03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اپنی غلطیوں کو کفار کے کھا تے میں ڈالنے کا حکم
81034جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

اسلام یہود و نصاری کو اسلام اور مسلمانوں کادشمن کہتا ہے۔سوال یہ ہےکہ کیا ہر چیز حتی کہ اپنی غلطیوں کو بھی ان کے کھاتے میں ڈال دینا مناسب ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

یہ بات درست ہے کہ یہود و نصاری اسلام اور اہلِ اسلام کے دشمن ہیں، جیسا کہ تاریخ اس پر شاہد ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اہلِ اسلام اپنے خلافِ شرع کاموں کی وجہ سے پیش آنے والے احوال اور حوادث کا سبب بھی کفار کو قرار دے کر اپنے آپ کو برئ الذمہ قرار دیں، جیسے ایک عرصہ سے امتِ مسلمہ زوال کا شکار ہے، اب اگر کوئی شخص کہے کہ اس میں کفار کے کفروشرک اور بداعمالیوں کا دخل ہے تو یہ درست نہیں، بلکہ یہ درحقیقت مسلمانوں کے اپنے بُرے اعمال کا نتیجہ ہے اور احادیثِ مبارکہ میں بھی مختلف گناہوں کے سبب مختلف حالات پیش آنے کی پیش گوئی فرمائی گئی ہے، لہذا ایسی صورتِ حال میں مسلمانوں کے کفار کو موردِ الزام ٹھہرانے کی بجائے اپنے اعمال درست کرنے چاہئیں، امت کے حالات اپنے ذاتی اور اجتماعی اعمال درست کرنے سے ہی بہتر ہوں گے، جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے:

 {إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ } [الرعد: 11]

ترجمہ: یقین جانو کہ اللہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے حالات میں تبدیلی نہ لے آئے۔ (آسان ترجمہ قرآن، سورة الرعد:آیت:11)

حوالہ جات

۔۔۔

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

22/ محرم الحرام 1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب