بعد طلاق ہو گئی۔میں 2019 سے دبئی مقیم ہوں اُس کی وجہ میرے سابقہ سسرال والے ہیں۔ کیوں کے انھوں نے بیسیوں بار کہا تھاکہ اگر تم نےہماری بیٹی کے ساتھ ٹھیک رویہ نہ رکھا تو ہم تمہیں قتل کر دیں گے،جس وجہ سے میں دبئی آ گیا او ریہاں سے ہی طلاق دی۔ اُس کے بعد ہمیشہ میرے سابقہ سسرال والے یہی کہتے تھے جب پاکستان آیا ہم اسے قتل کر دیں گے اسی وجہ سے میں تین بار پاکستان گیا تو صرف کچھ قریبی لوگوں کے علاوہ کسی کو پتا بھی نہیں چلنے دیا جب دوسری شادی کی تو بھی بہت قریبی لوگ بلائے جیسا کہ بہنیں اور دو تین قریبی دوست، میں شادی کے پندرہ دن بعد واپس دبئی آگیا تھا۔ پیچھے سے میری بیوی اور میری فیملی کے بھی آپس میں تعلقات اچھے نہ تھے۔ پہلی بیوی  سے ایک بیٹا بھی ہے جس کاذکر میں نے اپنی دوسری بیوی سے نہیں کیا تھا جب ایک سال بعد اسے پتا چل تو اُس نے مجھ سے طلاق مانگنا شروع کر دی اور میرے گھر والے بھی یہی  چاہتے تھے، بجائے مسئلے کو سلجھانے کے انھوں نے طلا ق دلوانے میں ہی عافیت سمجھی ۔ اس وقت میں نے دو دفعہ طلاق کالفظ بول دیا،لیکن پھر دوسری بار بولنے کے 16 دن بعد ہم میاں بیوی نے رجوع کر لیا۔ لیکن لڑکی کی فیملی اور میری فیملی دونوں نے فورس کیا کہ تین طلاق کا اسٹام پیپر بنوایا جائے،اِس پر میں اور میری بیوی بالکل بھی راضی نہیں تھے، میرے سسرال والوں نے کہا اگر تم یہ نہیں کرو گے تو ہم تم پر 420 کا پرچہ کروا دیں گے میری سابقہ سسر اور اُن کاُ بیٹا کچہری میں ہی ہوتے ہیں، جو کہ دونوں ہی اثر ورسوخ والے ہیں،اگر مجھ  پرپرچہ ہوتا تو میری دوسری شادی کا میرے پہلے سسرال والوں کو پتا چل جاتا، جس کی وجہ سےمجھے خطرہ تھا،جیسا کہ میں اوپر ذکر کر چکا ہوں جو کہ میرا پورا خاندان جانتا ہے، مجھے سب کے سامنے قتل کی دھمکی دی تھی،جسکی وجہ سے میں دبئی بھی گیا تھا ، اس کے بعد میری فیملی نے کسی وکیل سے بات کر کے تین طلاق کا پیپر تیار کروایا جو کہ مجھے سائن کرنے کو دیا گیا ،جس کا ذکر میں نے اپنی بیوی سے کیا جو کہ اُس وقت بھی میرے ساتھ رہنے پے آمادہ تھی اور آج بھی آمادہ ہے ہم دونوں کی پیار کی شادی ہے۔ میرے والدین نے مجھے یہ کہہ کر بلیک میل کیا کہ لڑکیاں بہت مل جاتی ہیں، لیکن والدین نہیں ملتے اور سسرال والوں کی طرف سے کیس کی الگ دھمکی اور سابقہ سسرا ل والوں کی طرف سے قتل کی دھمکی اِن سب باتوں کو میں نے مدِ نظر رکھتے ہوئے میں نے بغیر پڑھے اُس پر سائن کر دیے، اُس وقت میں نے اللہ کو حاضر ناضر جان کر دستخط کیے تھے کہ یا رب میں ابھی بہت لاچار اوربے بس ہوں، کچھ اور نہیں کر سکتا کیونکہ کیس ہوتا تو دبئی بھی واپس نہیں جا سکتا تھا اور جان بھی جاتی۔میں اب اپنی بیوی کو دبئی ہی بلاؤں گا اور ہم یہاں ہی رہیں گے اور میں اب تحریری فتویٰ چاہتا ہوں، براہ کرم مہربانی فرما کر جواب دیں ،میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں یہ سب میں نے سچ بتایا ہے، اور میں اپنی قبر اور آخرت کا بھی خود ذمہ دار ہوں۔ جزاک اللہ

