| 81257 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ہمارا مکان اکتالیس لاکھ میں فروخت ہورہاہے۔ ورثاء میں امی، دو بہنیں اور دو بھائی زندہ ہیں۔ رہنمائی فرمائیں کہ ازروئے شریعت یہ ہمارے درمیان کیسے تقسیم ہوگی۔ ہمارا ایک تیسرا بھائی بھی تھا ، ابو کی حیات میں اس کا انتقال ہوا تھااس کے بچے حیات ہیں۔
وضاحت: سائلہ نے بذریعہ واٹس ایپ زبانی وضاحت کی کہ بھائی گھر بیچنے نہیں دے رہے ہیں اور بیچنے کے لیے بلڈر سے ہمارے سامنے قیمت بھی کم لگوا رہاہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال کے جواب سے پہلے یہ بات ملاحظہ فرمائیں کہ بھائیوں کا گھر کی قیمت مارکیٹ کی قیمت کے بجائےاپنی مرضی سے لگانا ، جو اس کی اصل قیمت سے واضح طور پرکم ہو، ظلم اور ناجائز ہے۔گھر کی قیمت دو غیر جانبدار گھروں کی مالیت سے واقف اور عادل آدمیوں سے لگوا کر اس کے مطابق حصّہ داروں کو ان کا حق دینا ضروری ہے۔
آپ کے والد مرحوم نے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں مذکورہ گھر ، سونا، نقدی، چاندی، جائیداد، مکانات، کاروبار، غرض جو کچھ چھوٹا، بڑا ساز و سامان چھوڑا ہے، یا اگر کسی کے ذمہ ان کا قرض تھا، تو وہ سب اس کا ترکہ یعنی میراث ہے۔ اس میں سے سب سے پہلے اس کی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالے جائیں، البتہ اگر یہ اخراجات کسی نے بطورِ احسان اٹھائے ہوں تو پھر انہیں ترکہ سے نہیں نکالا جائے گا۔ اس کے بعد دیکھا جائے اگر اس کے ذمے کسی کا قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے۔ اس کے بعد اگر اس نے کسی غیر وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی ترکہ کی حد تک اس کو پورا کیا جائے۔اس کے بعد جو کچھ بچ جائے،اُس میں ورثاء کےحصے درجہ ذیل نقشے میں درج ہیں:
|
ورثاء |
عددی حصے |
فیصدی حصے |
|
بیوی |
6 |
12.5% |
|
بیٹا 1 |
14 |
29.1666 |
|
بیٹا 2 |
14 |
29.1666 |
|
بیٹی 1 |
7 |
14.5833 |
|
بیٹی 2 |
7 |
14.5833 |
|
ٹوٹل |
48 |
100٪ |
نوٹ: جائیداد کی حقیقی قیمت اسی تناسب سے تقسیم کریں ۔
نوٹ: آپ کے مرحوم بھائی کا انتقال چونکہ والد کے انتقال سے پہلے ہوا ہے لہٰذا اس کے ورثاء والد کے ورثاء میں شمار نہیں ہوں گے۔ اگر باقی ورثاء اپنی مرضی سے اپنے حصے سے ان کے ورثاء کو کچھ دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں۔
حوالہ جات
{لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَفْرُوضًا (7) وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينُ فَارْزُقُوهُمْ مِنْهُ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَعْرُوفًا} [النساء: 7، 8]
{ يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ} [النساء: 11]
عنایت اللہ عثمانی عفی اللہ عنہ
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
23/صفر الخیر / 1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عنایت اللہ عثمانی بن زرغن شاہ | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


