| 80649 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے جدید مسائل |
سوال
سوال: سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور پیجز کے لیے پیڈ فالوورز لینا درست ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوشل میڈیا اکاؤنٹس، پیجز اور یوٹیوب چینل کے لیے پیسے ادا کر کے فالوورز لینے کا مقصد لوگوں کو یہ ظاہر کرنا ہوتا ہے اس اکاؤنٹ، پیج یا چینل کو لوگوں کی کثیر تعداد دیکھتی اور پڑھتی ہے اور لوگ اس پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ اس کے عموماً آگے دو استعمال ہوتے ہیں:
1. یہ پیج یا چینل کسی اور کو فروخت کرنا جو اسے کاروباری یا کسی اور مقصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہو۔ وہ فالوورز کی تعداد دیکھ کر خریدتا ہے۔
2. مارکیٹنگ کمپنیوں کو اشتہار لگانے پر راغب کرنا کہ ان کا اشتہار اتنے لوگوں تک پہنچے گا۔
چونکہ اس اکاؤنٹ، پیج یا چینل پر موجود فالوورز پیسے دے کر لیے گئے ہوتے ہیں اور ایسے فالوورز خریداری نہیں کرتے، نہ ہی انہیں اس اکاؤنٹ کی چیز پڑھنے اور دیکھنے سے دلچسپی ہوتی ہے، لہذا یہ کام دھوکہ دہی اور جعل سازی کے تحت آتا ہے اور شرعاً ناجائز ہے۔
حوالہ جات
"عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة من طعام، فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا، فقال: يا صاحب الطعام، ما هذا؟، قال: أصابته السماء يا رسول الله، قال: أفلا جعلته فوق الطعام حتى يراه الناس، ثم قال: من غش فليس منا."
(سنن الترمذي، 2/597، دار الغرب الاسلامی)
محمد اویس پراچہ
دار الافتاء، جامعۃ الرشید
24/ ذیقعدہ 1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس پراچہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


