03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میراتجھ سے کوئی رشتہ نہیں اور دیگرکنایات سے طلاق کاحکم
80732طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

میرانام صائمہ بنت عطاء محمد ہے،میری شادی زاہد علی کے ساتھ ہوئی تھی جو کہ اسلام آبادمیں رہائش پذیر ہیں، ہماری شادی کو تین سال کا عرصہ ہو گیا ہے، میرا سوال یہ ہے کہ شادی کے ان تین سالوں میں میرے شوہر نے" تمہیں طلاق دے دوں گا "کے الفاظ بہت مرتبہ بولے ہیں ،لیکن پچھلے ڈیڑھ سال سے ہر بات کے جواب میں  کہتے ہیں "دوسرا شوہر ڈھونڈ لو" ان باتوں اور گھر کے کچھ دیگرمسائل کی وجہ سے میں فروری 2023 میں میکے میں آگئی ہوں، اس کے بعد زاہد نے صرف ایک ہی رٹ لگا لی ہے کہ اپنا سامان لے جاؤ اور وائنڈ اپ کرو، بارہا  زبانی بھی اور کال  پر بھی انہوں نے بولا کہ "میں طلاق کے پیپرز تیار کروا رہا ہوں" میرے بھائی کو انہوں نے صاف بول دیا تھا کہ اس کی کسی اور سے شادی کروا دو، ان پانچ مہینوں میں زاہد نے کئی مرتبہ بولا کہ" میں یہ شادی نہیں چلا سکتا" تقریباً دو سے تین ہفتے پہلے میں اپنی والدہ اور ماموں کے ساتھ گئی تھی تا کہ صلح صفائی ہو سکے لیکن میرے سسر اور شوہر نے کہا کہ "اپنا سامان لے جائیں اور ختم کریں" اور اس کے بعد سب لوگوں کی موجودگی میں زاہد نے کئی مرتبہ دہرایا کہ "میں نہیں چل سکتا اس شادی کو لے کر میری اس کے ساتھ ختم ہے میرا کوئى تعلق نہیں" اس صورتحال میں میری راہنمائی فرمائیں۔

    ذیل میں وہ تمام باتیں درج ہیں جو مجھے زاہد نے ان تین سالوں میں تقریباً روز بولیں اور جن کے بعد کافی عرصہ سے میں الجھن میں رہی کہ ہمارا نکاح رہا بھی ہے یا  ٹوٹ گیاہے:-

1- "طلاق دے دوں گا/ چھوڑ دوں گا" ،مجھے تمہاری ضرورت نہیں ۔

2- مجھے دین اور اللہ کی باتیں نہ سکھاؤ" تمہارا مجھ سے ایسا کوئی رشتہ نہیں" تمہارا کیا کام ہے مجھے کوئی بھی بات بتانا اللہ رسول  کی، میں زیادہ نہیں چل سکتا۔

3-"  دوسرا شوہر /دوسرا بندہ ڈھونڈ لو" ( یہ الفاظ ہر بنیادی ذمہ داری کے جواب میں تقریباً روز بولے گئیں ہیں)

4- "اپنا سامان اٹھا لو اور وائنڈ اپ کرو / نہ تمہیں رکھوں گا نہ چھوڑوں گا" ایسے ہی پھرتی رہو۔

5۔آخری مرتبہ جب ہم لوگ گئے  تھے توجوالفاظ بار بار دہرائےتھےوہ یہ ہیں:-"میں یہ شادی نہیں رکھ سکتا ،میں اس کے ساتھ نہیں چل سکتا ،میری طرف سے اس کے ساتھ تعلق ختم ہے، اپنا سامان لے جاؤ، میرا اس کے ساتھ تعلق ختم ہے آج  سے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 ١۔  "طلاق دیدوں گا/چھوڑدوں گا" سےتو کوئی طلاق نہیں ہوئی؛ کیونکہ یہ وعدہ طلاق اور طلاق کی دھمکی کے الفاظ ہیں جن سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔اسی طرح"مجھے تمہاری ضرورت نہیں" کے الفاظ سےبھی طلاق واقع نہیں ہوئی ، اگرچہ طلاق کی نیت کی ہو۔

۲۔ ان جملوں سےبھی کوئی طلاق نہیں ہوئی کیونکہ "تمہارا مجھ سے ایساکوئی رشتہ نہیں ہے"سے  خاوند،بیوی والارشتہ مراد نہیں ہے،بلکہ مطلب یہ ہے کہ ہمارےدرمیان پیری مریدی والاکوئی ایسا رشتہ نہیں  ہےکہ جس کی وجہ سے تم مجھےاللہ رسول کی باتیں سناتی رہو۔

۳-"  دوسرا شوہر /دوسرا بندہ  ڈھونڈ لو"یہ جملہ عربی جملہ "ابتغي الأزواج" کا ترجمہ ہے اوریہ  کنائی الفاظ میں سے ہے لہذا اگرشوہرنےاس سے طلاق کی نیت کی ہوتو اس سے ایک طلاق بائن واقع ہوگئی اور اس کے بعد جتنے بھی کنائی الفاظ آپ کے شوہرنے   کہے ہیں ان سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی،اس لیے کہ طلاقِ بائن کے ساتھ دوسری بائن ملحق نہیں ہوتی۔

۴،۵۔  اگرپچھلے جملے "  دوسرا شوہر /دوسرا بندہ ڈھونڈ لو"سے شوہرنے نے طلاق کی نیت کی ہوتو اس جملے "اپنا سامان اٹھا لو اور وائنڈ اپ کرو"یعنی ختم کروسے کوئی طلاق نہیں ہوئی اس لیے اس لیے کہ طلاقِ بائن کے ساتھ دوسری بائن ملحق نہیں ہوتی۔اوراگر اگرپچھلے جملے سے شوہر نے طلاق کی نیت نہ کی ہواوراس جملے سے کی ہوتوپھر اس جملےسےایک طلاق بائن واقع ہوگی،اورپھراس کے بعد والے جملوں سے بھی کوئی طلاق نہیں ہوگی کیونکہ بائن بائن کولاحق نہیں ہوتی۔

        خلاصہ یہ ہے کہ نمبر دو کے بعدجس بھی مذکورکنائی لفظ سے شوہرنے طلاق کی نیت کی ہو اس سے ایک طلاقِ بائن واقع ہوجائےگی اورپھر اس کے بعد والے کنائی الفاظ سے دوسری کنائی طلاق واقع نہیں ہوگی کیونکہ بائن کے بعدبائن لاحق نہیں ہوتی،لہذا مسئولہ صورت میں صرف ایک طلاقِ بائن واقع ہوئی ہے اورطلاقِ بائن  کا  حکم یہ ہے کہ  اب آپ کے شوہر رجوع  تونہیں کرسکتے،البتہ اگر دوبارہ آپ دونوں کااکھٹے رہنے کا ارادہ ہواوراس سے پہلے تین طلاقیں مکمل  نہ ہوئی ہوں تو باہمی رضا مندی سے شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے عوض دوبارہ نیا نکاح  آپ کرسکتے ہیں،نکاح کرنے کی صورت میں آئندہ آپ کے شوہر کو باقی دوطلاقوں کا اختیار ہوگا،لہٰذا آئندہ طلاق کے معاملہ میں بہت احتیاط کی ضرورت ہوگی۔

حوالہ جات

وفی الھندیہ: (384/1، ط: رشیدیة)

فقال الزوج أطلق (طلاق می کنم) فکررہ ثلاثاً طلقت ثلاثاً بخلاف قولہ: سأطلق (طلاق می کنم) لأنہ

استقبالٌ فلم یکن تحقیقا بالشک.

بدائع الصنائع: (237/4)

ولو قال لا حاجة لي فيك لا يقع الطلاق وإن نوى لأن عدم الحاجة لا يدل على عدم الزوجية فإن الإنسان قد يتزوج بمن لا حاجة له إلى تزوجها فلم يكن ذلك دليلا على انتفاء النكاح فلم يكن محتملا للطلاق ۔
الھندیۃ: (375/1)

قد اتفقوا جميعا أنه لو قال والله ما أنت لي بامرأة أو لست والله لي بامرأة فإنه لا يقع شيء وإن نوى ولو قال لا حاجة لي فيك ينوي الطلاق فليس بطلاق۔

في الہندیة:

 وبابتغي الأزواج تقع واحدة بائنة إن نواھا (الفتاوی الہندیة: ۱/ ۳۷۵، الفصل الخامس في الکنایات، ط: دار الفکر)

وفیہ ٲیضاً:

ولو قال لها: لا نكاح بيني وبينك، أو قال: لم يبق بيني وبينك نكاح، يقع الطلاق إذا نوی۔(الھندیة،٣٧٥/١)

وفی المحيط البرهاني:

ولو قال لا نكاح بيني وبينك. ذكر الصدر الشهيد رحمه الله في «واقعاته» : إنه إذا نوى الطلاق يقع، ولم يحْك خلافا. (المحيط البرهاني: 3/ 235).

وفی فتاوی محمودیة:

صورت مسئولہ میں اگر شوہر نے طلاق کی نیت یا جھگڑے کے وقت یہ جملہ (میرا تم سے آج سے کوئی

رشتہ ناطہ، کوئی تعلق نہیں)کہا ہے تو ایک طلاق بائن واقع ہوجائے گی، اور اگر بلا نیت طلاق کہا ہو تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔ (فتاویٰ محمودیہ: 12/ 550)

وفی الدر المختار (3 / 308)

(لا) يلحق البائن (البائن).

وفی کنز الدقائق:

البائن یلحق الصریح لا البائن الا اذا کان معلقا۔(کنز الدقائق،کتاب الطلاق)

الھدایة: (257/2، ط: دار احیاء التراث العربی)

وإذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائھا؛ لأن حل المحلیة باق لأن زواله معلق بالطلقة الثالثة فینعدم قبله.

 سیدحکیم شاہ عفی عنہ

   دارالافتاءجامعۃالرشید

    3/1/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب