03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
امام سجدہ میں ہو تو مقتدی کے لیے جماعت میں شریک ہونے کا حکم
80413نماز کا بیانمسبوق اور لاحق کے احکام

سوال

جب جماعت کھڑی ہو چکی ہو تو ہمیں کب نماز میں شامل ہونا چاہیے؟ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ سجدہ کے بعد شامل ہونا چاہیے، براہ کرم راہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

امام جس حال میں بھی ملے یعنی قیام، رکوع، سجدہ تشہد میں تو اسی حالت میں امام کے ساتھ شامل ہوجانا چاہیے، اگر امام سجدے میں ہو تو سجدے میں ہی امام کے ساتھ شریک ہونا چاہیے، لوگوں کی بات درست نہی ہے۔

حوالہ جات

رد المحتار (3/ 381):

" فلو كبر قائما فركع ولم يقف صح لأن ما أتى به القيام إلى أن يبلغ الركوع يكفيه قنية ( في فرض ) وملحق به كنذر وسنة فجر في الأصح ( لقادر عليه ) وعلى السجود"

تحفة الأحوذي شرح جامع الترمذی(3/162):

"قوله: (إذا أتى أحدكم الصلاة والإمام على حال) أي من قيام أو ركوع أو سجود أو قعود (فليصنع كما يصنع الإمام) أي فليوافق الإمام فيما هو فيه من القيام أو الركوع أو غير ذلك أي فلاينتظر الإمام إلى القيام كما يفعله العوام."

احمد الر حمٰن

دار الافتاء، جامعۃ الرشید کراچی

27/ذوالقعدہ/1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

احمد الرحمن بن محمد مستمر خان

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب