| 81272 | جائز و ناجائزامور کا بیان | بچوں وغیرہ کے نام رکھنے سے متعلق مسائل |
سوال
ایک شخص تقریبا 25سال سے بد فعلی کے مرض میں مبتلا ء ہے ،اس کے دست درازی سے پوتے تک بھی محفوظ نہیں ، ایسے شخص کے بارے میں شریعت کا کیاحکم ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
انسان کی قوت شہوانیہ کی تسکین کے لئے اللہ تعالی نے نکاح کا جائز طریقہ رکھا ہے ،تاکہ جو انسان، نکاح کرنے کی استطاعت رکھتا ہو، وہ نکاح کرکے حلال اور جائز طریقہ سے تسکین حاصل کرے اور نسل انسانی کو آگے بڑھائے ، نکاح کی بجائے کسی غلط طریقہ ﴿زناکاری ،بد فعلی وغیرہ ﴾ سے تسکین حاصل کرنےکو شریعت نے ناجائز اور حرام قرار دیاہے ، کیونکہ غلط طریقہ سے شہوت رانی کرنا یاکسی معصوم بچے کو ہوس کا نشانہ بنانا ، یہ انسانیت نہیں بلکہ درندگی ہے ، کوئی شریف انسان ایسی قبیح حرکت نہیں کرسکتا ۔ زناکاری ، بد کاری اور بد فعلی کرنے والوں کے بارے میں قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں سخت وعیدیں آئی ہیں ،
{وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ (5) إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ (6) فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْعَادُونَ (7) } [المؤمنون: 5 - 8]
﴿مؤمنیں صادقین کی صفات بیان کرتے ہوئے ﴾ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے کہ اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ،مگر اپنی بیویوں سے یا کنیزوں سے جو ان کی ملک میں ہوتی ہیں ، کہ ان سے مباشرت کرنے سے انہیں ملامت نہیں ،اور جو ان کے علاوہ اور وں کے طالب ہوں وہ خدا کی مقرر کردہ حد سے نکل جانے والے ہیں ۔
مشكاة المصابيح للتبريزي (2/ 314)
عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " إن أخوف ما أخاف على أمتي عمل قوم لوط " . رواه الترمذي وابن ماجه
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھے اپنی امت بارے میں جس خطرناک فتنے کا اندیشہ ہے
وہ ہے کہ امت کے افراد کہیں قوم لوط کی طرح برے عمل میں مبتلا ء نہ ہوجائے ،
مشكاة المصابيح للتبريزي (2/ 315)
وعن ابن عباس وأبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : " ملعون من عمل عمل قوم لوط " . رواه رزين
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جوشخص قوم لوط والا عمل کرے وہ ملعون ہے ۔
لہذا اگر کوئی شخص معاشرہ میں ایسی بری حرکت میں واقعة مبتلا ہے ، تو پہلا کام یہ ہے کہ اس کو تنہائی میں سمجھایا یائے ،اگر باز نہ آئے تو حکومت کو اطلإ ع دیجائے ، کیونکہ حکومت کی ذمے داری ہے کہ ایسے شخص کو گرفتار کرکے عدالت کے ذریعہ سخت سزا دلوائے،اور اگر یہ صورت مشکل ہوتوعزیز واقارب اور دیگر اہل ،محلہ کی ذمے داری ہے کہ اس سے معاشرتی بائیکاٹ کریں ،اور اسے اس بری حرکت سے توبہ کرنے پر مجبور کریں ۔
نوٹ ؛
یہ بھی یاد رہے کہ بغیر ثبوت کے کسی پرجھوٹا الزام لگانا ،پھر اس کو بدنام کرنا یہ بھی بہت بڑا گناہ ہے ، اوراسی طرح کسی مسلمان کے بارے میں خواہ مخواہ بد گمانی کرنا بھی گناہ ہے ، معاملہ نازک ہے اس لئے احتیاط کرنا ضروری ہے ۔
حوالہ جات
.....
احسان اللہ شائق عفا اللہ عنہ
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
۲۴ صفر١۴۴۵ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان اللہ شائق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


