03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نماز کے دوران ہوا خارج ہونے کےشک پیدا ہونے کاحکم
80903نماز کا بیان تکبیرات تشریق کا بیان

سوال

میرے ساتھ کچھ دنوں سے یہ مسئلہ درپیش ہے کہ مجھے نماز کے دوران پیچھے سے حرکت محسوس ہوتی ہے جیسے کہ ہوا خارج ہورہی ہے۔ میں ایسے شک کی بنیاد پر کہ پتہ نہیں ہوا خارج ہوئی ہے یا نہیں دوبارہ وضو کرکے نماز دوہراتا ہوں۔ مگر پھر سے ایسا ہی محسوس ہونے لگتا ہے۔ میں بار بار وضو کرتا ہوں اور نماز دہراتا ہوں۔ اور کبھی کبھار تو اس طرح کرتے کرتے نماز کا وقت نکل جاتا ہے۔ اور قضا کرنی پڑ جاتی ہے۔ یا اگر پڑھ بھی لوں تو دماغ پہلے والی نماز میں لگارہتا ہے کہ پتہ نہیں کہیں وضو ٹوٹ نہ گیا ہواور دوبارہ وضو کرکے پھر پڑھنے لگتا ہوں یا اگلی نماز کے ساتھ پہلے والی قضا کرکے پڑھ لیتا ہوں۔ نماز کے بعد دل مطمئن نہیں ہوتا۔ اس بار بار کے وضو کرنے اور نماز پڑھنے سے میں ذہنی تکلیف کا شکا ر ہوچکا ہوں جس کا اثر میرے بقیہ کاموں پر بھی پڑرہا ہے۔میرے لئے کیاحکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جب انسان  نماز  شروع کرتا  ہے توکبھی   شیطان دل میں  یہ وسوسہ  ڈالتا ہے  کہ  پیچھے کے راستہ سےہوا خارج ہوگئی  اور  نماز  فاسد  ہوگئی  ہے ، جو شخص ایسےشک کی بیماری   میں مبتلا ہو  اس کے لئے   شریعت کاحکم  یہ ہے  کہ  وہ  پوری کوشش  کرے کہ نماز شروع کرنے سے  لیکر آخر  تک نماز کی طرف توجہ رہے، خیالات  ادھر ادھر  نہ لے جائے ، پھر بھی اگر اس کو  کسی نماز میں  ہوا خارج ہونے کا  شک پیدا  ہوجائے، تو جب تک  ہواخارج ہونے کا یقین  یا ظن غالب  نہ  ہوتب تک نماز نہ ٹوڑے ، بلکہ نماز  کو جاری رکھے ،ہاں  اگر کسی وقت  نماز کے دوران  ہوا خارج  ہونے کا شک اس درجہ  بڑھ جائے کہ نمازی کو  یقین یا ظن غالب ہوجائے  کہ ہوا خارج  ہوچکی  ہے،  توایسے میں   اس شخص  کے ذمے لازم  ہے کہ   نیا  وضو ء کرکے دوبارہ  نماز پڑھے  ۔

وسوسہ سے  بچنے کے لئےرسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی  تعلیم پر  عمل کریں  کہ نماز  سے  فارغ ہوکر   اعوذ  باللہ  من  الشیطان الرجیم   پڑھ کر  سینے پر  بائیں  طرف  تین  مرتبہ  تھتکار دیں   تو ان شا ء اللہ  تعالی   وسوسہ  کی بیماری  ختم ہوجائے گی ۔

حوالہ جات

مشكاة المصابيح للتبريزي (1/ 17)

1۔عن عثمان بن أبي العاص أتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : " يا رسول الله إن الشيطان قد حال بيني وبين صلاتي وقراءتي يلبسها علي فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم ذاك شيطان يقال له خنزب فإذا أحسسته فتعوذ بالله منه واتفل على يسارك ثلاثا قال ففعلت ذلك فأذهبه الله عني " . رواه مسلم

2۔وعن القاسم بن محمد أن رجلا سأله فقال : " إني أهم في صلاتي فيكثر ذلك علي فقال القاسم بن محمد امض في صلاتك فإنه لن يذهب عنك حتى تنصرف وأنت تقول ما أتممت صلاتي " . رواه مالك

احسان اللہ شائق عفا اللہ عنہ    

       دارالافتاء جامعة الرشید     کراچی

١۴محرم الحرام  ١۴۴۵ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

احسان اللہ شائق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب