03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کی ایک صورت کا حکم
81115نکاح کا بیانولی اور کفاء ت ) برابری (کا بیان

سوال

حضرات مفتیان کرام درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں براہ کرم ان کے جوابات تحریر فرمائیں۔

ایک لڑکا اور لڑکی نے اپنے اولیاء کی اجازت کے بغیر نکاح کیا ۔ دونوں بالغ ہیں جبکہ لڑکا پٹھان اور لڑکی پنجابی خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ نکاح کی صورت یہ اختیار کی کہ لڑکی نے موبائل کے ذریعہ لڑکے کو اپنا اختیار ان الفاظ کے ساتھ دیا کہ آپ میرا نکاح اپنے ساتھ کر دیں۔ لڑکے نے چند دنوں بعد دو گواہوں کی موجودگی میں یہ الفاظ کہے کہ میں نے فلاں بنت فلاں کو اپنے نکاح میں، تم دونوں گواہوں کے سامنے قبول کیا۔ جبکہ مجلس نکاح میں دو گواہوں کے علاوہ کوئی اور موجود نہ تھا۔ اور نکاح کرتے وقت مہر مقرر نہ ہوا۔ بعد میں دونوں نے آپس کی رضامندی سے 5 ہزار مہر مقرر کر دیا۔ اب سوال یہ پوچھنا ہے کہ آیا اس طرح ان کا نکاح ہوا ہے یا نہیں۔ اور یہ صحیح ہوا ہے یا نہیں؟  اگر نہیں تو کتنا مہر دینا ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شریعت میں نکاح کےوقت لڑکے کا لڑکی کیلئے چند چیزوں میں ہم پلہ ہونا ضروری ہوتاہے، اس کو اصطلاح  میں کفاءت کہتے ہیں۔ فقہاءِ کرامؒ نے لڑکے کا لڑکی کے کفو ہونے کے لئے کئی چیزوں کا اعتبار کیا ہے: -1نسب یعنی خاندانی شرافت میں-2دینداری یعنی احکامِ شریعت کی پابندی کرنےمیں-3مال میں (یعنی لڑکا اتنا مالدار ہو کہ وہ بیوی کا مہرِ معجّل اور بیوی کانفقہ دے سکتا ہو) اور -4پیشے میں (یعنی لڑکے کا پیشہ ایسا ہو کہ عرف میں وہ لڑکی والوں کے پیشہ سے زیادہ حقیر اور کمتر نہ سمجھا جاتا ہو)۔ لڑکے کا خاندان اگر ان امور میں لڑکی کے خاندان کا ہم پلہ ہو،تو لڑکا، لڑکی کا کفؤشمار ہوتا ہے۔

ولی کی اجازت کے بغیرنکاح  کرنا شریعت اور معاشرے کی نگاہ میں انتہائی نا پسندیدہ عمل ہے،اس لیے کہ شریعت نے جہاں نکاح میں عورت کی پسند اور ناپسند کو ملحوظ رکھا ہے وہاں ساتھ راستہ بھی بتا دیا کہ تمام معاملات اولیاء کے ہاتھوں انجام پذیرہوں، اسلام نے جہاں اس بات کی اجازت دی کہ  ایک مسلمان خاتون کا نکاح بلاتمیز رنگ ونسل، عقل وشکل اور مال وجاہت ہر مسلمان کے ساتھ جائز ہے وہاں اس نے انسانی فطرت کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ پابندی بھی عائد کی ہے کہ اس عقد سے متاثر ہونے والے اہم ترین افراد کی رضامندی کے بغیر بے جوڑ نکاح نہ کیا جائے تاکہ اس عقد کے نتیجے میں تلخیوں، لڑائی جھگڑوں کا طوفان برپا نہ ہوجائے۔ اولیاء کی اجازت کے بغیر پسند کی شادی میں نکاح سے پہلے کئی حرام امورکا ارتکاب کیاجاتاہے جیسے بدنظری ، ناجائزاختلاط ،اجنبی کے ساتھ خلوت اوربعض اوقات بدکاری تک بھی نوبت پہنچ جاتی ہے، اس لیے شریعت کی نظر میں ایسانکاح  بالکل پسندیدہ نہیں ہے ،تاہم اگر کسی نے ایسی غلطی کرہی لی ہو اورلڑکا اس کے کفؤ(برابری)کا ہوتونکاح بہرحال منعقدہوجائےگا۔(مأخذہ التبویب)

اس سب تفصیل کے بعد نکاح کی صورت سے متعلق حکم یہ ہے کہ:

1. لڑکی کا لڑکے کو ٹیلی فون پر خود سے نکاح کرنے کا وکیل بنانا درست ہے، اور لڑکا جب دو گواہوں کی موجودگی میں لڑکی کی وکالت کے ذریعے اس سے نکاح کرے گا تو وہ نکاح منعقد ہو جائے گا۔ البتہ مجلس عقد میں صرف دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح کرنا(جیسا کہ سوال میں مذکور ہے) پسندیدہ نہیں، احادیث مبارکہ میں نکاح کی تشہیر کا حکم ہے لہٰذا اس طرح سے نکاح کرنے سے احتراز کرنا چاہیے۔

2. اگر لڑکا اوپر ذکر کردہ تفصیل کے مطابق لڑکی کا کفو یعنی ہم پلہ نہیں ہے تو ولی کی اجازت  نہ ہونے کی وجہ سے یہ نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا۔

3. نکاح کے وقت اگر مہر طے نہ کیا جائے اور بعد میں کوئی مقدار باہمی رضا مندی سے طے کرلی جائےتو جو مقدار بعد میں طے ہوجائے وہ مہر بن جاتی ہے۔

4. ولی کی اجازت کے بغیر کفو میں نکاح کرنے کی صورت میں عورت کا مہر، مہر مثل سے بہت کم رکھا جائے تو ولی کو اعتراض کا حق ہوتا ہے جس کی بنا پر وہ عدالت کے ذریعے نکاح فسخ بھی کروا سکتا ہے، لہٰذا بہتر یہی ہے کہ مہر مثل کی مقدار تک مہر طے کیا جائے۔

نوٹ:خاندانی مہر یعنی مہر مثل کا مطلب یہ ہے کہ عورت کے باپ کے گھرانے میں سے کوئی دوسری عورت دیکھو جو اس کے مثل ہو یعنی اگر یہ کم عمر ہے تو وہ بھی نکاح کے وقت کم عمر ہو۔ اگر یہ خوبصورت ہے تو وہ بھی خوبصورت ہو۔ اس کا نکاح کنوارے پن میں ہوا اور اس کا نکاح بھی کنوارے پن میں ہوا ہو۔ نکاح کے وقت جتنی مالدار یہ ہے اتنی ہی وہ بھی تھی۔ جس کی یہ رہنے والی ہے اسی دیس کی وہ بھی ہے۔ اگر یہ دیندار ہوشیار سلیقہ دار پڑھی لکھی ہے تو وہ بھی ایسی ہی ہو۔ غرض جس وقت اس کا نکاح ہوا ہے اس وقت ان باتوں میں وہ بھی اسی کے مثل تھی جس کا اب نکاح ہوا۔ تو جو مہر اس کا مقرر ہوا تھا وہی اس کا مہر مثل ہے۔(بہشتی زیور؛ص168-169،ط؛توصیف پبلیکیشنز)

حوالہ جات

الھداية: (197/1)

وإذا أذنت المرأة للرجل أن يزوجها من نفسه فعقد بحضرة شاهدين جاز.

الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص: 183)

(ويفتى) في غير الكفء) بعدم جوازه أصلا) وهو المختار للفتوى (لفساد الزمان)

حاشية رد المحتار (3/ 16)

وظاهره أنها لو جرت المقدمات على معينة وتميزت عند الشهود أيضا يصح العقد، وهي واقعة الفتوى، لان المقصود نفي الجهالة، وذلك حاصل بتعينها عند العاقدين والشهود وإن لم يصرح باسمها...

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 21-22)

أشار بقوله فيما مر ولا المنكوحة مجهولة إلى ما ذكره في البحر هنا بقوله: ولا بد من تمييز المنكوحة عند الشاهدين لتنتفي الجهالة...ثم قال في البحر: وإن كانت غائبة ولم يسمعوا كلامها بأن عقد لها وكيلها فإن كان الشهود يعرفونها كفى ذكر اسمها إذا علموا أنه أرادها، وإن لم يعرفوها لا بد من ذكر اسمها واسم أبيها وجدها. وجوز الخصاف النكاح مطلقا، حتى لو وكلته فقال بحضرتهما زوجت نفسي من موكلتي أو من امرأة جعلت أمرها بيدي فإنه يصح عنده. قال قاضي خان: والخصاف كان كبيرا في العلم يجوز الاقتداء به وذكر الحاكم الشهيد في المنتقى كما قال الخصاف.....وقد ذكرنا عن غيره في الغائبة إذا ذكر اسمها لا غير وهي معروفة عند الشهود وعلم الشهود أنه أراد تلك المرأة يجوز النكاح. ...

والحاصل أن الغائبة لا بد من ذكر اسمها واسم أبيها وجدها، وإن كانت معروفة عند الشهود على قول ابن الفضل، وعلى قول غيره يكفي ذكر اسمها إن كانت معروفة عندهم، وإلا فلا وبه جزم صاحب الهداية في التجنيس وقال لأن المقصود من التسمية التعريف وقد حصل وأقره في الفتح والبحر. وعلى قول الخصاف يكفي مطلقا، ولا يخفى أنه إذا كان الشهود كثيرين لا يلزم معرفة الكل بل إذا ذكر اسمها وعرفها اثنان منهم كفى والظاهر أن المراد بالمعرفة أن يعرفها أن المعقود عليها هي فلانة بنت فلان الفلاني لا معرفة شخصها، وإن ذكر الاسم غير شرط، بل المراد الاسم أو ما يعينها مما يقوم مقامه...."

الهداية شرح البداية (1/ 205)

وإن تزوجها ولم يسم لها مهرا ثم تراضيا على تسميته فهي لها إن دخل بها أو مات عنها وإن طلقها قبل الدخول بها فلها المتعة.

عمر فاروق

دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

۶/صفر الخیر/۱۴۴۵ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عمرفاروق بن فرقان احمد آفاق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب