| 79560 | متفرق مسائل | متفرق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درج ذیل مسئلے کے بارے میں ؟
ہم سوشل میڈیا پر ایک اسلامی پیج چلاتے ہیں جس پر موقع محل کی مناسبت سے قرآن وحدیث کی تعلیمات پر مشتمل پیغامات نشر کرتے ہیں۔
ہم نئے قمری سال کی شروعات میں قمری سال کی مناسبت سے فکر آخرت، وقت کی قدر وقیمت، ادعیہ اور قمری سال کی اہمیت وضرورت وغیرہ پوسٹنگ کرتے ہیں جبکہ شمسی سال کے آغاز پر شمسی سال کی مناسبت سے بھی فکر آخرت، رجوع الی اللہ اور دعاؤں کی ترغیب وغیرہ پر مشتمل اسلامی پیغامات نشر کرتے ہیں۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ :
- کیا شمسی سال کوئی غیر اسلامی سال ہے جس کی آمد کے موقع پر لوگوں کو فکر اخرت، وقت کی قدرو قیمت، دعاؤں کا اہتمام، رجوع الی اللہ کی ترغیب نہیں دی جاسکتی؟
- بہت سے لوگوں کا یہ خیال ہے کہ شمسی سال کی موقع مناسبت سے کوئی دینی پیغام نشر نہ کیا جائے، شمسی سال کو مکمل نظر انداز کر دیا جائے، شمسی سال کی مناسبت سے پیغامات نشر کرنا شمسی سال کی تشہیر ہے ( جبکہ حقیقت یہ ہے کہ شمسی سال تو پہلے سے ہی مشتہر اور زبان زد عام ہے اور اسے مزید کسی تشہیر کی ضرورت نہیں)، اس حوالے سے تفصیلی رہنمائی کی درخواست ہے۔
نئے سال کے موقع پر پڑھی جانے والی مسنون دعا "اللهم أدخله علينا بالأمن والإيمان والسلامة والإسلام ورضوان من الرحمن وجوار من الشيطان" (المعجم الأوسط للطبراني 6241) کو صرف قمری سال کی ابتداء پر پڑھنا چاہیے یا اسے شمسی سال کے آغاز پر بھی پڑھا جاسکتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
دنیا میں سورج اور چاند کی گردش کے حساب سے دو قسم کی تقویم (کیلینڈر Calendar) رائج ہیں۔ سورج کی گردش کے لحاظ سے جو تقویم رائج ہے وہ شمسی کہلاتا ہے، جنوری، فروری اور مارچ وغیرہ مہینے اسی سن کے مہینے ہیں جبکہ چاند کی گردش کے حساب سے جو تقویم مروج ہے وہ قمری کہلاتا ہے ۔ محرم، صفر، ربیع الاول وغیرہ اس سن کے مہینے ہیں۔ ہجری تقویم قمری حساب سے ہے۔
ہجری تقویم کا آغاز جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے ہوتا ہے یعنی آنحضرت ﷺ نے مکہ مکرمہ سے جس سال مدینہ منورہ ہجرت فرمائی تھی وہاں سے ہجری سن شروع ہوتا ہے۔ ہجری نبویؐ سے اسلامی سن کے آغاز کا حکم سب سے پہلے امیر المؤمنین حضرت عمر بن الخطابؓ نے دیا تھا اور اس کے بعد سے ہماری اسلامی تاریخ اسی حساب سے چلی آرہی ہے۔
- سورج اور چاند دونوں اللہ کی مخلوق ہیں اس لیے ایک کو شرعی اور ایک کو غیر شرعی کہنا درست نہیں۔ جیسے قمری ماہ و سال سے شرعی احکام و عبادات کا تعلق ہےاسی طرح سورج سے بھی احکام کا تعلق ہے۔ البتہ فرق یہ ہے کہ دنوں اور مہینوں کا تعین چاند کے حساب سے ہوتا ہے جبکہ اوقات کا تعین سورج کے حساب سے کیا جاتا ہے۔ پانچ وقت کی نماز کے اوقات، تہجد، اشراق، اوابین، چاشت، زوال، مختلف روزوںمیں نیت اور سحر و افطار سب سورج سے متعلق ہیں اور ان سب اوقات کا تعین سورج کی گردش کے ساتھ ہے، جبکہ رمضان المبارک، عیدین، ۱۰ محرم، حج کے ایام، عدت، بلوغ اور زکوٰۃ کا سال وغیرہ سب قمری حساب سےطے کی جاتی ہیں اور ان دِنوں کا تعین چاند کے حساب سے ہوتا ہے۔
- شمسی سال کے آغاز کے موقع پر دینی پیغامات نشر کیےجاسکتےہیں۔ دعا و استغفار اور فکرِ آخرت کی طرف متوجہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
- جو دعائیں مہینہ یا سال کےاعتبار سے آئی ہیں ان کا مصداق بھی قمری سال و ماہ ہی ہیں البتہ مسنون سمجھے بغیر محض ایک عام دعا کی نیت سے شمسی ماہ و سال میں بھی پڑھی جا سکتی ہیں۔
حوالہ جات
سنن الترمذی (حدیث نمبر 151):
"حدثنا هناد , حدثنا محمد بن فضيل، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن للصلاة اولا وآخرا، وإن اول وقت صلاة الظهر حين تزول الشمس، وآخر وقتها حين يدخل وقت العصر، وإن اول وقت صلاة العصر حين يدخل وقتها، وإن آخر وقتها حين تصفر الشمس، وإن اول وقت المغرب حين تغرب الشمس، وإن آخر وقتها حين يغيب الافق، وإن اول وقت العشاء الآخرة حين يغيب الافق، وإن آخر وقتها حين ينتصف الليل، وإن اول وقت الفجر حين يطلع الفجر، وإن آخر وقتها حين تطلع الشمس ". قال: وفي الباب عن عبد الله بن عمرو."
المعجم الأوسط (6/ 221):
"6241 - حدثنا محمد بن علي الصائغ قال: نا مهدي بن جعفر الرملي قال: نا رشدين بن سعد، عن أبي عقيل زهرة بن معبد، عن جده عبد الله بن هشام قال: «كان أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، يتعلمون هذا الدعاء إذا دخلت السنة أو الشهر: اللهم أدخله علينا بالأمن، والإيمان، والسلامة، والإسلام، ورضوان من الرحمن، وجواز من الشيطان»"
المعجم الأوسط للطبراني (6/ 220):
"رواه عبد الرزاق عن معمر عن الزهري حدثنا محمد بن علي الصائغ قال نا مهدي بن جعفر الرملي قال نا رشدين بن سعد عن أبي عقيل زهرة بمعبد عن جده عبد الله بن هشام قال كان أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم يتعلمون هذا الدعاء إذا دخلت السنة أو الشهر اللهم أدخله علينا بالامن
والايمان والسلامۃ والاسلام ورضوان من الرحمن وجوار من الشيطان"
احمد الر حمٰن
دار الافتاء، جامعۃ الر شید کراچی
26/رجب/1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احمد الرحمن بن محمد مستمر خان | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


