| 80812 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
شوہر نے غصے میں بیوی کو کہا " میں اسے فارغ کرتا ہوں۔ " کچھ عرصے بعد پھر کسی بات پر یہی جملہ بولا۔ پھر جب بیوی حاملہ تھی تو غصے میں کہا کہ اس گھر سے نکل جاؤ اور کہا کہ فارغ۔ بیوی کا تعلق سنی فرقے سے ہے۔ اس نے کسی مفتی سے سنا تھا کہ اگر شوہر کہہ دے کہ میں تمہیں فارغ کرتا ہوں تو طلاق ہوجاتی ہے۔ اب تو دو بار شوہر نے بولا کے میری طرف سے فارغ ہےاور تیسری دفعہ صرف فارغ کا لفظ بولا ، پورا جملہ نہیں بولا۔ مہربانی کرکے بتادیں کہ ان کے رشتے کا اب کیا حکم ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکر کردہ صورت کے مطابق اگر واقعی شخصِ مذکورنے اپنی بیوی کوغصہ میں الفاظ" میں اسے فارغ کرتا ہوں "کہے ہیں تو اس کا حکم یہ ہے کہ ان الفاظ سے شخصِ مذکور کی بیوی پر ایک طلاق ِ بائن واقع ہوگئی ہے؛کیونکہ یہ الفاظ ہمارے عرف میں ان کنایاتِ طلاق میں سے ہیں جو صرف جواب کا احتمال رکھتے ہیں،لہٰذا ن الفاظ سے غصے اور مذاکرہ طلاق کے وقت بغیر نیت کے طلاق بائن واقع ہو جاتی ہے۔ اور دوسری ،تیسری مرتبہ یہ الفاظ" میں اسے فارغ کرتا ہوں یا نکل جاؤ فارغ"کہنے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی کیونکہ طلاق بائن کے ساتھ بائن ملحق نہیں ہوتی۔(کذا فی تبویب دارالعلوم کراچی 1594/53)۔
طلاق بائن کا حکم یہ ہے کہ شوہر رجوع نہیں کرسکتا،البتہ اب اگر دوبارہ اکھٹے رہنے کا ارادہ ہواوراس سے پہلے تین طلاق مکمل نہ ہوئے ہوں تو باہمی رضا مندی سے شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے عوض دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں،نکاح کرنے کی صورت میں آئندہ شوہر کو باقی طلاقوں کا اختیار ہوگا،لہٰذا آئندہ طلاق کے معاملہ میں بہت احتیاط کی ضرورت ہوگی۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية (1/ 374)
[الفصل الخامس في الكنايات في الطلاق]
(الفصل الخامس في الكنايات) لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة. ثم الكنايات ثلاثة أقسام (ما يصلح جوابا لا غير) أمرك بيدك، اختاري، اعتدي (وما يصلح جوابا وردا لا غير) اخرجي اذهبي اعزبي قومي تقنعي استتري تخمري (وما يصلح جوابا وشتما) خلية برية بتة بتلة بائن حرام والأحوال ثلاثة (حالة) الرضا (وحالة) مذاكرة الطلاق بأن تسأل هي طلاقها أو غيرها يسأل طلاقها (وحالة) الغضب ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية والقول قول الزوج في ترك النية مع اليمين وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع الطلاق في سائر الأقسام قضاء إلا فيما يصلح جوابا وردا فإنه لا يجعل طلاقا كذا في الكافي وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم كقوله اعتدي واختاري وأمرك بيدك فإنه لا يصدق فيها كذا في الهداية.
بدائع الصنائع- (3 / 631)
قال إن قوله خليت في حال الغضب وفي حال مذاكرة الطلاق يكون طلاقا حتى لا يدين في قوله إنه ما أراد به الطلاق.
(بدائع الصنائع:3/107)
قال العلامۃ الکاسانی رحمہ اللہ تعالی:وإن كانت حال مذاكرة الطلاق وسؤاله أو حالة الغضب والخصومة فقد قالوا: إن الكنايات أقسام ثلاثة: في قسم منها لا يدين في الحالين جميعا؛ لأنه ما أراد به الطلاق لا في حالة مذاكرة الطلاق وسؤاله ولا في حالة الغضب والخصومة، وفي قسم منها يدين في حال الخصومة والغضب ولا يدين في حال ذكر الطلاق وسؤاله، وفي قسم منها يدين في الحالين جميعا
(وأما) القسم الثاني فخمسة ألفاظ أيضا:"خلية " " بريئة " " بتة " " بائن " " حرام "؛ لأن هذه الألفاظ كما تصلح للطلاق، تصلح للشتم، فإن الرجل يقول لامرأته عند إرادة الشتم: أنت خلية من الخير، بريئة من الإسلام، بائن من الدين، بتة من المروءة، حرام أي مستخبث، أو حرام الاجتماع والعشرة معك.
وحال الغضب والخصومة يصلح للشتم ،ويصلح للطلاق فبقي اللفظ في نفسه محتملا للطلاق وغيره، فإذا عني به غيره فقد نوى ما يحتمله كلامه، والظاهر لا يكذبه فيصدق في القضاء ولا يصدق في حال ذكر الطلاق؛ لأن الحال لا يصلح إلا للطلاق؛ لأن هذه الألفاظ لا تصلح للتبعيد، والحال لا يصلح للشتم فيدل على إرادة الطلاق لا التبعيد ولا الشتم فترجحت جنبة الطلاق بدلالة الحال.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 308)
(لا) يلحق البائن (البائن)
عنایت اللہ عثمانی عفی اللہ عنہ
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
07/محرم الحرام/ 1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عنایت اللہ عثمانی بن زرغن شاہ | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


