03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ورثاء کی اجازت سے کیے گئےخرچ کا حکم
81132میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

والد صاحب کا گھر انکی وفات کے بعد ابھی تقسیم نہیں کرنا، سب ورثا  نے با ہمی رضا مندی سے فیصلہ کیا ہے۔ لیکن کچھ قانونی کاروائی  اور ٹرانسفر وغیرہ پر رقم خرچ ہوئی ہے ۔ جبکہ گھر بھی  ابھی فروخت نہیں کرنا، تو یہ رقم  چار بیٹوں،  چار بیٹیوں اور والدہ( بیوہ) میں کیسے تقسیم کریں ؟ برابر برابر  یا  ورثاء کے حصوں کے مطابق ؟

وضاحت: قانونی کاروائی  اور ٹرانسفر  کروانے پر بڑے بھائی نے بقیہ ورثاء کو بتا کر پیسے خرچ کئے تھے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحوم نے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں  سونا،  چاندی، نقدی، جائیداد، مکانات، کاروبار، غرض جو کچھ چھوٹا، بڑا ساز و سامان چھوڑا ہے، یا اگر کسی کے ذمہ ان کا قرض تھا، تو وہ سب ان کا ترکہ یعنی میراث ہے ۔اس سے متعلق حکم یہ ہے  کہ سب سے پہلے ان کی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالے جائیں، البتہ اگر یہ اخراجات کسی نے بطورِ احسان اٹھائے ہوں تو پھر انہیں ترکہ سے نہیں نکالا جائے گا ۔اس کے بعد اگر ان  کے ذمے کسی کا قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے۔ اس کے بعد اگر انہوں  نے کسی غیر ِوارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی(1/3) ترکہ کی حد تک اس کو پورا کیا جائے۔ اس کے بعد جو بچ جائے اس کے 96 حصے کر کے درج ذیل نقشے کے مطابق ورثاء میں تقسیم کر دیا جائے۔سوال میں  جیسا کہ بتایا گیا ہے کہ گھر کے ٹرانسفر اور قانونی کاروائی پر بڑے بھائی نے بقیہ ورثاء کو بتاکر پیسے خرچ کیے ہیں، تو اب وہ ان پیسوں کا ورثاء سے ان کے حصوں کے بقدر مطالبہ کر سکتے ہیں۔ ہر وارث کے حصے میں جتنے فیصد میراث آرہی ہے، اتنے فیصد کے پیسے  وہ بڑے بھائی کو دیں گے.

ورثاء

عددی حصہ

فیصدی حصہ

زوجہ

12    حصے

12.5% (ثمن)

بیٹا 1

14 حصے

14.5833% (عصبہ بنفسہ)

بیٹا 2

14 حصے

14.5833% (عصبہ بنفسہ)

بیٹا 3

14 حصے

14.5833%(عصبہ بنفسہ)

بیٹا 4

14حصہ

14.5833%(عصبہ بنفسہ)

بیٹی   1

7 حصے

7.2916% (عصبہ بغیرہ)

بیٹی   2

7 حصے

7.2916% (عصبہ بغیرہ)

بیٹی   3

7 حصے

7.2916% (عصبہ بغیرہ)

بیٹی   4

7 حصے

7.2916%(عصبہ بغیرہ)

کل

96  حصے

100 %

 

حوالہ جات

{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْن} [النساء: 11]

{فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم} [النساء: 12]

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (3/ 26):

"(المادة 1073) - (تقسيم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابهم بنسبة حصصهم."

محمد فرحان

دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

09/صفر الخیر/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد فرحان بن محمد سلیم

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب