| 80818 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
میں ایک بیوہ سے شادی کرناچاہتا ہوں جس کو اس کے شوہر نے 10-10-2022 کو یونین کونسل سےاسٹامپ پیپر پر طلاق نامہ دوئم بھیجا جس میں لکھا تھا کہ "مسماۃ زرے سلطانہ دختر عباس علی کو طلاق، طلاق، طلاق کہہ کر اور تحریر کر کے اپنی زوجیت سے الگ کرتا ہوں"۔ شوہر نے ایک ماہ بعدپھر عورت کو تیسرا طلاق نامہ بھیجا، پر عورت نے لینے سے انکار کر دیا۔اب عورت کے شوہر نے تیسرا طلاق نامہ واپس کرا لیا ہے، اور یونین کونسل سے صلح نامہ بنوالیا ہے جس کے وجہ سے یونین کونسل ولے طلاق نامہ نہیں بنا کے دے رہے، اور اب تک ان کے درمیان کوئی تعلق نہیں رہا۔
اب اس کے شوہر کا کہنا ہے کہ میں نے طلاق دو مرتبہ دی ہے، جبکہ طلاق نامہ میں صاف صاف تین بار لکھا ہے"طلاق ،طلاق،طلاق" بقول شوہر کے وکیل کے کہ طلاق نامہ میں" طلاق، طلاق، طلاق" تین مرتبہ لکھاگیا ہے لیکن قانونی طور پر ایک سمجھی جائے گی۔
- اگر شوہر کے بقول اس نے دو طلاق 10-10-2022 کو دی، اور اس کے بعد ان کے درمیان کوئی زوجیت کا تعلق نہیں رہا، آیا اب ان کے درمیان طلاق ہو چکی ہے ؟
- اب اگر دونوں میاں، بیوی بچوں کے خاطر پھر سے ایک ساتھ رہنا چاہیں تو ان کے لیے شرعاکیا حکم ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
منسلکہ اسٹامپ پیپر پر واضح طور پر تین دفعہ)طلاق، طلاق، طلاق) لکھا ہوا ہے اور اس پر شوہر(محمد نواز ولد غلام حیدر) کے دستخط نظر آرہے ہیں، لہذا اگر یہ اسٹام پیپر اصل کے مطابق ہے، اور محمد نواز ولد غلام حیدر کے کہنے پر یہ اسٹامپ پیپر تیار کیا گیا ہے، یا دستخط کرتے وقت اسے معلوم تھا کہ اس تحریر میں طلاق،طلاق ،طلاق (تین دفعہ) لکھا ہوا ہے، اس کے باوجود اس نے اپنے اختیار سے خود دستخط کئے ہیں، تو ایسی صورت میں تينوں طلاقيں واقع ہوکر ان کا نکاح ختم ہوگیا ہے، اورحرمت مغلظہ ثابت ہوچكی ہے، لہذ اب رجوع نہیں ہو سکتا۔
بچوں کی خاطر پھر سے ایک ساتھ رہنے کے لیے اس عورت کاکسی دوسرےشخص سے نکاح کرنا، اور ازدواجی تعلقات قائم کرنا ضروری ہے، پھر اگر اس دوسرے شخص کا انتقال ہوجائے یا وہ کسی وجہ سے اس عورت کو طلاق دے دے ،تو عدت گزار کر یہ عورت پہلے شوہر سے نئے مہر کے ساتھ نکاح کر کےساتھ رہ سکتی ہیں۔حلالہ شرعیہ کے بغیر ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔
حوالہ جات
صفوة التفاسير" (1/ 131):
"{فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} أي فإن طلق الرجل المرأة ثالث مرة فلا تحل له بعد ذلك حتى تتزوج غيره وتطلق منه، بعد أن يذوق عسيلتها وتذوق عسيلته كما صرح به الحديث الشريف، وفي ذلك زجر عن طلاق المرأة ثلاثا لمن له رغبة في زوجته لأن كل شخص ذو مروءة يكره أن يفترش امرأته آخر .
{فإن طلقها فلا جناح عليهمآ أن يتراجعآ إن ظنآ أن يقيما حدود َﷲ} أي إن طلقها الزوج الثاني فلا بأس أن تعود إلى زوجها الأول بعد انقضاء العدة إن كان ثمة دلائل تشير إلى الوفاق وحسن العشرة".
"البحر الرائق " (3/ 257):
"ولا حاجة إلى الاشتغال بالأدلة على رد قول من أنكر وقوع الثلاث جملة لأنه مخالف للإجماع كما حكاه في المعراج ولذا قالوا: لو حكم حاكم بأن الثلاث بفم واحد واحدة لم ينفذ حكمه؛لأنه لا يسوغ فيه الاجتهاد لأنه خلاف لا اختلاف".
محمد فرحان
دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
07/محرم الحرام/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد فرحان بن محمد سلیم | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


