| 81462 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
ڈراپ شپنگ کا طریقہ یہ ہے کہ میرے پاس چیز نہیں ہے، میں کسی ہول سیلر سے رابطہ کرتا ہوں اور اس کے پاس موجود چیز اپنی ویب سائٹ پر لگا دیتا ہوں، خریدار جب مجھ سے رابطہ کرتا ہےتو میں ہول سیلر سے وہ چیز خرید کر آگے خریدار تک پہنچا دیتا ہوں، اس میں راستے کا ضمان میرا ہوتا ہے، نیز میں خریدار سے یہ بھی کہتا ہوں کہ اگر آپ کو چیز پسند نہ آئے تو آپ واپس کر سکتے ہیں۔ البتہ اس میں میرا قبضہ نہیں ہوتا، کیونکہ قبضہ کرنے کی صورت میں اخرجات بڑھ جاتے ہیں، جس کی وجہ سے مجھے نقصان ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ صورت جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ڈراپ شپنگ (Drop Shipping)میں عام طور پر تاجر غیر مملوک اور غیر مقبوض مال کو فروخت کرتا ہے، کیونکہ اس میں تاجر عام طور پر پہلے کسٹمر کو چیز بیچتا ہے اوراس سے معاملہ حتمی کرنے کے بعدہول سیلر سے خریداری کا معاملہ کرکےکہتا ہے کہ آپ یہ مال فلاں جگہ روانہ کر دیں، ہول سیلر اتنامال خریدار کی طرف روانہ کر دیتا ہے، مطلب یہ کہ اس میں چیز خریدنے سے پہلے آگے بیچی جاتی ہے، جبکہ وہ اس چیز کا ابھی مالک نہیں ہوتا، نیز اس سے خریدنے کے بعد بھی قبضہ کیے بغیر آگے روانہ کرتا ہے اوراحادیثِ مبارکہ میں ان دونوں قسم(غیرمملوک اور غیر مقبوض) کی خریدفروخت سے منع فرمایا گیا ہے، اس لیے ایسی خریدفروخت شرعاً باطل اور ناجائز ہے۔ باقی صورتِ مسئولہ میں راستے کا ضمان لینے سے شرعی حکم پر کوئی اثر نہیں پڑتا، بلکہ ایسا معاملہ ناجائز اور فریقین کے ذمہ اس کو ختم کرنا لازم ہوتا ہے، لہذا غیر مملوک اور غیر مقبوض چیز کی خرید و فروخت ہونے کی وجہ سے ڈراپ شپنگ کے طریقہ پر کاروبار کرنا اور اس پر نفع حاصل كرنا جائز نہیں۔
ڈراپ شپنگ کی متبادل جائز صورتیں درج ذیل ہیں:
پہلی صورت : وعدہ بیع کا معاملہ کر لیا جائے، جس کی صورت یہ ہے کہ فروخت کنندہ کسٹمر کو صراحتا بتا دے کہ یہ چیز میرے پاس موجود نہیں ہے، میں کسی سے خرید کر آپ کو فروخت کروں گا۔ اس کے بعد فروخت کنندہ چیز خرید کر پہلے خود اس پر قبضہ کرے یا کسی شخص جیسے مال پہنچانے والی گاڑی کے ڈرائیور کو مال پر قبضہ کرنے کا وکیل بنادے، قبضہ کرنے کے بعد وہ مال خریدار تک پہنچا دیا جائے، خریدار کے پاس مال پہنچنے کے بعد تعاطيا(فروخت کنندہ کا قيمت پر اور خریدار کا چیز پر قبضہ کرنا) خرید وفروخت کا معاملہ مکمل ہو جائے گا۔لیکن اس میں بھی یہ بات یاد رہے کہ چیز خریدنے کے بعد قبضہ کر کے آگے بیچنا ضروری ہے، بغیر قبضہ کیے معاملہ درست نہ ہو گا۔
دوسری صورت: ڈراپ شپنگ (Drop Shipping) کے جواز کی دوسری صورت یہ ہے کہ درمیان والا شخص (جس کے پاس چیز کی خریداری کا آرڈر آیا ہے ) خریدار اور فروخت کنندہ کے درمیان کمیشن ایجنٹ بن جائے، مثلاً: اگر زید کے پاس آرڈر آتا ہے تو اس کو چاہیے کہ کمپنی (جس سے زید مال خرید کر کسٹمر کو فروخت کرنا چاہتا ہے) سے یہ طے کرے کہ میں آپ کے پاس گاہک لاؤں گا وہ جتنے کی خریداری کرے گا اس کا اتنے فیصدمیری اجرت ہوگی یا یوں بھی طے کر سکتا ہے کہ ایک کاٹن کی فروختگی پر اتنے روپے لوں گا وغیرہ۔
تیسری صورت: جواز کی تیسری صورت یہ ہے کہ تاجر جس ہول سیلر تاجر سے عام طور پر مال خرید کر کسٹمر کو بھیجتا ہو، اس کی دکان کے پاس جا کر پہلے اس سے مال خریدلےاور اس کے گودام یا دکان میں ایک مخصوص حصہ کرایہ پر لے کر اپنا مال وہاں رکھوا دے، اس کے بعد آرڈر موصول ہونے پر اس کو فون پر کہہ دے کہ میرے مال میں سے اتنا مال فلاں خریدار تک پہنچا دیا جائے تو یہ صورت بھی جائز ہو گی، کیونکہ یہاں تاجر ہول سیلر سے پہلے ہی سامان خرید چکا ہو گا اور اس صورت میں شرعی اعتبار سےتخلیہ (تخلیہ کا مطلب یہ ہے کہ فروخت کنندہ کا خریدار کو بغیر کسی مانع کے خریدی گئی چیز میں تصرف کا اختیار دینا) کی بناء پر قبضہ ہو جائے گا۔
حوالہ جات
المعجم الأوسط (2/ 154، رقم الحديث: 1554) دار الحرمين، القاهرة:
حدثنا أحمد قال: نا عبد القدوس بن محمد الحبحابي قال: نا عمرو بن عاصم الكلابي قال: نا همام بن يحيى، عن عاصم الأحول، وابن جريج، عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده قال: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن سلف وبيع، وعن شرطين في بيع، وعن بيع ما لم يقبض، وربح ما لم يضمن»
السنن الكبرى للبيهقي (5/ 554،رقم الحديث: 10856) دار الكتب العلمية، بيروت:
أخبرنا أبو عبد الله إسحاق بن محمد بن يوسف السوسي وأبو عبد الرحمن السلمي قالا: ثنا أبو العباس , أنا العباس بن الوليد بن مزيد , أخبرنا أبي , ثنا الأوزاعي , حدثني عمرو بن شعيب , عن أبيه , عن جده , أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أرسل عتاب بن أسيد إلى [ص:555] أهل مكة " أن أبلغهم عني أربع خصال أن لا يصلح شرطان في بيع , ولا بيع وسلف , ولا بيع ما لا يملك , ولا ربح ما لا يضمن "
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
25/ربیع الاول 1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


