03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ٍٍٍ ملازم کے لیے ڈیوٹی کے وقت سے15/20منٹ تاخیرسے آنا
81002اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

کیافرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

میں ایک سرکاری ملازم ہوں دوران ملازمت کھبی کبھار وقت مقرر سے 15 _ 20 منٹ دیر سے آنا پڑتا ہے اور چھٹی کے وقت سے تقریباً آدھا گھنٹہ پہلے کرنی پڑتی ہے دوران اسکول کھبی جنازہ میں شرکت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور کھبی تعزیت دعوت وغیرہ میں شرکت کی ۔

تو اب پوچھنا یہ ہے کہ

کیااسکول استاذ کےلیے فکس وقت پر حاضری ضروری ہے یا 10_15 منٹ تک تاخیرکی گنجائش ہے؟اگر گنجائش نہیں ہے اوراس نے تاخیرکی ہوتو اس کی تلافی کس طرح ممکن ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ کسی بھی ادارے کے ملازمین کی حیثیت اجیرِ خاص کی ہوتی ہے،  کیوں کہ وہ وقت کے پابند ہوتے ہیں، اور  اجیرِ  خاص  ملازمت کے مقررہ وقت پر حاضر رہنے سے اجرت (تنخواہ)  کا مستحق ہوتا ہے، اگر وہ  ملازمت کے اوقات میں  حاضر نہیں  رہاتو اس غیر حاضری کے بقدر تنخواہ  کا وہ مستحق نہیں ہوتا، لہٰذا اب آپ کے سوال کا جواب مندرجہ ذیل ہے:

      سرکار کی طرف سے مقررہ اوقات میں سکول میں حاضر رہنے کی صورت میں ہی کوئی استاد  اپنی تنخواہ کا مستحق ہوگا، اگر چہ کوئی کام نہ ہو،مقررہ وقت سے پہلے چلے جانے، یا تاخیر سے آنے  کی صورت میں غیر حاضر  ی والےاوقات کی تنخواہ لینا جائز نہیں، بغیر استحقاق کے جتنے عرصے کی تنخواہ لی ہے وہ سرکاری خزانے میں جمع کروانا ضروری ہے۔

تاہم اگرشروع یاآخر میں مجاز اٹھارٹی کی طرف سےکچھ منٹ کی چھوٹ ہوتو اتنی یا اس سے کم تاخیریا یاجلدی جانے سےتنخواہ پر اثر نہیں پڑے گا۔

حوالہ جات

المجلة - (1 / 82)

الأجير الخاص يستحق الأجرة إذا كان في مدة الإجارة حاضرا للعمل ولا يشترط عمله بالفعل ولكن ليس له أن يمتنع من العمل وإذا امتنع فلا يستحق الأجرة.

قال في الدر المختار (6 / 69):

«(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) المسمى بأجر مسمى بخلاف ما لو آجر المدة بأن استأجره للرعي شهرا حيث يكون مشتركا إلا إذا شرط أن لا يخدم غيره ولا يرعى لغيره فيكون خاصا وتحقيقه في الدرر وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل»

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

21/01/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب