03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ورثاء کے درمیان اختلاف کی صورت میں موروثہ جائیداد کا شرعی حکم
81102میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

والدصاحب کے رہائشی مکان کے بارے میں دو ورثاء کا کہنا ہے کہ والد صاحب نے اس میں دو کمرے ہم دو بھائیوں کو ملکیتاً دیے تھے، جبکہ دیگر ورثاء کا کہنا یہ ہے کہ ہمیں اس کے بارے میں کچھ علم نہیں۔ سوال کے ساتھ ایک اسٹامپ پیپر بھی منسلک ہے، جس میں والد صاحب کے دو بیٹوں کو دو کمرے دینے کا ذکر موجود ہے، البتہ مدعیان کے پاس اپنے دعوی پر گواہ نہیں ہیں۔اس کا شرعی حکم کیا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جودو وارث والد صاحب کے ان کو رہائشی مکان میں سے دو کمرے ملکیتی طور پر دینے کا دعوی کر رہے ہیں ان پر اپنے دعوی کو شرعی گواہوں کے ذریعہ ثابت کرنا ضروری ہے، جبکہ سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق ان کے پاس اپنے دعوی پر گواہ موجود نہیں ہیں۔ جہاں تک سوال کے ساتھ منسلک  اسٹامپ پیپر کا تعلق ہے تو اس پر بھی صرف ایک گواہ کے دستخط ہیں، لہذا شرعی اور قانونی اعتبار سے اس اسٹامپ پیپر کا اعتبار نہیں۔ اور شرعی اصول یہ ہے کہ مدعی کے پاس گواہ موجود نہ ہونے کی صورت میں مدعی کے مطالبہ پر مدعی علیہ سے قسم لی جاتی ہے، لہذا اب اگر یہ دو بھائی چاہیں تو دیگر ورثاء سے عدمِ علم پر قسم لے سکتے ہیں، جس کی صورت یہ ہو گی کہ دیگر ورثاء یوں قسم اٹھائیں گے کہ اللہ کی قسم ہمارے علم میں نہیں کہ والد صاحب نے ان کو یہ دو کمرے ملکیتاً دیے تھے۔ اس طرح دیگر ورثاء کے قسم اٹھانے کے بعد ان دو بھائیوں کو ان کمروں میں اپنے شرعی حصہ کے علاوہ کسی قسم کے دعوی کا حق حاصل نہیں ہو گا۔

البتہ یہ بات یاد رہے کہ یہ فیصلہ صرف دنیا کی حد تک معتبر ہو گا، جہاں تک آخرت کا تعلق ہے تو اگر واقعتاً والد صاحب نے ان کو مذکورہ دو کمرے ملکیتاً دیے تھے تو عند اللہ یہی دوبھائی  ان کمروں کے مالک ہیں اور آخرت میں ان کو اپنا حق چھوڑنے کا اجر اور بدلہ ملے گا، لہذا دیگر ورثاء میں سے کسی کو علم ہونے کے باوجود اگر اس نے غلط بیانی سے کام لیا تو وہ اللہ کے ہاں گناہ گار اور قابلِ مواخذہ ہو گا، اس لیے ہر فریق کی ذمہ داری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر سمجھ کر اپنے علم کے مطابق درست بات کرے۔

حوالہ جات

السنن الكبرى للبيهقي (10/ 427) دار الكتب العلمية، بيروت:

عن ابن أبي مليكة، قال: كنت قاضيا لابن الزبير على الطائف , فذكر قصة المرأتين , قال: فكتبت إلى ابن عباس , فكتب ابن عباس رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " لو يعطى الناس بدعواهم لادعى رجال أموال قوم ودماءهم , ولكن البينة على المدعي , واليمين على من أنكر.

مجلة الأحكام العدلية (ص: 355) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:

المادة (1748) إذا حلف أحد على فعله يحلف على البتات يعني يحلف قطعيا بأن هذا

الشيء هكذا أو ليس بكذا , وإذا حلف على فعل غيره يحلف على عدم العلم يعني يحلف على عدم علمه بذلك الشيء.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

4/صفرالمظفر 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب