| 81289 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کیافرماتےہیں علمائےکرام اس مسئلہ کےبارےمیں کہ میرےشوہرنےپہلی طلاق کان میں بول دی،پھراسی رات رجوع بھی کرلیا،دوسری لڑکی کی وجہ سےہمارےدرمیان لڑائی ہوئی،اور15دن کےاندردوسری طلاق بھی دےدی،پھر4دن الگ رہنےکےبعدرجوع کیا،اس کےبعدکوئی لڑائی نہیں ہوئی ۔
ایک مہینہ بعد میرےشوہرنےآفس جاکرکال پرکہاکہ "میری طرف سےسب ختم" اورمیرےکمرےسےچلی جانا،جب میرےابو امی آئےتواس نےکہامیں نےشریعت کےطورپر بولاہے،حالانکہ اس نےطلاق کالفظ استعمال نہیں کیااوروہ کہتاہےمیں نےبولاہے،میں اللہ کی قسم کھاکرکہتی ہوں کہ اس نےتیسری طلاق نہیں دی،اس نےیہ کہاہےکہ میری طرف سےسب ختم ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں مذکورہ الفاظ سےاگرطلا ق کی نیت ہوتوطلاق ہوجاتی ہے،چونکہ شوہر کہہ رہاہےکہ میں نےشریعت کےطورپربولاہےیعنی طلاق کی نیت سےیہ الفاظ کہےہیں،لہذااس لفظ سےطلاق واقع ہوجائےگی، مذکورہ صورت چونکہ شوہردوطلاق پہلےبھی دےچکاہے،لہذا تین طلاق مغلظہ واقع ہوچکی ہیں،میاں بیوی بغیرحلالہ کےاب دوبارہ ساتھ نہیں رہ سکتے۔
حوالہ جات
"الفتاوى الهندية" 8 / 325:
ولو قال لها لا نكاح بيني وبينك أو قال لم يبق بيني وبينك نكاح يقع الطلاق إذا نوى
"الفتاوى الهندية" 8 / 329:وفي الفتاوى لم يبق بيني وبينك عمل ونوى يقع كذا في العتابية ۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
25/صفر 1445ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


