| 81398 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ آج کے بعد اگر میں نے غلط کام کیا تو میری بیوی مجھ پر طلاق ہے، پھر اس نے وہ غلط کام کر لیا، اسی طرح ایک مرتبہ اس نے کہا آج کے بعد میں جھوٹ نہیں بولوں گا، اگرآج کے بعد میں نے جھوٹ بولا تو میری بیوی مجھ پر میری ماں کی طرح ہے۔ پھر اس نے جھوٹ بھی بولا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ایسی صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں۔کیا ان کا نکاح ختم ہو گیا ہے؟
وضاحت: سائل سے فون پر بات ہوئی، اس نے بتایا کہ "میری بیوی مجھ پر میری ماں کی طرح ہے" کہتے وقت میری طلاق، عزت وحترام یا حرام کرنے کی کوئی نیت نہیں تھی، بس اس لیے کہہ دیا تھا کہ میں آئندہ جھوٹ نہ بولوں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں جب شخصِ مذکور نے اپنی بیوی سے کہا اگر میں نے آج کے بعد غلط کام کیا تو میری بیوی مجھ پرطلاق ہے کہنے سے ایک طلاقِ رجعی (جس کے بعد فریقین باہمی رضامندی سے رجوع کر سکتے ہوں) واقع ہو گئی، اس کے بعد شوہر کے کہے گئے الفاظ"اگرآج کے بعد میں نے جھوٹ بولا تو میری بیوی مجھ پر میری ماں کی طرح ہے۔" کا حکم یہ ہے کہ اگر شوہر طلاق یا اس کے علاوہ کوئی خاص نیت کرتا تو اس کے مطابق حکم لگتا، لیکن سوال میں تصریح کے مطابق اس نے ان الفاظ سے کوئی نیت نہیں کی تھی اس لیے اس صورت میں فقہائے کرام رحمہم اللہ کے درمیان اختلاف ہے، حضرت امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف رحمہ اللہ کی راجح (راجح اس لیے کہا کہ متاخرین نے اسی روایت کو لے کر متون میں امام ابویوسف رحمہ اللہ کا مذہب مطلقا امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی طرح نقل کیا ہے) روایت کے مطابق یہ گفتگو لغو شمار ہو گی اور کوئی شرعی حکم ثابت نہیں ہو گا، جبکہ امام ابویوسف رحمہ اللہ کی امالی میں ذکر کی گئی روایت کے مطابق اس طرح کے الفاظ اگر غصہ کی حالت میں کہے گئے تو اس سے ظہار ثابت ہو گا۔ اورامام محمد رحمہ اللہ نےنیت نہ ہونے کی صورت میں مطلقا (حالتِ غضب ہو یا نہ ہو) ظہار کا حکم لگایا ہے اور اس کی وجہ یہ لکھی ہے کہ جب بیوی کوکسی محرم عورت یعنی ماں یا بہن وغیرہ کے کسی ایک عضو کے ساتھ تشبیہ دینے سے ظہار کا حکم ثابت ہو جاتا ہے تو اس کے پورے وجود کے ساتھ تشبیہ دینے سے بدرجہ اولیٰ حکمِ ظہار ثابت ہو گا، علامہ شامی رحمہ اللہ کی عبارت سے بھی ظہار یہی راجح معلوم ہوتا ہے کیوں کہ انہوں نے "ٲنت علی حرام مثل ٲمی" میں نیت نہ ہونے کی صورت میں بالاتفاق ظہارکا حکم لکھا اور پھر فرمایا کہ اسی طرح یہاں یعنی "ٲنت علیّ مثل ٲمی" میں بھی حرمت والا معنی ہی مراد لیا جائے گا، اگرچہ متکلم نےگفتگو میں صراحتاً لفظِ حرام ذکرنہ کرے۔
نیزصورت مسئولہ میں چونکہ یہ الفاظ جھوٹ بولنے کی شرط کے ساتھ معلق کیے گئے ہیں اور اس کلام کا مقصد اپنے اوپر شرط (جھوٹ بولنے) كی جزاء (میری بیوی مجھ پر میری ماں کی طرح ہے) کا بوجھ ڈال کر شرط سے بچنا مقصود تھا، جبکہ جزاء کو لغو قرار دینے کی صورت میں اس کا متکلم پر کوئی بوجھ نہیں پڑے گا، اس لیے اس کلام کو لغو قرار دینا مشکل ہے، لہذا اب حکم یہ ہے کہ اگر شوہر نے یہ الفاظ پہلی طلاق کی عدت کے دوران کہے ہیں تو اس کی وجہ سے ظہار واقع ہو چکا ہے،کیونکہ طلاقِ صریح کے بعد عدت مکمل ہونے سے پہلے نکاح باقی رہتا ہے، لہذااب ظہار کا کفارہ ادا کیے بغیر بیوی کے ساتھ ازدواجی تعلقات قائم کرنا جائز نہیں۔ کفارہ کی تفصیل یہ ہے کہ ایک غلام یا باندی آزاد کرنا۔ اگر اس پر استطاعت نہ ہو (جیسا کہ آج کل ان کا وجود نہیں ہے) تو دو ماہ کے لگاتار روزے رکھنا، اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو ساٹھ مساکین (مستحقین زکوة افراد) کو صبح وشام کھانا کھلانا ہے، نیز اتنی مقدار میں ساٹھ مساکین کو پونے دو کلو گندم کی قیمت کے حساب سے راشن یا اتنی مقدار میں نقدی بھی دی جا سکتی ہے۔البتہ مساکین کو کھانا کھلانا یا نقدی دینا اسی وقت معتبر ہو گا جب دو ماہ روزے رکھنے پر قدرت نہ ہو، لیکن اگر روزوں پر قدرت ہو تو پھر کھانا کھلانے کا اعتبار نہیں، بلکہ ایسی صورت میں دو ماہ لگاتار روزے رکھنا ہی لازم ہو گا اور روزے مکمل ہونے تک بیوی سے ازدواجی تعلقات قائم کرنا ہرگز جائز نہ ہو گا، کیونکہ قرآن کریم کی سورہٴ مجادلہ میں اس سے صراحتاً منع فرمایا گیا ہے، لہذا روزوں کے درمیان میں صحبت کرنے کی صورت میں ازسرِ نو ساٹھ روزے رکھنا ضروری ہوں گے۔
حوالہ جات
القران الكريم[المجادلة: 2 - 4]:
{الَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْكُمْ مِنْ نِسَائِهِمْ مَا هُنَّ أُمَّهَاتِهِمْ إِنْ أُمَّهَاتُهُمْ إِلَّا اللَّائِي وَلَدْنَهُمْ وَإِنَّهُمْ لَيَقُولُونَ مُنْكَرًا مِنَ الْقَوْلِ وَزُورًا وَإِنَّ اللَّهَ لَعَفُوٌّ غَفُورٌ (2) وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا ذَلِكُمْ تُوعَظُونَ بِهِ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ (3) فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا ذَلِكَ لِتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ (4)}
المبسوط للسرخسي (6/ 228) دار المعرفة – بيروت:
(قال) ولو قال أنت علي كأمي فهذا كلام يحتمل وجوها لأن الكاف للتشبيه وتشبيه الشيء بالشيء قد يكون من وجه وقد يكون من وجوه فإذا نوى به البر والكرامة لم يكن مظاهرا لأن ما نواه محتمل ومعناه أنت عندي في استحقاق البر والكرامة كأمي وإن نوى الظهار فظهار لأنه شبهها بجميع الأم ولو شبهها بظهر الأم كان ظهارا فإذا شبهها بجميع الأم كان أولى وإن لم يكن له نية فليس ذلك بشيء في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وفي قول محمد - رضي الله تعالى عنه - هو ظهار ولم يذكر قول أبي يوسف - رحمه الله تعالى - وعنه روايتان إحداهما كقول محمد - رضي الله تعالى عنه - لأنه قال في الأمالي إذا كان هذا في حالة الغضب وقال نويت به البر لم يصدق في القضاء وهو ظهار وعنه أنه قال إيلاء لأن الأم محرمة عليه بالنص قال الله تعالى {حرمت عليكم أمهاتكم} [النساء: 23] فكان قوله أنت علي كأمي بمنزلة قوله أنت علي حرام وقد بينا في هذا اللفظ أنه إذا لم ينو شيئا يثبت أقل الوجوه وهو الإيلاء.
الهداية في شرح بداية المبتدي (2/ 265) دار احياء التراث العربي – بيروت:
ولو قال أنت علي مثل أمي أو كأمي يرجع إلى نيته " لينكشف حكمه " فإن قال أردت الكرامة فهو كما قال " لأن التكريم بالتشبيه فاش في الكلام " وإن قال أردت الظهار فهو ظهار " لأنه تشبيه بجميعها وفيه تشبيه بالعضو لكنه ليس بصريح فيفتقر إلى النية " وإن قال أردت الطلاق فهو طلاق بائن" لأنه تشبيه بالأم في الحرمة فكأنه قال أنت علي حرام ونوى الطلاق "وإن لم تكن له نية فليس بشيء" عند أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله لاحتمال الحمل على الكرامة وقال محمد رحمه الله يكون ظهارا لأن التشبيه بعضو منها لما كان ظهارا فالتشبيه بجميعها أولى وإن عنى به التحريم لا غير فعند أبي يوسف رحمه الله هو إيلاء ليكون الثابت به أدنى الحرمتين وعند محمد رحمه الله ظهار لأن كاف التشبيه تختص به.
العناية شرح الهداية (4/ 252) دار الفكر، بيروت:
ولو قال أنت علي مثل أمي أو كأمي احتمل وجوها فيرجع إلى نيته لينكشف ذلك) ؛ وكلامه ظاهر. وقوله (وإن لم تكن له نية فليس بشيء عند أبي حنيفة وأبي يوسف) ذكر في المبسوط قول أبي حنيفة وحده، وعن أبي يوسف فيه روايتان: إحداهما كقول محمد لأنه قال في الأمالي: إذا قال هذا في حالة الغضب وقال نويت به البر لم يصدق في القضاء وهو ظهار.
وعنه أنه قال إيلاء لأن الأم محرمة عليه بالنص، قال الله تعالى {حرمت عليكم أمهاتكم} [النساء: 23] وكان قوله أنت علي كأمي بمنزلة قوله أنت علي حرام، وقد بينا في هذا اللفظ أنه إذا لم ينو شيئا يثبت أقل الوجوه وهو الإيلاء. وجه قول أبي حنيفة وأبي يوسف على ما ذكره في الكتاب أن كلامه يحتمل التشبيه من حيث الكرامة فيحمل عليه إلى أن يتبين خلافه بالنية والفرض عدمها.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 470) دار الفكر-بيروت:
(وإن نوى بأنت علي مثل أمي)، أو كأمي، وكذا لو حذف علي خانية (برا، أو ظهارا، أو طلاقا صحت نيته) ووقع ما نواه لأنه كناية (وإلا) ينو شيئا، أو حذف الكاف (لغا) وتعين الأدنى أي البر، يعني الكرامة. ويكره قوله أنت أمي ويا ابنتي ويا أختي ونحوه (وبأنت علي حرام كأمي صح ما نواه من ظهار، أو طلاق) وتمنع إرادة الكرامة لزيادة لفظ التحريم، وإن لم ينو ثبت الأدنى وهو الظهار في الأصح (وبأنت علي) حرام (كظهر أمي ثبت الظهار لا غير) لأنه صريح.
قال ابن عابدين: (قوله: وإن نوى إلخ) بيان لكنايات الظهار، وأشار إلى أن تصريحه لا بد فيه من ذكر العضو بحر (قوله: لأنه كناية) أي من كنايات الظهار والطلاق. قال في البحر: وإذا نوى به الطلاق كان بائنا كلفظ الحرام، وإن نوى الإيلاء فهو إيلاء عند أبي يوسف، وظهار عند محمد. والصحيح أنه ظهار عند الكل لأنه تحريم مؤكد بالتشبيه. اهـ. ونظر فيه في الفتح بأنه إنما يتجه في " أنت علي حرام كأمي"، والكلام في مجرد أنت كأمي اهـ أي بدون لفظ "حرام". قلت: وقد يجاب بأن الحرمة مرادة وإن لم تذكر صريحا. هذا، وقال الخير الرملي: وكذا لو نوى الحرمة المجردة ينبغي أن يكون ظهارا، وينبغي أن لا يصدق قضاء في إرادة البر إذا كان في حال المشاجرة وذكر الطلاق. اهـ................. (قوله: ثبت الأدنى) لعدم إزالته ملك النكاح وإن طال ط (قوله: في الأصح) لأنه تحريم مؤكد بالتشبيه كما مر. قال في الخانية: وفي رواية عن أبي حنيفة يكون إيلاء، والصحيح الأول (قوله: لأنه صريح) لأن فيه التصريح بالظهر، فكان مظاهرا سواء نوى الطلاق، أو الإيلاء، أو لم تكن له نية بحر. وعندهما إذا نوى الطلاق، أو الإيلاء فعلى ما نوى. وعن أبي يوسف إذا أراد به الطلاق لزمه ولا يصدق في إبطال الظهار،وكذا إذا أراد به اليمين فيكون موليا ومظاهرا تتارخانيه.
تحفة الفقهاء (2/ 215) دار الكتب العلمية، بيروت:
ولو جامع المظاهر في خلال الصوم جماعا يفسد الصوم فإنه يستقبل الصوم بالإجماع لأن الواجب عليه صيام شهرين متتابعين قبل المسيس مع الإمكان ولم يوجد ولو جامع في الشهرين ليلا أو نهارا ناسيا لصومه استقبل عند أبي حنيفة ومحمد وقال أبو يوسف يمضي على صيامه وهي مسألة معروفة.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
یکم ربیع الاول 1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


