03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زرعی زمین پر زكوة كا حكم
19791/45زکوة کابیانان چیزوں کا بیان جن میں زکوة لازم ہوتی ہے اور جن میں نہیں ہوتی

سوال

ایک شخص کی دس ایکڑ زرعی زمین ہے جس کی مارکیٹ ویلیو دس کروڑ روپےہے ، جس کی تفصیل یہ ہے:

•        دو ایکڑ پر رہائشی عمارت ہے جہاں ان کے اہل وعیال سکونت پذیر ہیں۔

•        تین ایکڑ ٹھیکے پر کاشتکاروں کو دی ہے، جس کی سالانہ ٹھیکہ تین لاکھ روپےہے۔

•        دو ایکڑ خود کاشت کی نہری پانی کے ساتھ، جس کی سالانہ آمدنی دو لاکھ روپےہے

•        تین ایکڑ بغیر کاشت اور ٹھیکہ كے خالی پڑی ہے، اس کا کوئی مصرف نہیں۔

ساری زمین سے متعلق موصوف کا کوئی پختہ ارادہ یا نیت نہیں کہ مستقبل میں اس کا کیا کرنا ہے؟

  • ساری زرعی زمین خود کاشت کرنی ہے یا ٹھیکے پر دینی ہے؟
  • رہائش کے علاوہ باقی زمین پر کوئی ہاؤسنگ سکیم بنانی ہے؟
  • کوئی فیکٹری لگانی ہے یا ڈیری فارم بنانا ہے؟

کیا دو ایکڑ رہائشی عمارت نکالنے کے بعد آٹھ ایکڑزرعی زمین پر زکاة ہے، زمین کی تفصیل درج ذیل ہے:

•        زمین کی مارکیٹ ویلیو آٹھ کروڑ پر زکات ہو گی ؟

•        ٹھیکے کی رقم تین لاکھ پر ہوگی ؟

•        خود کا شتہ زمین کی دو لاکھ  آمدنی منفی بیس ہزار خرچہ - ایک لاکھ اسی ہزار پر زکوة یا عشر ؟

•        تین ایکڑ خالی زمین کی مارکیٹ مالیت تین لاکھ پر بھی لگے گی ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

زکوة کے وجوب کے بارے میں شریعت کا اصول یہ ہے کہ زکوة صرف چار چیزوں پر واجب ہوتی ہے، سونا، چاندی، نقدی اور مالِ تجارت (جو آگے بیچنے کے ارادے سے خریدا گیا  ہو) ان چار چیزوں میں سے کسی ایک دو چیزوں جن کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو جائے تو سال گزرنے کے بعد اس پر زکوة واجب ہو جاتی ہے۔ ان چار اقسام کے علاوہ کسی بھی قسم کے اموال پر زکوة واجب نہیں۔

لہذا سوال میں ذکر کی گئی دس ایکڑ زرعی زمین کے کسی بھی حصہ پر زکوة واجب نہیں، اگرچہ اس میں سے بعض زمین کو بیچنے کا ارادہ بھی ہو، کیونکہ تجارت کا فعل صرف ارادہ سے متحقق نہیں ہوتا۔

 البتہ ان زمینوں میں سے جو زمین کاشتکاری کے لیے استعمال ہو رہی ہے اس کی پیداوار پر عشر واجب ہے، جو زمین کی نوعیت کے حساب سے دسواں یا بیسواں حصہ واجب ہو گا۔پھراس میں سے جو زمین ٹھیکے پر دی گئی ہے اس کی پیداوار کا عشر مفتی بہ قول کے مطابق ٹھیکدار ادا کرے گا اور جس زمین کاستکاری آپ خود کر رہے ہیں اس کی پیداوار کا عشر آپ کے ذمہ لازم ہو گا۔

حوالہ جات

القرآن الکریم [البقرة: 267]:

{ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ}

الدر المختار مع حاشية ابن عابدين (2/ 264) دار الفكر-بيروت:

(ولا في ثياب البدن) المحتاج إليها لدفع الحر والبرد ابن ملك (وأثاث المنزل ودور السكنى ونحوها) وكذا الكتب وإن لم تكن لأهلها إذا لم تنو للتجارة.

قال ابن عابدين: (قوله وأثاث المنزل إلخ) محترز قوله نام ولو تقديرا، وقوله ونحوها: أي كثياب البدن الغير المحتاج إليها وكالحوانيت والعقارات.

حاشية ابن عابدين  (2/ 334) ایچ ایم سعید:

(قوله وبقولهما نأخذ) قلت: لكن أفتى بقول الإمام جماعة من المتأخرين كالخير الرملي في فتاواه وكذا تلميذ الشارح الشيخ إسماعيل الحائك مفتي دمشق .............قلت: لكن في زماننا عامة الأوقاف من القرى والمزارع لرضا المستأجر بتحمل غراماتها ومؤنها يستأجرها بدون أجر المثل بحيث لا تفي الأجرة، ولا أضعافها بالعشر أو خراج المقاسمة، فلا ينبغي العدول عن الإفتاء بقولهما في ذلك؛ لأنهم في زماننا يقدرون أجرة المثل بناء على أن الأجرة سالمة لجهة الوقف ولا شيء عليه من عشر وغيره أما لو اعتبر دفع العشر من جهة الوقف وأن المستأجر ليس عليه سوى الأجرة فإن أجرة المثل تزيد أضعافا كثيرة كما لا يخفى فإن أمكن أخذ الأجرة كاملة يفتى بقول الإمام وإلا فبقولهما لما يلزم عليه من الضرر الواضح الذي لا يقول به أحد والله تعالى أعلم۔

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

5/ محرم الحرام 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب