| 81147 | طلاق کے احکام | صریح طلاق کابیان |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ
چار سال پہلے میرا زبردستی نکاح ہوا تھا نکاح کے چار پانچ دن بعدرخصتی سےپہلےمجھےطلاق ہوگئی اور طلاق کےدو گواہ بھی موجود ہیں، اس نےدو گواہ کی موجودگی میں مجھے طلاق دی تھی،طلاق کےایک مہینے کے بعد میرا کہیں اور نکاح ہوگیاتھا،ابھی چار سال بعد اس بندہ نے میرےخلاف کورٹ میں کیس کردیا ہے کے یہ میری بیوی ہے حالانکہ اس نے مجھے طلاق دی تھی اور یہ شخص میرے دوسرےنکاح میں بھی موجودتھا اوراس وقت کچھ نہیں کہاتھا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جب بیوی کے پاس دومعتبرگواہ موجود ہیں تو ان کی گواہی سے عورت کادعوی ثابت ہے اوردیگرقرائن بھی اس کے صدق پرموجود ہیں جیسے کہ مدعی کا دوسرے نکاح میں موجود ہونا اورچارسال تک کچھ نہ کہنا لہذا عورت کی بات درست ہےاورمذکورمدعی کا دعوی نکاح باطل ہے ۔
حوالہ جات
وفی الدرا لمختار
امراۃ اذا ادعت علی الزوج انہ طلقہا فہی للزوج مالم یثبت الطلاق نہایہ ونصابھا ای الشھادۃ لغیر من الحقوق الخ کنکاح وطلاق رجلان او رجل و امرائتان (الدرا لمختار علی ہامش ردالمحتار کتاب الشھادۃ ج ۴ ص ۵۱۵۔ط۔س۔ج۵ص۴۶۵) ظفیر۔
وفیہ ٲیضا:
ونصابھا لغیرھا من الحقوق الخ کنکاح وطلاق رجلان اورجل وامرأتان (الدر المختار علی ہامش ردالمحتار کتاب الشھادۃ ج ۴ ص ۵۱۵۔ط۔س۔ج۵ص۴۶۵)
البحر الرائق شرح كنز الدقائق للنسفي - (ج 14 / ص 290)
ادعت على زوجها أنه وكل وكيلا فطلقني وشهدا أنه طلقها بنفسه يقع الطلاق.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
6/2/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


