03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ٍٍ خاوند اوربیوی کے درمیان طلاق کے حوالے سے اختلاف
81147طلاق کے احکامصریح طلاق کابیان

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ

چار سال پہلے میرا زبردستی نکاح ہوا تھا نکاح کے چار پانچ دن بعدرخصتی سےپہلےمجھےطلاق ہوگئی  اور طلاق کےدو گواہ بھی موجود ہیں، اس نےدو گواہ کی موجودگی میں مجھے طلاق دی تھی،طلاق کےایک مہینے کے بعد میرا کہیں اور نکاح ہوگیاتھا،ابھی چار سال بعد اس بندہ نے میرےخلاف کورٹ  میں کیس کردیا ہے کے یہ میری بیوی ہے حالانکہ اس نے مجھے طلاق دی تھی اور یہ شخص میرے دوسرےنکاح میں بھی موجودتھا اوراس وقت کچھ نہیں کہاتھا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جب بیوی کے پاس دومعتبرگواہ موجود ہیں تو ان کی گواہی سے عورت کادعوی ثابت ہے اوردیگرقرائن بھی اس کے صدق پرموجود ہیں جیسے کہ مدعی کا دوسرے نکاح میں موجود ہونا اورچارسال تک کچھ نہ کہنا لہذا عورت کی بات درست ہےاورمذکورمدعی کا دعوی نکاح باطل ہے ۔

حوالہ جات

وفی الدرا لمختار

امراۃ اذا ادعت علی الزوج انہ طلقہا فہی للزوج مالم یثبت الطلاق نہایہ ونصابھا ای الشھادۃ لغیر من الحقوق الخ کنکاح وطلاق رجلان او رجل و امرائتان (الدرا لمختار علی ہامش ردالمحتار کتاب الشھادۃ  ج ۴ ص ۵۱۵۔ط۔س۔ج۵ص۴۶۵) ظفیر۔

وفیہ ٲیضا:

ونصابھا لغیرھا من الحقوق الخ کنکاح وطلاق رجلان اورجل وامرأتان (الدر المختار علی ہامش ردالمحتار کتاب الشھادۃ ج ۴ ص ۵۱۵۔ط۔س۔ج۵ص۴۶۵)

البحر الرائق شرح كنز الدقائق للنسفي - (ج 14 / ص 290)

ادعت على زوجها أنه وكل وكيلا فطلقني وشهدا أنه طلقها بنفسه يقع الطلاق.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

6/2/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب