| 78816 | جائز و ناجائزامور کا بیان | خریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل |
سوال
اگر کسی استاد کا یہ معمول ہو کہ وہ کلاس میں تاخیر سے آتا ہو اور پڑھائی کا انداز بھی صحیح نہ ہو،جیسے موبائل میں شرح سے دیکھ کر پڑھانا تو اس وجہ سے استاد کو تنخواہ لینا حلال ہوگی یا حرام؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
استاد کے ذمے کلاس میں آنے سے پہلے سبق کا مطالعہ اور اچھے طریقے سے تیاری کرکے مقررہ وقت پر کلاس میں پہنچنے کی کوشش کرنا لازم ہے،دوران سبق موبائل میں شرح سے دیکھ کر پڑھانا انتہائی نامناسب عمل ہے،جس سے طلبہ کے دل میں استاد اور اس کے درس دونوں کی اہمیت ختم ہوتی جاتی ہے،اس سے احتراز ازحد ضروری ہے۔
نیز تاخیر سے آنے کی صورت میں ادارے کو ضابطے کے مطابق کٹوتی کا اختیار ہے،اس لئے رجسٹر میں تاخیر کا اندراج ضروری ہے،البتہ اگر اس گھنٹے کی کٹوتی بائیومیٹرک مشین کے ذریعے طے ہو،جیسا کہ پہلا گھنٹہ تو پھر رجسٹر میں تاخیر کا اندراج ضروری نہیں،کیونکہ بائیو میٹرک مشین کے ذریعے تاخیر کا اندراج ایک دفعہ ہوچکا ہوتا ہے۔
حوالہ جات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
15/جمادی الثانیہ1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


