03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بغیر اطلاع اسکول چھوڑنے پر استاذ کی تنخواہ روکنے کا حکم اور اس کا متبادل
81330اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلملازمت کے احکام

سوال

میرا ایک اسکول ہے جو میں 2013ء سے چلا رہا ہوں، ان دس سالوں میں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جن کا حل 2019ء سے قبل اپنے ذہن کے مطابق نکالا کرتا تھا، مثلا جرمانہ لگانا، اطلاع دئیے بغیر جانے پر استاذ کی تنخواہ روک دینا، وغیرہ وغیرہ۔ لیکن 2020ء میں نے کلیۃ الشریعۃ میں داخلہ لیا تو ان تمام قباحتوں سے اجتناب شروع کیا، ان چار سالوں میں مجھے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اگر ان معاملات میں میری مدد ہوجائے تو میرے لیے آسانی ہوگی۔

پہلے ہم استاذ کی ہر ماہ کی تنخواہ سے کچھ کٹوتی کرتے تھے، یہاں تک کہ وہ مجموعی طور پر اس کی ایک تنخواہ کی مقدار ہوجاتی۔ ہم اس ایک تنخواہ کو بطورِ سیکیورٹی اپنے پاس روکتے تھے اور بغیر اطلاع اسکول چھوڑنے پر اس کو ضبط کرتے تھے۔ 2019ء کے بعد جب ہم نے ادارہ چھوڑ کر جانے پر تنخواہ دینا شروع کیا تو اساتذہ نے ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی ادارہ چھوڑ کر جانا شروع کیا اور وہ بھی تعلیمی سال کے درمیان میں، جس کے کئی منفی اثرات مرتب ہوئے، مثلا بچوں کی پڑھائی کا حرج، نئے استاذ کا نہ ملنا؛ کیونکہ جہاں ہمارا ادارہ ہے وہاں کم و بیش 240 اسکول مزید ہیں، کئی بار ایک ماہ تک استاذ کی عدمِ موجودگی کی وجہ سے نئے تعلیمی سال میں لوگوں کا اسکول چھوڑ کر جانا، ٹیچرز کا یہ کہہ کر جانا کہ ہمیں معلوم ہے سر تنخواہ نہیں روکیں گے۔  

اب ہم تنخواہ ضبط تو نہیں کرسکتے، لیکن اگر ہم یہ کریں کہ استاذ جب بغیر اطلاع جائے تو اس کی یہ تنخواہ جو اب تک اس کو نہیں دی گئی، وہ غیر متعین مدت تک یا پھر سال کے اختتام تک تنخواہ روک لیں اور دیکھ لیں کہ اس کے جانے کی وجہ سے ہمیں کوئی نقصان ہوا یا نہیں، مثلا اگر اس کی وجہ سے بچے چھوڑ کر گئے ہوں تو ان کی جتنی فیسز کا ہمیں نقصان ہو، وہ ہم اس استاذ کی تنخواہ سے پورا کریں اور بقیہ تنخواہ امانت سمجھتے ہوئے اس کو دیدیں تو کیا ایسا کرنا جائز ہوگا؟ یہ استاذ کے لیے بغیر اطلاع جانے سے ایک رکاوٹ بنے گی اور ادارے کو بھی سنبھلنے کا موقع ملے گا۔

نیز کیا ہم ادارے اور اساتذہ کے درمیان شرطِ جزائی لگاسکتے ہیں کہ اگر آپ نے ادارہ چھوڑنے سے دو ماہ قبل اپنا عذر پیش کر کے رخصت طلب کی یا پھر تعلیمی سال مکمل کرنے پر اپنی سیکیورٹی طلب کی تو ہم دیں گے، بصورتِ دیگر یہ سیکیورٹی آپ کو نہیں دی جاسکتی؛ کیونکہ ادارے کو حقیقی معنوں میں ضرر لاحق ہوتا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اسکول اور استاذ کے درمیان جو عقد ہوتا ہے، اسے شریعت کی اصطلاح میں "اجارہ" کہا جاتا ہے۔ اجارہ عقدِ لازم ہے، مدتِ اجارہ مکمل ہونے سے پہلے کسی بھی فریق کے لیے اس کو  بغیر عذرِ شرعی یک طرفہ طور پر ختم کرنا جائز نہیں۔ لہٰذا اساتذہ کا تعلیمی سال کے دوران معاہدے میں طے شدہ شرط کے مطابق پیشگی اطلاع دئیے بغیر اسکول چھوڑ کر جانا صحیح طرزِ عمل نہیں، اس سے اجتناب ضروری ہے، استاذ پر لازم ہے کہ جب وہ ادارہ سے جانا چاہے تو معاہدے کے مطابق مہینہ، دو مہینہ (یا جو بھی مدت طے ہوئی ہو) پہلے ادارہ کو مطلع کرے۔

تاہم اگر کوئی استاذ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مدتِ اجارہ کے دوران اطلاع دئیے بغیر جاتا ہے تو اس کی وجہ سے اس کی تنخواہ ضبط کرنا درست نہیں، البتہ (مختلف مہینوں میں تھوڑی تھوڑی کٹوتی کے نتیجے میں جمع ہونے والی) اس کی جو تنخواہ  بطورِ سیکیورٹی ادارے کے پاس موجود ہو، اس کو کچھ عرصے تک روکنے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے، لیکن بعد میں وہ پوری تنخواہ واپس کرنا لازم ہوگا۔ اگر اس استاذ کی وجہ سے کچھ بچے چلے جائیں تو ان کی اگلے مہینوں کی فیسوں کو نقصان قرار دے کر اس استاذ کی تنخواہ سے وصول کرنا درست نہیں۔ اسی طرح اگر اگلے سال داخلے کم ہوں تو اس کے بقدر فیسوں کو نقصان قرار دے کر اس استاذ کی تنخواہ سے وصول کرنا بھی درست نہیں؛ کیونکہ یہ مالی جرمانہ ہی کی ایک شکل ہے۔  

جہاں تک شرطِ جزائی کا تعلق ہے تو سوال میں ذکر کردہ ترتیب کے مطابق وہ بھی نہیں لگاسکتے؛ کیونکہ یہ بھی در حقیقت مالی جرمانہ ہے، جو کہ جائز نہیں۔

البتہ اگر اجارہ کا عقد کرتے وقت ہی یہ بات طے ہو کہ اگر استاذ معاہدہ کے مطابق کام کرے گا اور ادارہ چھوڑنے کی صورت میں معاہدے کے مطابق اتنی مدت پہلے اطلاع دے گا تو اس کی سالانہ اجرت اتنی (تنخواہ کی جو سالانہ مقدار بنتی ہو) ہوگی، اور اگر معاہدے کے مطابق کام نہیں کرے گا اور ادارہ چھوڑنے سے پہلے اطلاع نہیں دے گا تو اس کی سالانہ اجرت اتنی (ادارہ اصل اجرت میں جتنی کمی کرنا چاہتا ہے، وہ) ہوگی تو اس کی گنجائش معلوم ہوتی ہے؛ کیونکہ اجارہ میں اجرت کی تردید جائز ہے، بشرطیکہ اس کی کوئی معقول وجہ ہو۔ صورتِ مسئولہ میں چونکہ اجارہ کا عقد پورے سال کے لیے ہوتا ہے، اس لیے استاذ کے ذمے پورا سال تعلیم کا عمل اصول و ضوابط کے مطابق جاری رکھنا لازم ہے۔ پھر پورا سال عمل کرنے یا کسی عذرِ شرعی کے بغیر درمیان میں عمل چھوڑنے سے پہلے بروقت اطلاع دینے اور بروقت اطلاع نہ دینے کے ادارے اور اس کے نظام پر جو اثرات پڑتے ہیں، ان میں فرق واضح ہے، (سوال میں بھی اس کا ذکر آچکا ہے)۔ لہٰذا جب اجارہ میں اجرت کی تردید جائز ہے تو جس طرح فقہائے کرام رحمہم اللہ نے عمل کی نوعیت، زمان، مکان، حمل اور مسافت کے اختلاف کی وجہ سے اجرت میں تردید کی گنجائش دی ہے، اسی طرح معاہدہ پر عمل کرنے اور معاہدہ کی خلاف ورزی کے اثرات کے اختلاف کی بنیاد پر بھی اجرت میں تردید کی گنجائش معلوم ہوتی ہے۔ (باستفادۃٍ من امداد الفتاوی: 2/529)     

اس طرح اجرت کی تردید کے بعد معاہدے کے مطابق کام کرنے کی صورت میں بننے والی سالانہ اجرت کو مہینوں پر تقسیم کر کے استاذ کو اس میں سے ہر ماہ اتنی  اجرت دی جائے جو معاہدے کے مطابق کام نہ کرنے کے نتیجے میں بنتی ہو، باقی کو روک لیا جائے، اور اس کی وضاحت معاہدہ کے وقت ہی استاذ کے سامنے کی جائے۔ پھر اگر استاذ معاہدے کے مطابق کام کرتا ہے اور سال کے درمیان میں ادارہ چھوڑنے کی صورت میں معاہدے کے مطابق پہلے سے اطلاع دیتا ہے تو اس کی پوری رقم اس کو واپس کی جائے؛ کیونکہ اس صورت میں وہ پہلی تنخواہ کا مستحق ہوگا، لیکن اگر وہ معاہدے کی خلاف ورزی کر کے عذرِ شرعی کے بغیر سال کے درمیان میں جاتا ہے اور جانے سے پہلے بر وقت اطلاع نہیں دیتا تو وہ رقم اس کو دینا ادارہ کے ذمہ لازم نہیں؛ کیونکہ اس صورت میں وہ دوسری تنخواہ کا مستحق ہوگا جو اس کو مکمل دی جاچکی ہوگی۔   

حوالہ جات

المجلة (ص: 79):

المادة 406: الإجارة اللازمة هي الإجارة الصحيحة العارية عن خيار العيب وخيار الشرط وخيار الرؤية، وليس لأحد الطرفين فسخها بلا عذر.

المبسوط للسرخسي (15/ 183):

الفصل الثالث: أن يقول إن خطته اليوم فلك درهم، وإن خطته غدا فلك نصف درهم، …...قالا: إنه سمى عملين وسمى بمقابلة كل واحد منهما بدلا معلوما، فيجوز العقد، كما في الفصل الثاني. وهذا لأن عمله في الغد غير عمله في اليوم، ولصاحب الثوب في إقامة العمل في كل وقت غرض صحيح، وإنما يجب الأجر عند إقامة العمل، و لا جهالة عند ذلك.

المجلة (ص: 95):

المادة 506 : يصح ترديد الأجرة على صورتين أو ثلاث في العمل والعامل والحمل والمسافة والزمان والمكان ويلزم إعطاء الأجرة على موجب الصورة التي تظهر فعلا. مثلا لو قيل للخياط: إن خطت دقيقا فلك كذا وإن خطت غليظا فلك كذا، فأي الصورتين عمل له أجرتها. ولو استؤجر حانوت بشرط أنه إن أجرى فيه عمل العطارة فأجرته كذا وإن أجرى فيه عمل الحدادة فكذا، فأي العملين أجرى فيه يعطي أجرته التي شرطت. وكذا لو استكريت دابة بشرط إن حملت حنطة فأجرتها كذا وإن حملت حديدا فكذا، فأيهما حمل يعطي أجرته التي عينت، أو لو قيل للمكاري: استكريت منك هذه الدابة إلى جورلي بكذا، وإلى أدرنه، وإلى فلبه بكذا، فإلى أيهما ذهب المستأجر يلزمه أجرة ذلك. وكذا لو قال الآجر: آجرت هذه الحجرة بكذا وهذه بكذا، فبعد قبول المستأجر يلزمه أجرة الحجرة التي سكنها. وكذلك لو ساوم أحد الخياط على أن يخيط له جبة بشرط إن خاطها اليوم فله كذا، وإن خاطها غدا فله كذا، تعتبر الشروط.

درر الحكام شرح مجلة الأحكام (1/ 492):

يجوز الترديد في العمل اتفاقا؛ لأنه خيره بين عقدين صحيحين مختلفين، والأجر قد يجب بالعمل، وعند  العمل يرتفع الجهل ( مجمع الأنهر ) .

عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

        26/صفر المظفر/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب