03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زکوة میں قرض کے حساب کا طریقہ کار
80658زکوة کابیانسامان تجارت پر زکوۃ واجب ہونے کا بیان

سوال

پورے سال میں کچھ گاڑیاں بیچ دی. کچھ قسطوں پے اور کچھ قرض پر دی ہے سال کیلئے. اس کا حساب کیسے کریں گے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جس قرض کے ملنے کی امید ہو اس پر زکوة لازم ہوگی،اس وقت بھی ادائیگی کرسکتے ہیں اور رقم کے وصول ہونے تک بھی مؤخر کر سکتے ہیں،تاہم اس صورت میں رقم ملنے پر(اگر سال، دوسال گذر چکے ہوں) تو پچھلے سالوں کی زکوٰة بھی ادا کرنی ہوگی،جس کی صورت یہ ہے کہ جتنی رقم وصول ہو جائے، اولاً اس سال کی زکوٰة ادا کی جائے اور پھر بقیہ رقم میں سے سابقہ سالوں کی زکوٰة ادا کی جائے۔

حوالہ جات

تبیین الحقائق (1/255):

يشترط لوجوب الزكاة أن يكون ناميا حقيقة بالتوالد والتناسل وبالتجارات أو تقديرا بأن يتمكن من الاستنماء بكون المال في يده أو يد نائبه لما ذكرنا أن السبب هو المال النامي فلا بد منه تحقيقا أو تقديرا فإن لم يتمكن من الاستنماء فلا زكاة عليه لفقد شرطه وذلك مثل مال الضمار كالآبق والمفقود۔۔۔۔۔والدين المجحود إذا لم يكن عليه بينة ثم صارت له بعد سنين بأن أقر عند الناس، وإن كان المودع من معارفه تجب عليه زكاة الماضي إذا تذكر۔۔۔۔۔وقال الحسن بن زياد: لا تجب إذا كان الغريم فقيرا؛ لأنه لا ينتفع به، وكذا قال محمد: إذا كان مفلسا بناء على تحقق الإفلاس بالتفليس عنده وأبو يوسف معه فيه

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

27/ذی الحجہ1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب