03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والد کا اپنے بچے سے ملنے کا حق
80963طلاق کے احکامبچوں کی پرورش کے مسائل

سوال

والدین میں  ایک طلاق کے بعد علیحدگی ہو چکی ہے۔ والد خود اپنے بچے کو والد ہ کے گھر چھوڑ کر آ یا تھا۔ والد عدالت کا طے کردہ خرچہ باقاعدگی سے ادا کر رہا ہے۔ عدالت نے والد کی ولا یت برقرار رکھی ہے ا ور ساتھ ہی  گھر کی ملاقات کے لئے کیس د ائر کرنے کی تجویز دی  ہے۔ فی الحال عدالت نے مہینے میں 1 گھنٹہ ملاقات طے کی ہے۔ والدہ اور اسکے گھر والوں سے متعدد مرتبہ بچے کی گھر کی ملاقات کی درخواست کی جا چکی ہے لیکن ان کی جانب سے انکار ہے۔ بچہ کی عمر ۴ سال سے زائد ہے۔ از روئے  شریعت، والد اپنے بچے  سے کس قدر گھر میں ملاقات  کا حقدار ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

میاں بیوی میں طلاق ہوجانے کے بعد باپ کو اُس کی اولاد سے ملنے سے نہیں روکا جاسکتا۔ لہذا جب بھی بچوں کا باپ بچوں سے ملنا چاہے گا تو اُسے اُن سے ملنے کی اجازت ہوگی، بچوں کو باپ سے ملنےنہ  دینا گناہ ہے۔ایک ماہ کی مدت بلاوجہ کا باپ پر ضرر ہے، اگر ہفتہ وار یا ہفتے میں کئی بار بھی باپ بچے سے ملنا چاہے تو اس کو حق ہے، یہ حق دلانا عدالت کی ذمہ داری ہے۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين  (3/ 571):

"يؤيده ما في التتارخانية: الولد متى كان عند أحد الأبوين لا يمنع الآخر عن النظر إليه وعن تعهده. ولا يخفى أن السفر أعظم مانع. (قوله: كما في جانبها) أي كما أنها إذا كان الولد عندها لها إخراجه إلى مكان يمكنه أن يبصر ولده كل يوم."

الفتاوى الهندية (1/ 543):

"الولد متى كان عند أحد الأبوين لا يمنع الآخر عن النظر إليه وعن تعاهده كذا في التتارخانية ناقلا عن الحاوي."

محمد فرحان

دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

22/محرم الحرام/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد فرحان بن محمد سلیم

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب