03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عدالتی خلع کا حکم
81337طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

مسماۃ زینب بی بی (فرضی نام )کا نکاح زید(فرضی نام )سے تقریباً سن 2000ء میں ہوا۔ دونوں کے تین بچے پیدا ہوئے۔ سن 2017ء میں کچھ گھریلوں ناچاقیاں پیدا ہوئی، جس کی وجہ سے حلیمہ اپنے بھائیوں کے گھر چلی گئی۔ زید(فرضی نام )نے صلح کے لیے منت سماجت کی مگر بھائیوں نے صلح کسی صورت قبول نہیں کی۔ زید ایک دن صبح کے نماز کے بعد قرآن کریم اٹھاکر سسرال والوں کو منانے ان کے گھر گئے۔ ان کی معذور بچی کی وجہ سے قرآن کا واسطہ دے کر کہا کہ کہ میری اولاد  کو نہ رلاؤ۔ سسرال والوں نے چند شرائط کے ساتھ صلح کو تسلیم کیا۔ جھگڑے کی صورت میں پانچ لاکھ  کے اسٹام لکھوانے کے ساتھ دیگر شرائط بھی تسلیم کیے۔ تقریباً ڈیڑھ سال بعد ناچاقیاں پھر سے پیدا ہوئی  جس کی وجہ سے حلیمہ بھائی کے ساتھ عدالت گئی اور زید کے خلاف چند دعوے کیے: 1۔ دعوی تنسیخ نکاح، 2۔ دعوی حق مہر دلانے، 3۔ وہ زیورات جو ماں کے گھر سے لائی تھی، 4۔ سامان جہیز  اور اولاد کا خرچہ وغیرہ۔

زید بنابر مجبوری عدالت حاضر ہوا ، وکیل کیا اور وکیل نے جواب دعوی لکھا۔ وہ خود ایک دیہاتی آدمی ہے، جوابِ دعوی پڑھے سنے بغیر آخر میں دستخط کردیئےاور عدالت میں جمع کروادیا۔ تین سال تک کیس چلتا رہا، زید صلح کی کوشش کرتا رہا اور حلیمہ  تنسیخ نکاح پر ڈٹی رہی۔ آخرکار فیملی کورٹ نے  خلع کا فیصلہ لکھ دیا ۔ خلع کی ڈگری پر زید سے نہ انگھوٹا لگوایا نہ کسی قسم کا دستخط کروایا۔  نہ زید کو اور نہ اس کے وکیل کو فیصلے کا علم تھا۔ جب ریکارڈ روم سے عدالتی فیصلہ نکلوایا تو پتہ چلا کہ یہ فیصلہ خلع کا ہے۔ ازراہِ مہربانی ہمیں صحیح مسئلہ سمجھائیں کہ عدالت کی ڈگری کی وجہ سے شرعاً  یہ خلع درست ہے یا نہیں؟ طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟ (بتغییر یسیر: نام تبدیل)

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق خلع کے عدالتی فیصلے سے شوہر اور نہ اس کا وکیل باخبر تھا اور  عدالت کی طرف سے جاری شدہ فیصلہ پر شوہر نے  دستخط بھی نہیں کیے، لہذا اگر شوہر نے ابھی تک زبان سے اس فیصلے پر رضامندی کا اظہار  نہیں کیا ہے تو اس صورت میں عدالت کی طرف سے جاری کردہ خلع کا یک طرفہ فیصلہ شرعاً معتبر نہیں، کیونکہ خلع کے شرعاً درست ہونے کے لیے فریقین کی باہمی رضامندی کا ہونا ضروری ہے، جبکہ مذکورہ صورت میں شوہر کی طرف  سے رضامندی نہیں پائی گئی، نیز منسلکہ فیصلہ میں فسخِ نکاح کی وجوہ میں سے کوئی وجہ بھی موجود نہیں، اس لیے اس فیصلہ کو تنسیخِ نکاح پر بھی محمول نہیں کیا جا سکتا، لہذا فریقین کے درمیان بدستور نکاح قائم ہے اور عورت کا اپنے شوہر سے طلاق یا باہمی رضامندی سے خلع لیے بغیر دوسری جگہ نکاح کرنا جائز نہیں۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 440) دار الفكر-بيروت:

في التتارخانية وغيرها: مطلق لفظ الخلع محمول على الطلاق بعوض؛ حتى لو قال لغيره اخلع امرأتي فخلعها بلا عوض لا يصح (قوله: أو اختلعي إلخ) إذا قال لها اخلعي نفسك فهو على أربعة أوجه: إما أن يقول بكذا فخلعت يصح وإن لم يقل الزوج بعده: أجزت، أو قبلت على المختار؛ وإما أن يقول بمال ولم يقدره، أو بما شئت فقالت: خلعت نفسي بكذا، ففي ظاهر الرواية لا يتم الخلع ما لم يقبل بعده۔

بداية المجتهد ونهاية المقتصد (3/ 90) دار الحديث – القاهرة:

المسألة الثالثة: وأما ما يرجع إلى الحال التي يجوز فيها الخلع من التي لا يجوز: فإن الجمهور على أن الخلع جائز مع التراضي إذا لم يكن سبب رضاها بما تعطيه إضراره بها.

والأصل في ذلك قوله تعالى: {ولا تعضلوهن لتذهبوا ببعض ما آتيتموهن إلا أن يأتين بفاحشة مبينة} [النساء: 19] وقوله تعالى: {فإن خفتم ألا يقيما حدود الله فلا جناح عليهما فيما افتدت به} [البقرة: 229]۔

عنایت اللہ عثمانی عفی اللہ عنہ

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

27/صفر الخیر / 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عنایت اللہ عثمانی بن زرغن شاہ

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب