| 81577/63 | نماز کا بیان | اذان و اقامت کے مسائل |
سوال
اگر نماز عصر کے لیے اذان مثل ثانی سے پہلے دے دی جائے اور نماز عشاء کے لیے اذان شفق ابیض غائب ہونے سے پہلے دے دی جائے تو کیا اذان دوبارہ دی جائے یا وہی اذان کافی ہو گی؟؟؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
وقت داخل ہونے سے پہلے اذان دینا درست نہیں ہے ،اگر کسی نے غلطی سے یا قصداوقت داخل ہونے سے پہلے اذان دےدی تووقت داخل ہونے پر دوبا رہ اذان دی جائے گی۔
صورت مسئولہ میں چونکہ عصروعشاء کے وقت میں ائمہ احناف کے دو قول ہیں ۔امام ابو یوسف ،امام محمد ،امام زفر اوراما م طحاوی کے ہاں ایک مثل کے بعدعصر کا وقت شروع ہوجاتا ہے اس لیے ان کے ہاں اگر اذان عصرمثل ثانی سے پہلے دی گئی تو اذان درست ہوگئی،دوبارہ اذان دینے کی ضرورت نہیں ہے ۔جبکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے ہاں عصر کا وقت مثلین کے بعد شروع ہوتا ہے اور ان کا یہ قول مشہور ومعروف اور ظاہر الروایۃ کے مطابق ہے ،اس لیے ان کے ہا ں اگر اذان مثل ثانی سے پہلے دی جائے تویہ اذان درست نہیں ہوگی اور مثل ثانی کے بعد دوبارہ اذان دی جائےگی ۔ چونکہ اما م صاحب کا قول مفتی بہ اور احتیاط پر مبنی ہے اس لیے دو مثل کے بعد اذان کا اعادہ کرلینا بہتر اور اٖفضل ہوگا ۔حضرات فقہاءکرام نے اذان کےتکرار کو جائز لکھا ہے ،مگر اقامت کا تکرار مشروع نہیں ہے۔
اسی طر ح عشاء کا وقت صاحبین کے ہاں شفق احمرکے بعد اور امام صاحب کے ہا ں شفق ابیض کے بعد شروع ہوتا ہے ،اس لیےاگر عشاء کی اذان شفق ابیض غائب ہونے سے پہلے دی گئی تو امام صاحب کے ہاں درست نہیں ہوگی ،جبکہ صاحبین کے ہاں درست ہوجائے گی ۔مگر چونکہ عشاء میں صاحبین کا قول مفتی بہ ہے اگر چہ امام صاحب کے قول میں احتیاط ہے اس لیے دوبارہ اذان کی اؑعادہ کی ضرورت نہیں ۔البتہ احتیاط پر عمل کرنا بہتر ہےاس لیےشفق ابیض کے غروب کے بعد ہی اذان دی جائے۔
حوالہ جات
وأول وقت العشاء حين يغيب الشفق، واختلفوا في تفسير الشفق، فعند أبي حنيفة :هو البياض، وهو مذهب أبي بكر وعمر ومعاذ وعائشة رضي الله عنهم، وعند أبي يوسف ومحمد والشافعي :هو الحمرة، وهو قول عبد الله بن عباس وعبد الله بن عمر رضي الله عنهم وهو رواية أسد بن عمرو عن أبي حنيفة.(بدائع الصنائع: 1/124)
تقديم الأذان على الوقت في غير الصبح لا يجوز اتفاقا وكذا في الصبح عند أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله تعالى وإن قدم يعاد في الوقت. هكذا في شرح مجمع البحر الرائق لابن الملك وعليه الفتوى. (الفتاوى الهندية :531/ )
(ولا)يصح (أن يؤذن قبل) دخول (وقت) بل يكره كما في فتح القدير أي: كراهة تحريم وينبغي أن لا فرق بين إيقاع الكل قبله أو البعض والباقي في الوقت وفهم منه عدم صحة الإقامة قبله بالأولى. قيد بالقبلية لأن الأذان بعده صحيح وقد قال الإمام :يؤذن للفجر بعد طلوعه ولظهر الشتاء حين تزول الشمس ويبرد لظهر الصيف ويؤخر العصر ما لم تتغير وفي العشاء قليلا بعد ذهاب البياض كذا في المجتبى.(ويعاد) الأذان (فيه) لعدم الاعتداد بالأول وكذا الإقامة.(النھر الفائق شرح کنز الدقائق:1/178)
ووقت المغرب منه إلى غيبوبة الشفق وهو الحمرة عندهما وبه يفتى. هكذا في شرح الوقاية وعند أبي حنيفة الشفق هو البياض الذي يلي الحمرة. هكذا في القدوري وقولهما أوسع للناس وقول أبي حنيفة رحمه الله أحوط؛ لأن الأصل في باب الصلاة أن لا يثبت فيها ركن ولا شرط إلا بما فيه يقين. كذا في النهاية ناقلا عن الأسرار ومبسوط شيخ الإسلام. (الفتاوى الهندية (1/ 51:
لأن تكرارلأذان مشروع دون الإقامة. (الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 44:
لأن تکرارالأذان مشروع أي كما في يوم الجمعة، بخلاف الإقامة. (رد المحتار ط الحلبي (1/ 389:
رفیع اللہ
دار الافتاءجامعۃ الرشید کراچی
8ربیع الثانی 1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | رفیع اللہ غزنوی بن عبدالبصیر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


