03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
Meal worm کیڑے کی خرید وفروخت
80889خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

آج کل ایک کیڑا جس کا نام Meal Worm ہے اسے پرندوں کی خوراک کے طور پر استعمال کیاجاتا ہے،اس کیڑے کی خرید وفروخت کی جاتی ہے اس طریقے سے کہ ایک بیٹل کیڑا ہوتا ہے وہ انڈے دیتا ہے اور اس کے انڈے سے Meal Worm نکلتاہے جو پرندوں کی خوراک کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔بیٹل کی خرید وفروخت بھی ہوتی ہے تاکہ اس کے انڈوں سے Meal Worm  حاصل کیے جائیں۔کیا ان کی خرید وفروخت جائز ہے؟ احناف کے نزدیک اس مسئلہ کا کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شریعت میں کسی بھی چیز کی خرید وفروخت کے جواز اور عدم جواز کا مدار اس کے مال متقوم (Valuable and Valid in Shariah) ہونے نہ ہونے پر ہے،جو مال شرعا متقوم ہوگا اس کی خرید وفروخت جائز ہے اور جو متقوم نہیں اس کی خرید وفروخت جائز نہیں۔ لہذا سب سے پہلے مال اور متقوم کی تعریف کا جاننا ضروری ہے۔فقہاء کرام سے مال کی تعریف کے حوالہ سے مختلف عبارات منقول ہیں،ان سب کو ملا کر اگر مشترکہ تعریف نکالی جائے تو کسی چیز کے مال بننے کے لیے اس میں دو چیزوں کا تحقق ضروری ہیں۔-1ضرورت کے وقت کے لیے اس کو ذخیرہ یعنی سٹور کیا جاسکے۔-2 وہ مرغوب فیہ چیز ہو،اس کا حاصل یہ ہے کہ اس چیز میں ایسا قابلِ قدر انتفاع ہو کہ جس کو حاصل کرنے کے لیے لوگوں کی رغبت ہو،یعنی عرف میں قابلِ قیمت (Valuable) ہو،لہذاجس چیز میں اس طرح کا انتفاع نہ ہو جس کی وجہ سے لوگ اس کی طرف رغبت رکھیں  یعنی عرف میں وہ قابلِ قیمت نہ ہوتو وہ  مال نہیں کہلائے گی۔ 

مال کے متقوم ہونے کے لیے بھی دو چیزوں کا تحقق ضروری ہیں۔-1 محرز بالفعل ہو،یعنی وہ مال عملاً کسی کے قبضہ میں ہو۔-2 اس مال میں ایسا انتفاع ہو جو شرعا جائز ہو،یعنی شریعت نے اس انتفاع کے حصول سے منع نہ کیا ہو۔کسی چیز کی مالیت عرف اور مارکیٹ کی روشنی میں طے ہوتی ہے،جبکہ تقوّم شریعت کی روشنی میں طے ہوتی ہے۔لہذا جو چیز مال ہو اور متقوم بھی ہو اس کا بیچنا جائز ہے،اس کے برعکس اگر کوئی چیز سرے سے مال ہی نہ ہو،یا عرف کی نظر میں مال تو ہو لیکن شریعت میں اس کا کوئی بھی ممکنہ جائز استعمال نہ ہو،جیسے شراب،خنزیر وغیرہ تو اس چیز کی خرید وفروخت شرعا ممنوع ہے۔

درج بالا تعریفات کی رو سے اگر Meal worm کیڑے کو پرکھا جائے تو اس میں مال متقوم بننے کی صلاحیت موجود ہے،کیونکہ ایک تو وہ ممکن الاحراز ہے یعنی اس پر حسی قبضہ ہوسکتا ہے،دوسرا وہ عرف میں مرغوب فیہ یعنی قابلِ قیمت چیز ہے،کیونکہ آجکل Meal worm کیڑے کی باقاعدہ اہتمام کے ساتھ افزائش نسل(Breeding) ہوتی ہے،اس کی دیکھ بال کی جاتی ہے اور پرندوں،مچلھیوں وغیرہ کی خوراک کے  لیے مارکیٹ میں مہنگے داموں  اس کی خرید وفروخت ہوتی ہے۔نیز کیڑوں کا جائز انتفاع شرعا موجود ہے،کیونکہ کیڑے پاک ہیں،اس میں بہنے والا خون نہیں ہوتا،اس کا خارجی استعمال شرعا جائز ہے،نیز ایسی چیز جو خالص نجس نہ ہو جانوروں کو کھلایا جاسکتا ہے،لہذا جب میل وارم کیڑوں کا مباح انتفاع موجود ہے تو یہ مال متقوم ہے،اور مال متقوم کی خرید وفروخت شرعا جائز ہے،فقہاء کرام نے بعض کیڑوں کی خرید وفروخت کو  مباح الانتفاع ہونے کی بنا پر جائز قرار دیا ہے،جیسے  دودة القرمز (ایک قسم کا کیڑاجو رنگائی کے کام آتا ہے) کی بیع کو مباح الانتفاع ہونے کی وجہ سے جائز قرار دیا ہے،اسی طرح ریشمی کیڑے کی بیع کو بھی انتفاع کی بنا پر جائز قرار دیا ہے،لہذا جب میل وارم کیڑے  میں جائز انتفاع موجود ہے تو اس کی خرید وفروخت اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی شرعا جائز ہے۔

حوالہ جات

(رد المحتار : ج:7، ص:8 ،الناشر:دار المعرفة،بیروت )

"المراد بالمال ما يميل إليه الطبع، ويمكن ادخاره لوقت الحاجة ، والمالية تثبت بتمول الناس كافة،أو بعضهم ، والتقوم يثبت بها ،وبإباحة الانتفاع به شرعا ؛ فما يباح بلا تمول لا يكون مالا كحبة حنطة، وما يتمول بلا إباحة انتفاع لا يكون متقوما كالخمر ، وإذا عدم الأمران لم يثبت واحد منهما كالدم، بحر ملخصا عن الكشف الكبير ."

(الفقه الإسلامي وأدلته :ج: 4  ص :398)

المبحث الأول : تعريف المال وإرثه :

تعريف المال ـ: المال في اللغة: كل مايقتنى،ويحوزه الإنسان بالفعل ،سواء أكان عيناً أم منفعة، كذهب ،أو فضة، أو حيوان ،أو نبات ،أو منافع الشيء كالركوب واللبس والسكنى.....

وأما في اصطلاح الفقهاء ففي تحديد معناه رأيان:

أولاً ـ عند الحنفية: المال: هو كل ما يمكن حيازته وإحرازه ،وينتفع به عادة، أي أن المالية تتطلب توفر عنصرين:

1 - إمكان الحيازة والإحراز: فلا يعد مالاً: ما لايمكن حيازته كالأمور المعنوية مثل العلم، والصحة، والشرف ،والذكاء، وما لا يمكن السيطرة عليه كالهواء الطلق، وحرارة الشمس ،وضوء القمر.

2 - إمكان الانتفاع به عادة: فكل ما لا يمكن الانتفاع به أصلاً كلحم الميتة، والطعام المسموم، أو الفاسد، أو ينتفع به انتفاعاً لا يعتد به عادة عند الناس كحبة قمح ،أو قطرة ماء، أو حفنة تراب، لا يعد مالاً، لأنه لا ينتفع به وحده."

(الفقه الإسلامي وأدلته :ج :4 / ص :402 )

المال المتقوم: كل ما كان محرزاً بالفعل، وأباح الشرع الانتفاع به كأنواع العقارات والمنقولات والمطعومات ونحوها.

وغير المتقوم: ما لم يحرز بالفعل، أو ما لا يباح الانتفاع به شرعاً إلا في حالة الاضطرار."

(الدر المختار مع رد المحتار : ج:7، ص:259،260 ،الناشر:دار المعرفة،بیروت )

"(ويباع دود القز) أي الابريسم (وبيضه) أي بزره، وهو بزر الفيلق الذي فيه الدود (والنحل) المحرز، وهو دود العسل، وهذا عند محمد، وبه قالت الثلاثة، وبه يفتى عيني وابن ملك وخلاصة وغيرها.وجوز أبو الليث بيع العلق،وبه يفتى للحاجة. مجتبى (بخلاف غيرهما من الهوام) فلا يجوز اتفاقا كحيات وضب وما في بحر كسرطان، إلا السمك وما جاز الانتفاع بجلده أو عظمه.والحاصل أن جواز البيع يدور مع حل الانتفاع.

( قوله المحرز ) قال في البحر : وهو معنى ما في الذخيرة إذا كان مجموعا ؛ لأنه حيوان منتفع به حقيقة وشرعا فيجوز بيعه وإن كان لا يؤكل كالبغل والحمار.

(قولہ بیع  العلق ) في المصباح : العلق شيء أسود، شبيه الدود يكون في الماء، يعلق بأفواه الإبل عند الشرب ( قوله وبه يفتى للحاجة ) في البحر عن الذخيرة إذا اشترى العلق الذي يقال له بالفارسية " مرعل " يجوز ، وبه أخذ الصدر الشهيد لحاجة الناس إليه لتمول الناس له ا هـ .

أقول : العلق في زماننا يحتاج إليه للتداوي بمصه الدم ، وحيث كان متمولا لمجرد ذلك دل على جواز بيع دودة القرمز، فإن تمولها الآن أعظم إذ هي من أعز الأموال...( قوله فلا يجوز ) وبيعها باطل ذكره قاضي خان ط ( قوله كحيات ) في الحاوي الزاهدي : يجوز بيع الحيات إذا كان ينتفع بها للأدوية ، وما جاز الانتفاع بجلده أو عظمه أي من حيوانات البحر أو غيرها ..... ونقل السائحاني عن الهندية : ويجوز بيع سائر الحيوانات سوى الخنزير، وهو المختار ا هـ وعليه مشى في الهداية وغيرها من باب المتفرقات."

(تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق :ج: 10 / ص: 465)

"فإن بطلان البيع دائر مع حرمة الانتفاع ،وهي عدم المالية، فإن بيع السرقين جائز وهو نجس العين للانتفاع به لما ذكرنا."

(صحيح البخاري :رقم الحدیث:3379)

 "عن نافع أن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما أخبره أن الناس نزلوا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم أرض ثمود الحجر، فاستقوا من بئرها، واعتجنوا به، فأمرهم رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يهريقوا ما استقوا من بئرها ،وأن يعلفوا الإبل العجين، وأمرهم أن يستقوا من البئر التي كانت تردها الناقة."

(الفتاوى الهندية :ج :1 / ص: 339)

"في جامع الجوامع: إذا تنجس الماء القليل بوقوع النجاسة فيه إن تغيرت أوصافه لا ينتفع به من كل وجه كالبول، وإلا جاز سقي الدواب وبل الطين ،ولا يطين به المسجد .كذا في التتارخانية ."

( بہشتی زیور:اصلی طبی جوہر،نواں حصہ: ص:103)

 "سوائے خنزیر کے زندہ سب جانوروں کی بیع کسی فائدہ کے لیے درست ہے خواہ بری ہوں یا بحری... اور مردہ اُن حیوانات کی بیع درست ہے جو پاک ہیں،جیسے دریائی جانور یا حشرات غیر ذی دم...کیڑے مکوڑے اور خشکی کے جملہ وہ جانور جن میں دم سائل نہ ہو پاک ہیں جیسے اکثر حشرات الارض ...اور جملہ حشرات الارض غیر ذی دم چونکہ مرنے کے بعد بھی نجس نہیں اس واسطےان کی بیع وشراء خشک شدہ غیر خشک شدہ بھی کی بھی درست ہے اور خارجاً استعمال درست ہے۔"

                 واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

                          ابرار احمد

              دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ابراراحمد بن بہاراحمد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب