| 81076 | نماز کا بیان | جمعہ و عیدین کے مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں ایک ڈیرہ چراغ خیل نامی بلند تھل کا ڈیرہ ہے جس کے قریب متصل آبادی ڈیرہ بتوخیل اور ڈیرہ محرم سپراء نامی مستقل ڈیرے ہیں، تینوں ڈیروں پر مساجد ہیں،البتہ ڈیرہ چراغ خیل کی مسجد بڑی مسجد ہے، تینوں ڈیروں کی آبادی میں بالغ مردوں کی تعداد تقریبا 300کے قریب ہے ،ڈیرہ چراغ خیل کی مسجد میں 384آدمیوں کی گنجائش ہے ،آبادی کی تعداد کو پورا کرنے کے لیے اس ڈیرہ چراغ خیل سے تقریبا 2کلو میٹر دور افراد کو شامل کیا گیا ہے اس بنا پر کہ ان کی زمین اس ڈیرہ چراغ خیل کے پاس ہے اور خاندان ایک ہی نام سے موسوم ہے،اس صورت میں آبادی 402بالغ افراد کو پہنچتی ہے، بنیادی ضروریات کی پانچ دکانیں ہے،تفصیل طلب امر یہ ہے کہ اس بڑی مسجد میں نماز جمعہ قائم کیا جاسکتا ہے یا نہیں ؟ اگر تین چار مرتبہ نماز جمعہ پڑھ لی تو کیا اب جاری رکھنا ضروری ہے؟
ؤ نوٹ:یہ تین الگ الگ گاؤں ہیں ،جن کی چیزیں الگ الگ شمار ہوتی ہیں۔پانچ دکانوں میں کھانے پینے کی اشیاء تو مل جاتی ہیں،مگر کپڑے وغیرہ نہیں،صحت کے مراکز نہیں،پرائمری اسکول ہے،اور مسجد میں قرآن کریم کی کلاس ہوتی ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جمعہ کے جواز کے لیے اصل تو یہ ہے کہ مصر یعنی شہر ہو،اس کے بعد قریہ کبیرہ یعنی بڑی بستی جس میں بازار ہو، میں جمعہ پڑھنے کی اجازت ہے،قریہ کبیرہ معلوم کرنے کے لیے مختلف حضرات نے ضروریات نیزگھروں اور لوگوں کے حوالے سے مختلف اندازے ذکر کیے ہیں،یہ اپنے اپنے دور میں قریہ کبیرہ کی تعیین کی صورتیں تھیں،چناچہ اس حوالے سے آجکل کے اعتبار سے قریہ کبیرہ میں بازار کے بارے میں یہ دوصورتیں ہیں:
1۔جہا ں متصل دورویہ دکانیں ہوں۔
2۔جہاں اتنی دکانیں ہوں( اگرچہ متفرق ہوں) جن سے مقامی افراد کی اکثر ضروریات زندگی سے متعلق اشیاء مل
جاتی ہوں۔
ضروریات زندگی میں تین چیزیں اہم ہیں:
1۔کھانے، پینے اور پہننے کی اشیاء موجود ہوں۔
2۔دینی وعصری تعلیم کے مراکزہوں۔کم از کم میٹرک تک تعلیم ہوتی ہو۔
3۔صحت کے مراکز۔جہاں بنیادی علاج معالجہ کی سہولت موجود ہو۔
یہ اس بناء پر کہ قریہ کبیرہ بہرحال اپنی ہیئت کے اعتبارسے مصر سے چھوٹا ہوتا ہے ،لہذا اس میں وہ تمام چیزیں بطور شرط ملحوظ رکھنا مشکل ہےجو مصر کی خاصیت یا اس کے لیے ضروری ہوا کرتی ہیں۔
حضرات اکابر رحمہم اللہ تعالی کے فتاوی میںقریہ کبیرہکے بارے میں پوچھےگئے سوالاتکے جوابات پرغور کرنے سے معلوم ہوا کہ ایسی جگہ جہاں معتددبہ آبادی اور دکانیں ہوں اور مقامی لوگوں کی اکثر اشیاء ضرورت پوری ہورہی ہوں وہ بھی قریہ کبیرہ ہے،اور وہاں جمعہ کی نماز پڑھنا جائز ہے۔
سوال میں موجود جگہ سے متعلق تفصیلات کے پیش نظراس پر شہر یا بڑے گاؤں کی تعریف صادق نہیں آتی،اس لیےاس میں جمعہ اور عیدین کی نمازپڑھنا جائزنہیں ،بلکہ جمعہ کے دن بھی جمعہ کی نماز کےبجائےظہر کی نماز کی ادائیگی ضروری ہے۔
اگر کسی جگہ اقامتِ جمعہ کی شرائط موجونہ ہونے کے باوجود پہلے سے جمعہ کی جماعت ہوتی چلی آرہی ہو اور اب اسے بند کروانے سے شدید فتنے کا اندیشہ نہ ہو تو پھر اسے ختم کرنا چاہیے،اس لیے کہ جمعہ جاری رکھنےمیں مندرجہ ذیل مفاسد لازم آتے ہیں:
1۔جمعہ فرض نہ ہونے کے باوجود فرض ہونے کا اعتقاد۔
2۔جمعہ کی نیت سے پڑھی جانے والی نماز نفل ہوگی۔
3۔اس نفل نماز کےلیےخطبہ ،اذان ،اقامت ،جماعت اور اس میں قراءت بالجہر وغیرہ کرنا۔
4۔یہ اعتقاد رکھنا کہ فرض ساقط ہوگیا۔
5۔فرض نماز کا مستقل ترک۔
6۔اس کی قضاء بھی نہ کرنا۔
اگر فتنے کا اندیشہ ہوتو خود صحیح مسئلے پر عمل کرکے سبکدوش ہوجانا چاہیے اور دوسروں کو ان کے حال پر
چھوڑدیناچاہیے۔
حوالہ جات
وفی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (2/ 136):
(ويشترط لصحتها) سبعة أشياء:
الأول: (المصر وهو ما لا يسع أكبر مساجده أهله المكلفين بها )وعليه فتوى أكثر الفقهاء مجتبى لظهور التواني في الأحكام وظاهر المذهب أنه كل موضع له أمير وقاض يقدر على إقامة الحدود كما حررناه فيما علقناه على الملتقى.
عن أبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمته وعلمه أو علم غيره يرجع الناس إليه فيما يقع من الحوادث وهذا هو الأصح
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
02/صفر1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


