03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زیور کی زکوة اورتقسیم
81326زکوة کابیانسونا،چاندی اور زیورات میں زکوة کے احکام

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

والدہ مرحومہ امینہ بیگم نے اپنے پیچھے تقریباً 13 تولہ سونا زیورات کی شکل میں چھوڑا ہے،جسکی موجودہ مالیت(24,63,000  )چوبیس لاکھ تھریسٹھ ہزار  روپے بنتی ہے، اس کی تقسیم شرعی اعتبار سے کیسے ہوگی ؟ اور اس پر کتنی زکوٰۃ واجب ہوگی اور کتنے سالوں کی زکوٰۃ والدہ مرحومہ کے ترکہ سے دینی فرض ہوگی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحومہ کے کفن دفن کے متوسط اخراجات ،قرض اوروصیت کی علی الترتیب ادائیگی کے بعد اگرمرحومہ کےانتقال کے وقت صرف یہی لوگ ہوں ،شوہرپانچ بیٹے اوردو بیٹیاں توکل منقولہ غیرمنقولہ ترکہ سےمرحومہ کے شوہر کو %25،ہربیٹے کو%12.5اورہربیٹی کو %دیئے جائیں گے،تفصیل درج ذیل جدول مٰیں ملاحظہ فرمائیں۔

نام وارث

حصہ روپو میں

حصہ فیصد میں

شوہرمحمدجمیل

615750

25%

بیٹا  شکیل

307875

12.5%

بیٹااسلم

307875

12.5%

بیٹامجاہد

307875

12.5%

بیٹااقبال

307875

12.5%

بیٹاکاشف

307875

12.5%

بیٹی ذکیہ

153937.5

6.25%

بیٹی شازیہ

153937.5

6.25%

ٹوٹل

2463000

100%

صورتِ مسئولہ میں سائل کی والدہ نے اگراپنے زیور کی زکاۃ ادا کرنے کی وصیت نہیں کی تھی، تو شرعاً ورثاء پر ان کے زیور کی زکاۃ ادا کرنا واجب نہیں، البتہ اگر تمام ورثاء (بشرطیکہ سب عاقل بالغ ہوں) زکاۃ ادا کرنے پر راضی ہیں تو مرحومہ کے ترکہ سے یا کوئی وارث اپنی طرف سے مرحومہ کے زیور کی زکاۃ ادا کردے تو یہ اس کی طرف سے تبرع اور احسان ہوگا، اور اللہ تعالیٰ سے قبولیت کی امید رکھنی چاہیے۔

اور جس وقت زکاۃ ادا کی جائے تو اس وقت سونے کی قیمتِ فروخت کے اعتبار سے گزشتہ سالوں کی زکاۃ ادا کی جائے۔ اس طرح سے کہ ہر سال مالِ زکاۃ کی رقم متعین کرکے ڈھائی فیصد زکاۃ نکالے، آئندہ سال کی زکاۃ نکالتے وقت سابقہ سال کی زکاۃ کو منہا کی جائے، اس طرح سے زکاۃ نکالتے نکالتے جب نقدی اور زیورات کی مجموعی مالیت مقدارِ نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت) سے کم ہوجائے تو اس کے بعد کے سالوں کی زکاۃ ادا کرنا لازم نہیں ہے۔

اگرسائل کے لیے زکوة نکالنا مشکل ہو تو جس وقت ادا کرنا ہو اس وقت اس پورے زیورکی مارکیٹ میں موجود قیمت معلوم کرکے ،سالوں کی تعداد لکھ کر دارالافتاء سے دوبارہ معلوم کرسکتاہے ۔

حوالہ جات

قال اللہ تعالی :

يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ....... وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ  [النساء/11]

التفسير الميسر - (ج 2 / ص 12)

ولكم -أيها الرجال- نصف ما ترك أزواجكم بعد وفاتهن إن لم يكن لهن ولد ذكرًا كان أو أنثى، فإن كان لهن ولد فلكم الربع مما تركن، ترثونه من بعد إنفاذ وصيتهن الجائزة، أو ما يكون عليهن من دَيْن لمستحقيه.

وفی البحر الرائق (8/ 567)

 والعصبة أربعة أصناف: عصبة بنفسه وهو جزء الميت وأصله وجزء أبيه وجزء جده الأقرب.

وفي بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:

"إذا كان لرجل مائتا درهم أو عشرين مثقال ذهب فلم يؤد زكاته ستين يزكي السنة الأولى، وليس عليه

للسنة الثانية شيء عند أصحابنا الثلاثة، وعند زفر يؤدي زكاة سنتين، وكذا هذا في مال التجارة". (2/7)

وفي الدر المختار وحاشية ابن عابدين:

"في الجوهرة: إذا مات من عليه زكاة أو فطرة أو كفارة أو نذر لم تؤخذ من تركته عندنا إلا أن يتبرع ورثته بذلك وهم من أهل التبرع ولم يجبروا عليه وإن أوصى تنفذ من الثلث." (2/359، ط: سعيد)

وفي الدر المختار:

"وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا يومَ الأداءَ وفي السوائم يوم الأداء إجماعا، وهو الأصح، ويقوم في البلد التي المال فيه ولو في مفازة ففي أقرب الأمصار إليه فتح".  (رد المحتار 2/286 باب زكاة الغنم)

حکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

30/صفر1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب