| 78395 | پاکی کے مسائل | حیض،نفاس اور استحاضہ کا بیان |
سوال
سارہ کو دو سال سے استحاضہ کا مرض لاحق ہے،اس سے پہلے اس کی حیض اور طہر کی جو عادت تھی وہ اس کو بالکل یاد نہیں ہے،نہ یہ یاد ہے کہ حیض کتنے دن آتا تھا،نہ یہ کہ طہر کتنے دن ہوتا تھا اور یہ بھی یاد نہیں کہ حیض مہینے کے شروع میں آتا تھا یا آخر میں۔
اب عرصہ دو سال سے اس کا استحاضہ کا خون جاری ہے،اب اس کے حیض اور طہر کے کتنے دن اور کب سے کب تک شمار ہوں گے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مستحاضہ متحیرہ یعنی جس مستحاضہ کو خون ِ استحاضہ مسلسل جاری ہے، اور اس کو اپنی سابقہ عادت ( کے ایام اور زمانہ) بھی بالکل یاد نہیں، اس کے لیے احناف کے مذہب کے مطابق اصل حکم یہ ہے کہ وہ تحری کرے یعنی خوب غور و فکر اور سوچ و بچار کرکے اپنی عادت کے ایام اور زمانہ یاد کرنے کی کوشش کرے کہ اس کی عادت کیا تھی؟ اگر غور وفکر سے کسی طرح یہ گمانِ غالب ہوجائے کہ حیض کی عادت اتنے دن تھی اور فلاں وقت سے تھا تو اس صورت میں اس گمان ِغالب کے مطابق عمل کرےگی،جس کے احکام کی تفصیل درج ذیل ہے:
1۔جن ایام کے بارے میں اسے حیض کا غالب گمان ہو ان میں نماز نہ پڑھے۔
2۔جن ایام کے بارے میں یہ گمان ہو کہ یہ حیض ختم ہونے کے ہیں ان میں ہر نماز کے ہر وقت میں غسل کرکے نماز پڑھے۔
3۔ جن ایام کے بارے میں طہر کا ظن غالب ہوجائے تو نماز کے ہر وقت کے لئے نیا وضو کرکے نماز پڑھے۔
4۔پھر جن ایام کے بارے میں حیض شروع ہونے کا خیال ہو ان میں بھی ہر نماز کے ہر وقت تازہ وضو کرکے نماز پڑھے،جب تک حیض شروع ہونے کا ظن غالب نہ ہوجائے۔
اور اگر تحری کے باوجود اس کا کسی جانب غالب گمان نہ ہو،بلکہ شک باقی رہے تو ایسی عورت نماز کے ہر وقت میں غسل کرکے نماز پڑھے،تاہم اگر کسی عورت کے اس مرض کا دورانیہ طویل ہوجائے اور علاج کے باوجود افاقہ نہ ہواور حنفی مذہب کے مطابق عمل کرنے میں اسے شدید مشقت اور حرج کا سامنا ہو تو پھر ایسی مجبوری کی صورت اس عورت کے لئے امام احمد کے مذہب کے مطابق عمل کرنے کی گنجائش ہوگی۔
جس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر حیض کے دنوں کے بارے میں کوئی رجحان ہو تو اس کے مطابق عمل کرے اور اگر کسی جانب رجحان نہ ہو تو ہر مہینے چھ یا سات دن حیض شمار کرے اور بقیہ استحاضہ۔(احسن الفتاوی10:/617،امدادالاحکام1:/370)
حوالہ جات
"الدر المختار " (1/ 286):
" ومن نسيت عادتها وتسمى المحيرة والمضلة؛ وإضلالها إما بعدد أو بمكان أو بهما، كما بسط في البحر والحاوي وحاصله أنها تتحرى، ومتى ترددت بين حيض ودخول فيه وطهر تتوضأ لكل صلاة، وإن بينهما والدخول فيه تغتسل لكل صلاة".
"المغني لابن قدامة" (1/ 233):
"مسألة: قال: (فإن كانت لها أيام أنسيتها، فإنها تقعد ستا أو سبعا في كل شهر) هذه من القسم الرابع من أقسام المستحاضة، وهي من لا عادة لها ولا تمييز وهذا القسم نوعان: أحدهما الناسية، ولها ثلاثة أحوال: أحدها، أن تكون ناسية لوقتها وعددها وهذه يسميها الفقهاء المتحيرة.
والثانية، أن تنسى عددها، وتذكر وقتها. والثالثة، أن تذكر عددها، وتنسى وقتها.
فالناسية لهما، هي التي ذكر الخرقي حكمها، وأنها تجلس في كل شهر ستة أيام أو سبعة، يكون ذلك حيضها، ثم تغتسل، وهي فيما بعد ذلك مستحاضة، تصوم وتصلي وتطوف".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
11/جمادی الاولی1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


