03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تین طلاق کے بعد حلالہ کا حکم
81040طلاق کے احکامصریح طلاق کابیان

سوال

میں نے اپنی بیوی کو ایک دو نہیں، تین طلاق دی ہے اور اب انتہائی پریشان ہوں، کیا اب حلالہ کی کوئی صورت ہو سکتی ہے؟ برائے کرم قرآن وسنت کی روشنی میں جواب دے کر ممنون فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بطورِ تمہید جاننا چاہیے کہ ایک ساتھ تین طلاق دینا شرعاً انتہائی ناپسندیدہ، ناجائز  اور گناہ ہے اگر طلاق دیئے بغیر کوئی چارہٴ کار ہی نہ رہے تو ایسے طہر میں کہ جس میں زوجیت کا تعلق قائم نہ کیا ہو اس میں صرف ایک طلاق دیدے،تاہم اگر کوئی  شخص تین طلاق ایک ساتھ دیدے تو تینوں طلاقیں واقع ہوکر بیوی حرام ہوجاتی ہے،  جس کا حکم یہ ہے کہ مطلقہ عورت عدت کےبعد آزاد ہوجاتی ہےوہ جہاں چاہے اپنا عقد ثانی کرسکتی ہے، تین طلاق دینے والے شوہر کو اب اس عورت سے رجوع اور دوبارہ نکاح کرنے کا  کچھ اختیار نہیں، سابقہ شوہر عورت کو خود سے یا کسی اور سے نکاح کرنے پر کوئی جبر نہیں کر سکتا، اس میں عورت کو اختیار ہے کہ وہ کہیں نکاحِ ثانی  کرے یا نہ کرے ، البتہ اگر مطلقہ عورت عدت گزرنے کے بعد کسی اور شخص سے نکاح کرے اور وہ اس کے ساتھ تعلقِ زوجیت بھی قائم کرے، پھر کبھی اتفاقاً دوسرا شوہر ہمبستری کے بعد طلاق دیدےیا اس کی وفات ہوجائے اور بہرصورت عدت گذرجائے تب عورت کو اپنے  سابقہ شوہر سےنکاحِ جدید کا حق حاصل ہوجاتا ہے، اسی کو شرعی اصطلاح میں حلالہ کہا جاتا ہے۔نیزحلالہ کے لیے طلاق کی شرط لگانا ناجائز اور گناہ ہے، ایسی صورت میں حلالہ کروانے والے (پہلے شوہر) اور کرنے والے (دوسرے شوہر) شخص پر حدیثِ پاک میں لعنت کے الفاظ وارد ہوئے ہیں، البتہ اگر بغیر کسی شرط کے نکاح کے وقت صرف دِل میں طلاق کی نیت ہو تو ایسی صورت میں نکاح درست ہو جائے گا اور عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جائے گی۔

لہذامذکورہ بالا تفصیل کے مطابق اگر عورت عدت گزارنے کے بعد کسی اور شخص سے نکاح کرلے اور وہ اس کے ساتھ ہمبستری بھی کرلے،  پھر وہ شخص اپنی مرضی سے طلاق دیدے یا وہ فوت ہو جائے تو اُس شخص کی عدت گزارنے کے بعد فریقین باہمی رضامندی سے گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں، ورنہ نہیں۔  

حوالہ جات

صحيح البخاري (7/ 43، رقم الحدیث: 5261) دار طوق النجاة:

حدثني محمد بن بشار، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال: حدثني القاسم بن محمد، عن

عائشة، أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم:

أتحل للأول؟ قال: «لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول»

صحيح البخاري (7/ 43، رقم الحدیث: 5264) دار طوق النجاة:

وقال الليث: حدثني نافع، قال: كان ابن عمر، إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: «لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك.

الفتاوى الهندية (1 / 473) دار الفكر، بیروت:

وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز.

سنن ابن ماجه ت الأرنؤوط (3/ 117، رقم الحدیث: 1936) دار الرسالة العالمية:

حدثنا يحيى بن عثمان بن صالح المصري، حدثنا أبي، سمعت الليث بن سعد يقول: قال لي أبو مصعب مشرح بن هاعان: قال عقبة بن عامر: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: "ألا أخبركم بالتيس المستعار؟ " قالوا: بلى، يا رسول الله، قال: "هو المحلل، لعن الله المحلل والمحلل له"

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

29/محرم الحرام 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب