03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ٍٍٍ ملازم کے لیے ڈیوٹی کے وقتِ مقرر سےایک گھنٹہ پہلے چھٹی کرنا
81003اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

کیافرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

         میں ایک سرکاری ملازم ہوں  اورہمارے ڈیوٹی کا آخری وقت اڑھائی بجے  ہے ،لیکن ہم لوگ ایک بجے چھٹی کرلیتے ہیں ،کیا  اس طرح جائز ہے یا نہیں؟ اگر لامحالہ سکول کے سب ہی اساتذہ  چھٹی کرتے ہوں  تو ایک استاد کے لیے اس سے بچنا کس طرح ممکن ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

   مسئولہ صورت میں ملازم  کیلئے ضروری  ہے  کہ مقررہ پورا وقت سکول میں گزارے لہذا اس کے لئے ڈیوٹی کے اوقات مقررہ سے پہلے چلے جانا ،ناجائز ہے،لہٰذا ڈیوٹی کے ایام میں ملازم جتنے دن وقت سے پہلے گیا ہو اُتنے اوقات کی تنخواہ لینا اس کیلئے جائز نہیں ،یہ تنخواہ گورنمنٹ کو واپس کرناضرورہے،نیز اس پر لازم ہے کہ اس کوتاہی اور خیانت پر صدقِ دل سے توبہ اور استغفار کرے اور آئندہ اس سے بچنے کا پورااہتمام کرے۔

    البتہ کبھی کبھار کوئی کام پڑ جائے تو سربراہ ادارہ کو اطلاع کر کے کچھ وقت کے لیے جانے کی اجازت بالعموم اداروں میں ہوتی ہے لیکن مستقل ہی دیر سے آنا اور وقت سے پہلے ہی چلے جانے کی اجازت نہیں ہوتی،لہذا جو طے ہے اس کے مطابق ہی آنا جانا ضروری ہے، کم وقت دینا جائز نہیں ہے۔

    اگرپوراسکول اس طرح کرتاہے تو ان کو سمجھائے ورنہ تو خود پوراوقت سکول پر حاضررہےاورکل کے اسباق کی تیاری کرے،طلبہ سے متعلق کسی اورکام میں اپنے کو مصروف رکھے اوراگرکوئی کام نہ  ہوتوبھی بہرحال اپنا وقت پورا کرکے سکول سے جائے تاکہ تنخواہ میں حرام عنصر شامل ہونے سے بچ سکے۔

حوالہ جات

قال في الدر المختار (6 / 69):

وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل»

المجلة - (1 / 82)

الأجير الخاص .....إذا امتنع(نفسہ من العمل فی المدة ) فلا يستحق الأجرة.

الفتاوی الهندية (۴۱۶/۴)

اذا استاجر رجلا یوما لیعمل کذا، فعلیہ أن یعمل ذالک العمل الی  تمام المدّۃ، ولا یشتغل بشئی آخر سوی المکتوبۃ، وفی فتاوی أہل سمرقند قد قال بعض مشایخنا رحمہم اللہ تعالی: أن لہ أن یؤدی السنۃ أیضا، واتفقوا أنہ لا یؤدی نفلا وعلیہ الفتوی .

وفی فتح القدير للكمال ابن الهمام :

"أن ‌الأجير ‌الخاص هو الذي يستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة ، وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو لرعي الغنم.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

21/محرم 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب