| 81670 | وقف کے مسائل | مسجد کے احکام و مسائل |
سوال
ہماری مسجد جوکہ بہت پہلے سے تعمیر ہے، اب اس کو شہید کر کے دوبارہ تعمیر کیا جا رہا ہے ،نئے نقشے کے مطابق مسجد کے صحن کے نیچے بیت الخلا اور وضو خانے بنانے ہیں جب کہ اوپر مسجد کا صحن ہو گا ،جو کہ مسجد کی حدود سے باہر ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ایسی صورت میں اس صحن کے نیچے بیت الخلاء اور وضو خانہ بنانا درست ہے،بشرطیکہ یہ صحن یا اس کا کچھ حصہ سابقہ نقشہ کے مطابق نماز کےلیےمختص شدہ جگہ پرمشتمل نہ ہو،نیز ایسی صورت میں ان بیت الخلاؤں کی صفائی کا مؤثر ومستقل نظام کا یقینی بنانا بھی ضروری ہے تاکہ مسجد بیت الخلاؤں کی بدبو سےمتاثر نہ ہو۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 358)
لو بنى فوقه بيتا للإمام لا يضر لأنه من المصالح، أما لو تمت المسجدية ثم أراد البناء منع ولو قال عنيت ذلك لم يصدق تتارخانية،
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 357)
(وإذا جعل تحته سردابا لمصالحه) أي المسجد (جاز) كمسجد القدس
بخلاف ما إذا كان السرداب والعلو موقوفا لمصالح المسجد، فهو كسرداب بيت المقدس هذا هو ظاهر الرواية وهناك روايات ضعيفة مذكورة في الهداية. اهـ.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/656):
وکرہ تحرہیما الوطء فوقہ ، والبول والتغوط لانہ مسجد الی عنان السماء
قولہ الی عنان السماء) بفتح العین، کذا الی تحت الثری کما فی البیری عن الاسبیجابی، بقی لو جعل الواقف تحتہ بیت للخلاء ھل یجوز یما مسجد محلۃ الدمشق؟ لم ارہ صریحا ، نعم سیاتی متنا فی کتاب الوقف انہ لو جعل تحتہ سردابا بالمصالحۃ جاز تامل۔
وفی تقریرات الرافعی(1/85):
(قولہ لم ارہ صریحا، نعم سیاتی متنا) الظاھر عدم الجواز وماسیاتی متنا لایفید الجواز لان بیت الخلاء لیس من مصالحہ، علی ان الظاھر عدم صحۃ جعلہ مسجد بجعل بیت الخلاء تحتہ کما یاتی انہ لو جعل السقایۃ اسفلہ لایکون مسجد فکذا بیت الخلاء لانھما لیسا من المصالح تامل، ثم رایت فی غایۃ البیان مایفید جوازہ کما یاتی نقل عبارتھا فی کتاب الوقف من احکام المسجد۔
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۱۷ربیع الثانی۱۴۴۵ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


