03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ای بی ایل پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کا حکم (EBL Pakistan میں سرمایہ کاری کا حکم)
80995اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے جدید مسائل

سوال

ای بی ایل پاکستان(EBL Pakistan) یہ ایک پاکستان کی کمپنی ہے اور FBR سے بھی رجسٹرڈ ہے۔کمپنی (2016) میںlaunchہوئی تھی ، ابھی کمپنی کو کام کرتے ہوئے6سال ہو چکے ہیں۔

سرمایہ کاری: اس میں جوائننگ فیس   850روپے ہےاور لائف ٹائم کےلیے آپ پیسےکما سکتےہیں۔

Withdraw: سیلری ڈائریکٹ آپ کے easypaisaاورjazzcash اکاؤنٹ میں روزانہ(بھیج)ٹرانسفر کر دیا جاتاہے۔

Work: اس میں مکمل کام نیٹ ورک مارکیٹنگ (Network Marketing) کا ہے۔ جسکامطلب یہ ہے کہ اس میں آپ 2 ممبرز کو joinکراکےاپنی ٹیم بنا کربہت زیادہ ارننگ کر سکتے ہیں ۔اس میں Direct ریفرل بنانے پر 300 روپے  بونس ملتا ہے۔ اور Indirect ریفرل کا 200 روپے  کا بونس ملتا ہے، لائف ٹائم کے لیے۔آپ اگرکام نہ بھی کریں آپ کے Indirect ممبرز کام کرتے رہیں گے،تو آپ کو ارننگ آتی رہے گی، لائف ٹائم کے لیے۔

نوٹ۱: سب سے پہلی بات یہ سسٹم investment base پر نہیں ہے، مطلب اس میں investment نہیں ہوتی۔ یہ سسٹم Products کی base پر ہے ۔ اس سسٹم کو جوائن کرنے کے لیے آپ کا اکاؤنٹ بنے گا جس کی joining فیس 850ہے۔ ان پیسوں سے آپ کو ایک کارڈ جاری کیا جائے گا جس سے ایک سال میں کوئی بھی پروڈکٹ 30% ڈسکاؤنٹ کے ساتھ حاصل کرسکتے ہیں۔

نوٹ۲: اکاؤنٹ بنانے کے بعد آپ اپنی ٹیم بنائیں گے وہ بھی صرف 2 ممبرز کی ۔تیسرے ممبر کو آپ اپنے اکاؤنٹ ( Gmail I'd)کے ساتھ جوائن نہیں کروا سکتے لیکن اپنی ٹیم میں سے کسی ممبر کی ہیلپ کر سکتے ہیں۔

نوٹ۳: جب آپ 2 ممبرز کی ٹیم بنا لیں گے (اگلے دو pairبھی مکمل ہوں)تو کمپنی آپ کے jazzcash یا easypaisa اکاؤنٹ میں payment ٹرانسفر کر دے گی ۔

نوٹ۴: آپ کی ٹیم مطلب آپ نے جو 2 ممبرز بنائے تھے ، وہ دونوں ممبرز آگے مزید اپنے اپنے 2 ممبرز بنائیں گے،جس کا کمپنی آپ کو 400 آپ کے jazzcash یا easypaisa اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر دے گی ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق "ای بی ایل پاکستان" نامی کمپنی نیٹ ورک مارکیٹنگ/ ملٹی لیول مارکیٹنگ کی کمپنی ہے، اور اس کے ساتھ کام کرنا جائز نہیں، جس کی وجوہات مندرجہ ذیل ہیں:

-1ہر نئے آنے والے ممبر سے رجسٹریشن کے نام پر جو آٹھ سو پچاس (508) روپے لیے جاتے ہیں، وہ صرف اس وجہ سے لیے جاتے ہیں کہ اسے مارکیٹنگ کا موقع دیا جائے گا، یعنی اس کے ساتھ "سمسرہ" کا عقد کیا جائے گا، اور محض عقد کرنے کی وجہ سے کچھ لینا شرعا "رشوت" میں داخل ہے، جو کہ حرام اور ناجائز ہے۔

-2ہر نیا آنے والا ممبر آٹھ سو پچاس (508) روپے اس امید پر دیتا ہے کہ وہ اور ممبر لاکر بہت سارا روپیہ حاصل کر لے گا۔ پھر ممکن ہے کہ وہ اور ممبر لاکر بہت سارا روپیہ کمالے، اور ممکن ہے وہ اور کوئی ممبر نہ لاسکے اور اس کے اپنے آٹھ سو پچاس (508) روپے بھی ڈوب جائیں۔ اور اپنا مال اس طرح داؤ پر لگانا شرعا "قمار" یعنی جوا ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے۔

-3جب کوئی ممبر دو ممبر (لفٹ اور رائٹ) لائے تو اس کے بعد اگر وہ کام نہ کرے تب بھی ان دونوں ممبران کے ذریعے آنے والے ممبران اور پھر آگے ان کے ذریعے آنے والے ممبران کے آنے پر اس کو کمیشن میں حصہ ملتا رہے گا، حالانکہ اس میں اس کی کوئی محنت شامل نہیں ہوتی۔ اور خود کام کیے بغیر دوسروں کی محنت کی کمائی میں حصہ دار بننا درست نہیں۔(مأخذہ التبویب؛ 78758)

-4مزید یہ کہ یہ بات بھی واضح رہے کہ ملٹی لیول مارکیٹنگ(MLM) کمپنیز ایکٹ2017 سیکشن 301 کی وضاحت کے مطابق غیر قانونی ہے، لہٰذا اس طرح کی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرنا شرعا نا جائز ہے۔

-5اکتوبر 2022میں ایف بی آر نے ایک فہرست جاری کی تھی جن میں ان کمپنیوں کاذکر تھا جو ایس ای سی پی سے رجسٹرڈ نہیں ہیں اور اپنے آپ کو رجسٹرڈ بتاتی ہیں، عوام کو دھوکا دینے کی غرض سے، ان میں ای بی ایل کا بھی ذکر ہے، لہٰذا اس کمپنی میں سرمایہ کاری کرنا شرعاً اور قانوناً درست نہیں اور اس سے اجتناب لازم ہے۔

حوالہ جات

فقه البیوع (2/815-812):

:358البیع عن طریق شبکة التسویق (Marketing    Network):

وقد جری عمل بعض الشرکات علی أنها تبیع منتجًا من منتجاتها، مع إعطاء الحق للمشتري أن یسوق ذلك المنتج، ویلتمس له مشترین آخرین. فلو فعل ذلك ونجح في الحصول علی عدد من المشترین، بشروطٍ یعینها نظام الشرکة، فإنه یفوز بمبلغ أو شیئٍ ثمین من قبل الشرکة. وکذلك المشترون الجُدَدُ الذین اشتروا هذا المنتج بوساطة المشتری الأول یحق لهم أن یلتمسوا مشترین آخرین، فإن نجحوا في إیجاد عدد معین من المشترین بالشروط المعینة في النظام، فإنهم یستحقون ذلك المبلغ أو الشیئ الثمین أیضًا. وإن بلغ المشترون عن طریق هذه الشبکة عددًا معینًا، فلا یزال المشتري الأول یحصل علی مبالغ أو أشیاء معینة في النظام عند دخول المشترین الجُدَدِ بشروط معینة، وإن کان قد عمل في الحصول علی المشترین لأول مرة فقط.

وإن هذا الطریق بدأته بعض الشرکات في البلاد الغربیة، ثم اختارته بعض الشرکات في البلاد الإسلامیة أیضًا. وقد تسمی "نظام شبکة التسویق" (Marketing     Network      System) أو "نظام عدة مستویات للتسویق" (Multi- Level      Marketing System )، وقد یخفف، فیقال:.MLM وقد جری العمل به بطرق وشروط مختلفة، ولکن القدر المشترك في جمیعها أن بیع المنتَج مصحوب بنظام للتسویق یدخل فیه المشترون، ویلتمسون مشترین آخرین، ویفوزون في بعض الحالات المشروطة في النظام بمبالغ أوأشیاء ثمینة.

وإن الغرر في مثل هذا النظام کثیر، وخاصة لأنه یعتمد عادةً علی شروط معقدة یفحش بها الغرر. والذي شهدت به التجربة أن المنتج في غالب الأحیان شیئ یسیر یباع بثمن غالٍ، وقد لایوجد له السوق، وإنما یشتریه الناس طمعًا في الحصول علی مبالغ ضخمة عن طریق شبکة التسویق. وکان بعض الناس قبل هذا النظام لایبیعون شیئًا، بل یتسلمون الأموال بدفعهم تذاکر لیس وراءها مال أومنفعة، غیر أن الذي یأخذ هذه التذکرة یدخل في الشبکة، ویلتمس آخرین لشراء التذاکر، ویفوز بمبالغ إن بلغ المشترون إلی عددٍ معین. وکان ذلك قمارًا بحتًا، ویسمی "الطریقة الأهرامیة" (Pyramid      Scheme) ومنعته قوانین أکثر البلاد؛ لأنه اغتصب أموال الناس بهذه المقامرة. فلما منعت هذه الطریقة، أدخلوا بعض المنتجات بدل التذاکر، ولکن زادوا في ثمنها، وسموها "شبکة التسویق، والمقصود نفس ما کان مقصودًا في الطریقة الأهرامیة. وإنه لم یمنع في کثیر من البلاد حتی الآن، ولکنه بهذه الطریقة ممنوع شرعًا.

رد المحتار (6/ 403):

قوله ( لأنه يصير قمارا ) لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا؛ لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه ويجوز أن يستفيد مال صاحبه، وهو حرام بالنص.

مسند أحمد - الرسالة (28/ 502):

حدثنا يزيد حدثنا المسعودي عن وائل أبي بكر عن عباية بن رفاعة بن رافع بن خديج عن جده رافع بن خديج قال: قيل: يا رسول الله! أي الكسب أطيب؟ قال: عمل الرجل بيده، وكل بيع مبرور.

عمر فاروق

دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

۲۲/محرم الحرام/۱۴۴۵ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عمرفاروق بن فرقان احمد آفاق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب