03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جی ٹی ایم (GTM) ایپ کا حکم
81791اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ پلے اسٹور پر ایک اپلیکیشن ہے جی ٹی ایم کے نام سے۔ اس میں پانچ ہزار ،پندرہ ہزار ،مخصوص رقم طے ہےکہ اتنے پیسے لگا سکتے ہیں۔ اس سے کم زیادہ نہیں۔ پانچ ہزار پر ہر مہینہ 6ہزار روپے دیتےہیں ۔ وہ ہر روز ایک ٹاسک دیتے ہیں جس میں یوٹیوب کی پانچ ویڈیو دیکھ کر لائک کرنا اور اس چینل کو سبسکرائب کر کے سکرین شارٹ لے کر انہیں بھیجنا ہوتا ہے۔ وہ اس کام کے ہر روز 200 روپے دیتے ہیں۔ اگر یہ ٹاسک نہ کریں تو پیسے نہیں ملتے ۔ چھ مہینے بعد 5000ہزار جو شروع میں لگائے تھے وہ واپس کر دیتے ہیں ۔ یہ پیسے ہمارے لیے حرام ہونگے یا حلال؟؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کردہ آن لائن ارننگ کا طریقہ اپنی اصل کے اعتبار سے اجارہ (ملازمت)کا معاملہ بنتا ہے، لیکن شرعی اعتبار سے چند مفاسدپائے جانے کی وجہ سے یہ طریقہ جائز نہیں اور اس سے حاصل ہونے والی آمدن ناجائز ہے۔یہ مفاسد درج ذیل ہیں: 1. اجارہ کسی ایسی منفعت پر ہوسکتا ہے جو اصلا مقصود ہو اور شرعا اس کی اجرت لی جاسکے۔جبکہ مذکورہ طریقہ میں ویڈیوز دیکھنا اور انہیں لائیک کرنا ایسی منفعت نہیں جسے اصلا مقصود کہا جاسکے۔ 2. اس اجارہ کے کام کو حاصل کرنے کے لیے ابتداء میں رقم قرض کی طور پر دی جارہی ہےاور اسی رقم کی بنیاد پر آگے کام ملے گا، تو یہ قرض پر نفع حاصل کرنے کی وجہ سے سود بنے گا۔ 3. یہ طریقہ کار جعل سازی کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس طریقہ کار سے چینل یا اشتہارات پر جعلی ویوز لاکر یوٹیوب یا اشتہارات والی کمپنیوں کو دھوکہ دیا جاتا ہے۔ لہذا مذکورہ بالا مفاسد کی بنا پر جی ٹی ایم اور اس جیسی دیگر ایپ سے پیسے کمانا جائز نہیں۔

حوالہ جات

الدر المختار (6/ 4) وشرعا (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض) حتى لو استأجر ثيابا أو أواني ليتجمل بها أو دابة ليجنبها بين يديه أو دارا لا ليسكنها أو عبدا أو دراهم أو غير ذلك لا ليستعمله بل ليظن الناس أنه له فالإجارة فاسدة في الكل، ولا أجر له لأنها منفعة غير مقصودة من العين بزازية وسيجيء حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 4) (قوله مقصود من العين) أي في الشرع ونظر العقلاء، بخلاف ما سيذكره فإنه وإن كان مقصودا للمستأجر لكنه لا نفع فيه وليس من المقاصد الشرعية، وشمل ما يقصد ولو لغيره لما سيأتي عن البحر من جواز استئجار الأرض مقيلا ومراحا، فإن مقصوده الاستئجار للزراعة مثلا، ويذكر ذلك حيلة للزومها إذا لم يمكن زرعها تأمل.

عبدالقیوم

دارالافتاء جامعۃ الرشید

21/ربیع الثانی 1445

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالقیوم بن عبداللطیف اشرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب