| 81184 | متفرق مسائل | متفرق مسائل |
سوال
میں ایک مسلمان ہوں ،میں آسڑیلیا کی فوج میں بھرتی ہونا چاہتا ہوں ، ملک کے اندر جو فوج کی ذمے داری ہوتی ہے امن وامان کاقیام وغیرہ وہ ذمے داری میں بھی ادا کرونگا ۔ مجھے بیرون ملک کسی ملک کے خلاف کسی مہم میں نہیں بھیجا جائے گا ، کیایا میرے لئے بحیثیت ایک مسلمان کسی کافر ملک کی فوج میں بھرتی ہو کر اس ملک کی خدمت کرنا جائز ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح ہوکہ اگر کوئی مسلمان غیر مسلم ملک کا باشندہ ہو اس کو وہاں کی شہریت حاصل ہو ، اس پر وہاں کی حکومت کی طرف سے وضع کردہ قوانین اسی طرح لاگو ہونگے،جس طرح وہاں کے غیر مسلم باشندوں پر لاگو ہوتے ہیں ، نیز اس کو بھی وہاں کے غیر مسلم باشندوں کی طرح حقوق اور سہولتیں حاصل ہونگی،لہذ ا غیر مسلم باشندوں کی طرح مسلم باشندوں کے لئے بھی ملک کو اندرونی وبیرونی خطرات سے بچانے اور امن وامان قائم رکھنے اور ملک کا دفاع اور سرحدوں کی حفاظت کی خاطر پولیس اور فوج میں بھرتی ہوکر ملک کی خدمت کرنے کی فی نفسہ گنجائش ہے ۔
البتہ مسلمان فوجی کے لئے ضروری ہے کہ کسی مسلمان ملک کے خلاف جارحانہ کاروئی میں حصہ نہ لے، نہ مسلمانوں کو ظلما قتل کرنے میں حصہ بلکہ ایسی مہم میں حصہ لینے سے معذرت کردے ،اور حکومت کی بھی ذمے داری ہے کہ مسلمان فوجی کو کسی ایسے کام پر مجبور نہ کرے جو اسلامی تعلیمات کے خلاف ہو ، کسی مسلمان ظلما قتل کرنا بھی اسلام میں حرام ہے ،نیزمسلمان فوجی پر لازم ہے کہ دوران تربیت اور دوران ڈیوٹی کسی کفریہ ، شرکیہ فعل میں شرکت نہ کرے ، اسطرح کھانے پینے کی اشیاء میں حلال کو اختیار کرے حرام مثلا شراب ،خنزیر کا گوشت ، غیر مسلموں کا ذبیحہ وغیرہ کھانے سے اجتناب کرے ،
حوالہ جات
صحيح البخاري (2/ 795)
2155 - حدثنا عمر بن حفص حدثنا أبي حدثنا الأعمش عن مسلم عن مسروق حدثنا خباب قال
: كنت رجلا قينا فعملت للعاص بن وائل فاجتمع لي عنده فأتيته أتقاضاه فقال لا والله لا أقضيك حتى تكفر بمحمد . فقلت أما والله حتى تموت ثم تبعث فلا . قال وإني لميت ثم مبعوث ؟ قلت نعم قال فإنه سيكون لي ثم مال وولد فأقضيك . فأنزل الله تعالى { أفرأيت الذي كفر بآياتنا وقال لأوتين مالا وولدا }
فتح الباري - ابن حجر (4/ 452)
أورد فيه حديث خباب وهو إذ ذاك مسلم في عمله للعاص بن وائل وهو مشرك وكان ذلك بمكة وهي إذ ذاك دار حرب واطلع النبي صلى الله عليه و سلم على ذلك وأقره ولم يجزم المصنف بالحكم لاحتمال أن يكون الجواز مقيدا بالضرورة أو أن جواز ذلك كان قبل الأذن في قتال المشركين ومنابذتهم وقبل الأمر بعدم إذلال المؤمن نفسه وقال المهلب كره أهل العلم ذلك إلا لضرورة بشرطين أحدهما أن يكون عمله فيما يحل للمسلم فعله والآخر أن لا يعينه على ما يعود ضرره على المسلمين
احسان اللہ شائق عفا اللہ عنہ
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
١١ صفر ١۴۴۵ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان اللہ شائق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


