| 80413 | نماز کا بیان | مسبوق اور لاحق کے احکام |
سوال
جب جماعت کھڑی ہو چکی ہو تو ہمیں کب نماز میں شامل ہونا چاہیے؟ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ سجدہ کے بعد شامل ہونا چاہیے، براہ کرم راہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
امام جس حال میں بھی ملے یعنی قیام، رکوع، سجدہ تشہد میں تو اسی حالت میں امام کے ساتھ شامل ہوجانا چاہیے، اگر امام سجدے میں ہو تو سجدے میں ہی امام کے ساتھ شریک ہونا چاہیے، لوگوں کی بات درست نہی ہے۔
حوالہ جات
رد المحتار (3/ 381):
" فلو كبر قائما فركع ولم يقف صح لأن ما أتى به القيام إلى أن يبلغ الركوع يكفيه قنية ( في فرض ) وملحق به كنذر وسنة فجر في الأصح ( لقادر عليه ) وعلى السجود"
تحفة الأحوذي شرح جامع الترمذی(3/162):
"قوله: (إذا أتى أحدكم الصلاة والإمام على حال) أي من قيام أو ركوع أو سجود أو قعود (فليصنع كما يصنع الإمام) أي فليوافق الإمام فيما هو فيه من القيام أو الركوع أو غير ذلك أي فلاينتظر الإمام إلى القيام كما يفعله العوام."
احمد الر حمٰن
دار الافتاء، جامعۃ الرشید کراچی
27/ذوالقعدہ/1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احمد الرحمن بن محمد مستمر خان | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