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ میں اگرآپ کواس بات کایقین یاغالب گمان تھاکہ اگرآپ طلاق کےپیپرپردستخظ نہیں کریں گےتوآپ کےسسرال والےآپ پر 420 کاپرچہ کردیں گےیاسابقہ سسرال والےدھمکی کی بناء پرقتل کردیں گے،اورآپ نےنہ زبان سےطلاق کےالفاظ اداکیےاورنہ دستخط کرتےوقت طلاق کی نیت تھی  توایسی صورت میں طلاق نامہ پر دستخظ کرنےسےطلاق واقع نہیں ہوئی،سابقہ نکاح(دوسرانکاح) برقرارہے۔

لیکن اگرآپ کو اس بات پریقین تھاکہ طلاق نامے پردستخظ نہ کرنےکی صورت میں ایساکچھ نہیں ہوگا،بلکہ یہ صرف زبانی کلامی دھمکی دی جارہی ہےنہ موجودہ سسرال والے420 کاپرچہ کرسکتےہیں،نہ ہی سابقہ سسرال والےجان سےمارسکتےہیں ،توایسی صورت میں طلاق نامےمیں مذکورہ طلاقیں واقع ہوجائیں گی،اورچونکہ پہلےبھی دوطلاقیں دی جاچکی ہیں،اس لیےاب طلاق مغلظہ واقع ہوکردوسری بیوی حرام ہوجائےگی،اس کےبعد بغیرحلالہ کےدوبارہ نکاح کرنابھی جائزنہ ہوگا۔

نوٹ:دوسرےنکاح کوباقی رکھنےپراگردوسرےسسرال والےبھی تیارنہیں اورنہ ہی آپ کےگھروالےتیارہیں توپھربہتریہ ہےکہ دوسری بیوی کو تین طلا ق دےکرفارغ کردیں،اوروالدین نےجیسےکہاہےکہ  لڑکیاں بہت مل جاتی ہیں،ان کی مرضی اورپسند کےمطابق کہیں اورنکاح کریں،تاکہ بعدمیں طلاق  کی نوبت نہ آئے۔مذکورہ بالا تفصیل کےمطابق اگرطلاق واقع نہیں ہوتی(جیساکہ جواب میں  پہلی  صورت ذکرکی گئی ہے)اس کےبعد پہلےیادوسرے سسرال والوں کی طرف سےدھمکی دوبارہ دیدی گئی تواس کےبعد پھروہی لڑائی جھگڑاہوگااورطلاق کی نوبت آئےگی،اس لیےاس سےاحترازکی کوشش کریں۔

طلاق کےمعاملےمیں حددرجہ  احتیاط کرنی چاہیے،حدیث میں آتاہے،حلال چیزوں میں اللہ تعالی کےنزدیک سب سےزیادہ ناپسندیدہ چیز طلاق ہے،بہت ہی مجبوری اور ناگزیرحالت میں شرعاطلاق کی اجازت دی گئی ہے ،سوال  کی تفصیل سےمعلوم ہوتاہےکہ  آپ نےطلاق کومذاق سمجھاہواہے،پہلی بیوی کو بھی لڑائی جھگڑےمیں ایک طلاق دی  ،دوسری کو بھی لڑائی جھگڑےمیں دوطلاقیں دیدی،اس کےبعدبھی آپ طلاق دیتےرہیں گےتومعاملہ کہاں جاکررکےگا؟ ،اس لیے کوشش کریں کہ آئندہ طلاق کی نوبت ہی نہ آئے۔

حوالہ جات

"رد المحتار" 10 / 458:

وفي البحر أن المراد الإكراه على التلفظ بالطلاق ، فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا كذا في الخانية ۔

"الفتاوى الهندية " 8 / 365:

رجل أكره بالضرب والحبس على أن يكتب طلاق امرأته فلانة بنت فلان بن فلان فكتب امرأته فلانة بنت فلان بن فلان طالق لا تطلق امرأته كذا في فتاوى قاضي خان ۔

"رد المحتار"25 / 76:

( وشرطه ) أربعة أمور : ( قدرة المكره على إيقاع ما هدد به سلطانا أو لصا ) أو نحوه ( و ) الثاني ( خوف المكره ) بالفتح ( إيقاعه ) أي إيقاع ما هدد به ( في الحال ) بغلبة ظنه ليصير ملجأ ( و ) الثالث : ( كون الشيء المكره به متلفا نفسا أو عضوا أو موجبا غما يعدم الرضا ) وهذا أدنى مراتبه وهو يختلف باختلاف الأشخاص فإن الأشراف يغمون بكلام خشن ، والأراذل ربما لا يغمون إلا بالضرب المبرح ابن كمال ( و ) الرابع : ( كون المكره ممتنعا عما أكره عليه قبله ) إما ( لحقه ) كبيع ماله ( أو لحق ) شخص ( آخر ) كإتلاف مال الغير ( أو لحق الشرع ) كشرب الخمر والزنا۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

24/ذی الحجۃ      1444ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب