03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شدیدذہنی دباؤ کے باعث طلاق نامہ پر دستخط شرعا معتبرنہیں۔
81794طلاق کے احکاممدہوشی اور جبر کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

سوال

اگر زبان سے طلاق نہ دی گئی ہو اور طلاق دینے والا طلاق دینے پر راضی نہ ہو اور جبری طور پر برادریوں کے فیصلے پر عملدرآمد کروانے کے لیے تین طلاقوں والے طلاق نامے پر دستخط کر وانے سے طلاق واقع ہو جائے گی؟ جبکہ جبر میں معاشرتی خاندانی معاشی اخلاقی اور بہت زیادہ ذہنی دباؤ کی مختلف صورتیں ہوں۔مفتی طارق مسعود صاحب کے ویڈیو بیانات اس بارے میں واضح ہیں کہ ایسی صورت میں تحریری کالعدم ہو گی۔براے مہربانی شرعی رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جبری لکھی ہوئی تحریرسےطلاق نہیں ہوتی،اس لیےمولانانےیہ مسئلہ صحیح بتایاہے،مگرجبرکےتحقق کےلیےشرعی طورپر کئی شرائط ہیں،مثلاایسامعاشرتی،معاشی یا جسمانی سزاسے متعلق دباؤ جس کے تحمل کی استطاعت نہ ہو یا اس کی وجہ سے عزت کو سنگین خدشات لاحق ہوں یا زندگی غیر معمولی مشکلات کی شکار ہوجاتی ہو،نیز اس قسم کا دباؤ ڈالنے والا اس کو نافذ کرنے پرقادربھی ہو تو ایسی صورت میں تحریری طلاق نہیں ہوتی، لہذا چونکہ ہر طرح کے ذہنی دباؤمیں اس قسم کی شرائط کا موجود ہونا ضروری نہیں، اس لیے ذہنی دباؤ سے بہرحال جبر ہونا بھی ضروری نہیں، اس لیے جب اس قسم کی کوئی صورت درپیش ہو تواز خود کوئی فیصلہ کرنے کے بجائے اس کی پوری تفصیل  لکھ کر یا بالمشافہہ کسی مستند مفتی یا دار الافتاء سےپوچھ کر اس کا حکم معلوم کرکے اس کے مطابق عمل کیا جائے۔

حوالہ جات

۔۔۔۔۔۔

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۲۸ربیع الثانی۱۴۴۴ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب