| 80726 | جائز و ناجائزامور کا بیان | پردے کے احکام |
سوال
شادی سے پہلے میری اہلیہ اسکول ٹیچرتھی جو کہ شاگردوں سے پردہ نہیں کرتی تھی اور اب تک نہیں کرتی۔بےپردگی سے روکنے پر بولتی ہے کہ میرے اسٹوڈنٹس ہیں میرے بچوں جیسے ہیں،ان سے کیا پردہ۔
کیا ان اسٹوڈنٹس سے پردہ لازم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اولاً تو چاہیے کہ عورت کسی ایسے ادارے میں تعلیم کی خدمت انجام دیں جہاں مخلوط نظام نہ ہو یعنی صرف لڑکیوں کے اسکول میں ٹیچنگ کریں۔البتہ اگر اس طرح کی ملازمت میسّر نہ ہو اور گھر کے اخراجات میں بہت دقّت پیش آرہی ہواوراس کے برے اثرات بچوں کی پرورش اوردینی تربیت پربھی پڑرہے ہوں تو درج ذیل شرائط کی رعایت رکھتے ہوئے مخلوط ماحول میں بھی ٹیچنگ کرنے کی گنجائش ہے :
1:اگر شادی شدہ ہو تو شوہر کی اجازت سے تعلیم دے۔
2۔ پردے کامکمل اہتمام ہو۔(اگر شاگردوں میں بالغ یا قریب البلوغ بچے موجود ہوں تو اہلیہ کا یہ کہناپردے کے حکم سے استثناء کے لئے کافی نہیں کہ میرے بچوں جیسے ہیں)
3۔ خوشبولگاکراورمزین ہوکرنہ جائیں ۔
4۔مردوں سے بقدرضرورت بات چیت سے زائد بے تکلفی اورہنسی مزاح سے سخت اجتناب کریں ۔
حوالہ جات
فتاوى قاضيخان(1/ 217)
وإذا أرادت المرأة أن تخرج إلى مجلس العلم بغير إذن الزوج لم يكن لها ذلك فأن وقعت لها نازلة فسألت زوجها وهو عالم فأخبرها بذلك ليس لها أن تخرج بغير إذنه وأن كان الزوج جاهلاً وسأل عالماً عن ذلك فكذلك وأن امتنع الزوج عن السؤال كأن لها أن تخرج بغير إذنه لأن طلب العلم فيما يحتاج إليه فرض على كل مسلم ومسلم فيقدم على حق الزوج وأن لم يقع لها نازلة وأرادت أن تخرج على مجلس العلم لتتعلم مسائل الصلاة والوضوء فأن كأن الزوج يحفظ تلك المسائل ويذكر لها ذلك ليس لها أن تخرج بغير إذنه فأن كأن الزوج لا يحفظ المسائل فالأولى له أن يأذن لها بالخروج فأن لم يأذن فلا شيء عليه ولا يسع لها أن تخرج بغير إذنه ما لم يقع لها نازلة۔
محمدمصطفیٰ رضا
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
01/محرم/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد مصطفیٰ رضا بن رضا خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


