03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تین بیٹے اور چار بیٹوں میں وراثت کی تقسیم
80704میراث کے مسائلمناسخہ کے احکام

سوال

میرا نام حافظ وسیم احمد ولد احمد خان(مرحوم) ہے۔ ہم تین بھائی اور چار بہنیں ہیں۔ ہمارے والدین رضائے الہٰی سے انتقال فرما گئے ہیں۔والدین کی طرف سے ہمارے پاس ایک گھر موجود ہے،جس کی مالیت 75لاکھ روپے  ہے۔ اس گھر میں ہم تین بھائی قیام پذیر ہیں، ہماری بہنیں شادی شدہ ہیں اور اپنے گھروں میں علیحدہ رہتی ہیں۔ ہم تین بھائیوں میں سے میں (حافظ وسیم احمد) اپنی  بہنوں کو حصہ دینا چاہتا ہوں ۔ میرے دونوں بھائی اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ وہ بہنوں کو حصہ دے سکیں ۔ برائے مہربانی فتوی عنایت فرما دیں کہ میں بہنوں کو کتنی رقم ان کا حصہ دوں۔

           وضاحت: سائل نے بتایا کہ والد صاحب کا انتقال 5سال پہلے ہوا، اس وقت والدہ حیات تھیں اور تین سال قبل والدہ کا بھی انتقال ہوگیا تھا۔ سائل کےدادا،دادی اور نانا، نانی کا انتقال بہت عرصہ پہلے ہوچکا تھا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسؤلہ میں والد مرحوم نے  بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ(بشمول مذکورہ 75لاکھ روپے مالیت کا گھر) چھوٹا بڑا جوساز وسامان چھوڑاہےاور مرحوم کا  وہ قرض جو کسی کے ذمہ  واجب الاداء  ہو، يہ  سب مرحوم کا ترکہ ہے۔اس میں  سے پہلےمرحوم کا  وہ قرض  ادا کیا جائے  جس کی ادئیگی مرحوم کے ذمہ  واجب ہو۔ اس کے بعد اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ  میں سے ایک تہائی(1/3) کی حد  تک اس پر عمل کیا جائے۔

اس کے بعد جو ترکہ باقی بچے اس کو کل 80حصوں میں تقسیم کر کے ہر ہر بیٹے کو 16حصے اور ہر ہر بیٹی کو 8حصے دیے جائیں۔جس کی تفصیل درج ذیل ہے:

:1سب سے پہلے والدمرحوم کے ترکہ میں موجود جائیداد میں سے مندرجہ بالا تمام امور کے لیے رقم نکال کر اس کے بعد بقیہ مال کو 80حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جن میں سے 10حصے بیوی کے بقیہ 70حصوں میں سے ہر ہر بیٹے کو 14حصے اور ہر بیٹی کو 7حصے دیے جائیں۔

وارث

عددی حصہ

فیصدی حصہ

بیوی

10

12.5%

پہلا بیٹا

14

17.5%

دوسرا بیٹا

14

17.5%

تیسرا بیٹا

14

17.5%

پہلی بیٹی

7

8.75%

دوسری بیٹی

7

8.75%

تیسری بیٹی

7

8.75%

چوتھی بیٹی

7

8.75%

کل

80

100%

:2اس کے بعد مرحوم کی بیوی (سائل کی والدہ) کا انتقال ہواتو اس نے اپنے مرحوم شوہر کی وراثت میں سے ملنے والے 10حصے سمیت اپنی ملکیت میں بوقت انتقال جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ، چھوٹا بڑا جوساز وسامان چھوڑا ہےاور مرحومہ کا  وہ قرض جو کسی کے ذمہ  واجب الاداء  ہو، يہ  سب مرحومہ کا ترکہ ہے۔اس میں  سے پہلےمرحومہ کا  وہ قرض  ادا کیا جائے  جس کی ادئیگی مرحومہ کے ذمہ  واجب ہو۔ اس کے بعد اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ  میں سے ایک تہائی(1/3) کی حد  تک اس پر عمل کیا جائے ۔

اس کے بعد جو ترکہ باقی بچے اسے 10حصوں میں تقسیم کر کے مرحومہ کے ہر بیٹے کو 2حصے اور ہر بیٹی کو1حصہ دیا جائے۔

 

وارث

عددی حصہ

فیصدی حصہ

پہلا بیٹا

2

20%

دوسرا بیٹا

2

20%

تیسرا بیٹا

2

20%

پہلی بیٹی

1

10%

دوسری بیٹی

1

10%

تیسری بیٹی

1

10%

چوتھی بیٹی

1

10%

کل

10

100%

 

خلاصہ:

حاصل یہ کہ موجودہ ورثاء میں سے ہر ہر بیٹے کو دونوں میتوں کی طرف سے 16حصے اور ہر ہر بیٹی کو 8حصے دیے جائیں، جس کی تقسیم کے لیے نقشہ ملاحظہ فرمائیں:

 

وارث

عددی حصہ

فیصدی حصہ

پہلا بیٹا

16

20%

دوسرا بیٹا

16

20%

تیسرا بیٹا

16

20%

پہلی بیٹی

8

10%

دوسری بیٹی

8

10%

تیسری بیٹی

8

10%

چوتھی بیٹی

8

10%

کل

80

100%

 

تمام ورثاء کے حصوں کی تفصیلات کے بعد بہنوں کو حصہ دینے سے متعلق تفصیل یہ ہے کہ مکان کی کل قیمت 75 لاکھ میں سے تینوں بھائیوں کا حصہ 45 لاکھ  اور باقی 30 لاکھ چاروں بہنوں کاحصہ ہے۔ یہ 30 لاکھ تینوں بھائی دس دس لاکھ کے حساب سے بھی دے سکتے ہیں اور کوئی ایک بھی مکمل رقم دے سکتا ہے، البتہ جو بھائی جتنی رقم ادا کرے گا اسی تناسب سے گھر میں اس کی ملکیت ہوگی۔

حوالہ جات

{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ } [النساء: 11]

عمر فاروق

دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

۲۹ ذوالحجہ ۱۴۴۴ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عمرفاروق بن فرقان احمد آفاق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب