03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ذوی الارحام میں ترکہ کی تقسیم کا حکم
81229میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

رضیہ والدین کی اکلوتی بیٹی تھی۔ والدین فوت ہوگئے تو رضیہ کا ایک چچا(انور) تھاجو رضیہ کے باپ کا ماں شریک بھائی تھا، اس نے رضیہ کو باپ کے بعد سنبھالا تھا۔ وہ ماں شریک چچا بھی رضیہ سے پہلے فوت ہوگیا اور اس کا ایک بیٹا اور دو بیٹیاں زندہ ہیں۔ اس کے علاوہ رضیہ کی سگی پھوپھی ہے، رضیہ کے والد کی وراثت میں زمین کی وجہ سے پھوپھی اپنا حصہ تیس لاکھ پہلے رضیہ سے لے کر گئی تھی۔ اب اس پھو پھی کی تین  بیٹیاں اور دو پوتے زندہ ہیں۔ وہ بیٹیاں رضیہ کی وراثت میں اپنا حصہ مانگ رہیں ہیں۔  رضیہ کا ایک ماموں زاد اور ایک خالہ زاد بھائی بھی زندہ ہیں۔ ان میں سے کون وارث بنے گا اور اس کو کتنی ملکیت ملے گی؟ رقم ایک کروڑ روپے ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پھوپھی کی تینوں بیٹیاں، ماموں زاد اور خالہ زاد ورثاء بنیں گے۔ ترکہ کو اٹھارہ  حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جس میں سے بارہ حصے پھوپھی کی بیٹیوں کو اور تین تین حصے ماموں زاد اور خالہ زاد کو ملیں گے۔ جدول کے مطابق ترکہ کو تقسیم کیا جائے گا۔

ورثاء

عددی حصے

فیصدی حصے

ترکہ

پھوپھی بیٹی 1

4

22.2222

2222222.222

پھوپھی بیٹی 2

4

22.2222

2222222.222

پھوپھی بیٹی 3

4

22.2222

2222222.222

ماموں زاد

3

16.6666

1666666.666

خالہ زاد

3

16.6666

1666666.666

ٹوٹل

18

100٪

10000000

حوالہ جات

تسهيل الفرائض (ص: 55)

ميراث أولاد الأم

لا يرث أولاد الأم، إلّا إذا لم يوجد للميت فرع وارث ولا ذكر من الأصول وارث. فإن وجد للميت فرع وارث، أو ذكر وارث من الأصول، سقط أولاد الأم.

تسهيل الفرائض (ص: 72)

وذوو الأرحام من الحواشي هم:

1- جميع الإناث سوى الأخوات، كالعمة والخالة وبنات الأخ وبنات الأخت وبنات العم..... أحوال ذوي الأرحام ثلاث:

الأولى: أن يكون الموجود واحداً فله جميع المال بالتعصيب إن أدلى بعاصب، وبالفرض والرد إن أدلى بذي فرض. الثانية: أن يكون الموجود اثنين فأكثر والمُدْلَى به واحد، فلهم جميع المال أيضاً؛ لأن المُدْلَى به إما عاصب يحوز جميع المال بالتعصيب، وإما صاحب فرض يستحق جميع المال فرضاً وردّاً. الحال الثالثة: أن يكون الموجود من ذوي الأرحام اثنين فأكثر، والمدلى بهم اثنان فأكثر؛ فنقسم المال أولاً بين المدلى بهم كان الميت مات عنهم، ومن سقط منهم سقط من يدلى به، ثم نقسم نصيب كل واحد من المدلى بهم على من يدلون به على حسب إرثهم منه، غير أن الذكر والأنثى سواء.

عنایت اللہ عثمانی

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

91/صفر الخیر / 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عنایت اللہ عثمانی بن زرغن شاہ

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب