| 81039 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
مرحوم کا ارادہ تھا کہ میں مقامی مسجد مرمت کراؤں گا، اب ایک فریق نےمرمت کرادی ہے، وہ فریقین سے حصہ وصول کر سکتا ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
زندگی میں کسی نیکی کا محض ارادہ کرنے سے شرعاً وصیت کا حکم نہیں لگتا کہ جس پر عمل کرنا ورثاء کے ذمہ لازم ہو، کیونکہ وصیت کے لیے باقاعدہ تصریح کرنا ضروری ہے کہ میری وفات کے بعد اتنی رقم فلاں مقصد کے لیے خرچ کر دی جائے، جبکہ مذکورہ صورت میں اس طرح وصیت نہیں کی گئی، اس لیے اب مرحوم کی منقولہ وغیر منقولہ تمام جائیداد ترکہ شمار ہو گی، جس میں اس کے تمام ورثاء اپنے شرعی حصوں کے مطابق حق دار ہوں گے،لہذا مسجد تعمیر کرنے والے فریق نے اگر دیگر ورثاء کی اجازت اور رضامندی کے بغیر مسجد تعمیر کروائی ہے تو اس کا ذمہ دار وہی فریق ہو گا اور وہی اس کے اخراجات برداشت کرے گا، دیگر ورثاء سے ان کی رضامندی کے بغیرتعمیر کے اخراجات وصول کرنا جائز نہیں، البتہ اگر کوئی شخص اپنی خوشی اور رضامندی سے دیدے تو اس میں حرج نہیں، بلکہ باعث ثواب ہے۔
حوالہ جات
۔۔۔
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
28/محرم الحرام 1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


